http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/06/02/feature-01
| رواداری

پاکستانی خاتون امن کے فروغ کے لیے کے پی میں موٹرسائیکل چلا رہی ہے

عدیل سید

گلِ افشاں طارق جو کہ ایک پاکستانی کھلاڑی اور سرگرم کارکن ہیں، تنہا موٹرسائیکل چلانے کے اپنے سفر کے پہلے مرحلہ میں، 9 مئی کو میرکھانی، چترال ڈسٹرکٹ، خیبرپختونخواہ (کے پی) پہنچنے پر انتہائی مسرت کا اظہار کر رہی ہیں۔ گلِ افشاں نے امن کا پیغام پھیلانے اور پاکستان کے زیادہ معتدل تصور کو فروغ دینے کے لیے کے پی کا سفر کیا ہے۔ ]بہ شکریہ امبریلا برینڈز آرگنائزیشن[

پشاور - پاکستانی کھلاڑی اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، گلِ افشاں طارق امن نے کے فروغ کے لیے منصوبہ کردہ ملک بھر کے سفر کے حصہ کے طور پر، 6 سے 24 مئی کے دوران خیبرپختونخواہ (کے پی) میں اپنی موٹرسائیکل پر سفر کیا۔

کے پی میں اپنے تنہا سفر کرنے کو مکمل کرنے پر، گلِ افشاں نے علاقے کے بارے میں "مذہبی بنیاد پرستوں کی زمین" کے طور پر موجود غلط تصور پر انتہائی حیرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ "ڈیرہ اسماعیل خان کے میدانوں سے لے کر چترال ڈسٹرکٹ کے ناہموار علاقوں تک، اپنے 19 روزہ سفر کے دوران مجھے کے پی کے لوگوں سے گرم جوش استقبال، بھرپور مہمان نوازی، محبت، عزت اور احترام ملا ہے"۔

گلِ افشاں طارق 6 سے 24 مئی تک کے پی کے موٹر سائیکل پر 19روزہ دورے کے دوران سوات ڈسٹرکٹ میں لڑکیوں سے ملاقات کر رہی ہیں۔ ]بہ شکریہ امبریلا برینڈز آرگنائزیشن[

ملک بھر کے سفر کے پہلے مرحلے کی تکیمل پر، انہوں نے 24 مئی کو پشاور پریس کلب میں پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں نے کے بی کے لوگوں کے بارے میں جو باتیں سن رکھی تھیں ان میں سے مجھے کچھ بھی نہیں ملا، جیسے کہ ان میں برداشت نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ایک باہر کا شخص ہونے اور سرگودھا ڈسٹرکٹ، پنجاب سے آنے کے باعث، میرا خیال تھا کہ کے پی کے لوگ، خصوصی طور پر مکمل نقاب کیے ہوئے عورتیں اور داڑھیاں رکھے اور ٹوپی پہنے ہوئے لوگ "دہشت گرد" ہیں"۔

گلِ افشاں نے کہا کہ اس خوف اور غلط تصورات کے باعث، ان کے خاندان نے تنہا کے پی کا سفر کرنے کے ان کے فیصلے کی مخالفت کی تھی اور بہت ہچکچاہٹ کے بعد ہی اس کی اجازت دی تھی۔

مگر یہ تجربہ آنکھیں کھول دینے والا رہا ہے۔

ایک نیا نکتہ نظر

گلِ افشاں نے کہا کہ "موٹرسائیکل کے میرے سفر نے مجھے مختلف علاقوں، ثقافتوں، زبانوں اور روایات سے ملنے کے قابل بنایا اور کے پی کے شہریوں کے نکتہ نگاہ اور رویوں کے بارے میں حقیقت جاننے میں مدد کی"۔

انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانی اور خصوصی طور پر جو کے پی میں رہتے ہیں چند برے عناصر کے غلط کاموں کے باعث، دہشت گردی اور بنیاد پرستی کا داغ لیے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی بہت امن پسند، برداشت کرنے والے اور احترام کرنے والے لوگ ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میرے سفر کا مقصد یہ ہی ہے: دنیا میں ہمارے ملک کے بارے میں پیدا کیے جانے والے تصور کا خاتمہ کرنا اور لوگوں کو یہ بتانا کہ پاکستانی انتہاپسند نہیں ہیں بلکہ بہت محبت کرنے والے اور احترام کرنے والے ہیں"۔

ریکارڈ توڑنا

امن کی سرگرم کارکن ہونے کے علاوہ، گلِ افشاں ایک کھلاڑی، کوہ پیما، ٹریکر اور ریکارڈ یافتہ پیراگلائڈر بھی ہیں۔ 2015 میں انہوں نے امن کے فروغ اور دنیا بھر میں پاکستان کے ایک زیادہ بے ضرر تصور کو پیش کرنے کی کوشش میں 5,000 میٹر کی بلندی پر، درہ خنجراب کا سائیکل سے سفر کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل پر پاکستان بھر کے ان کے سفر کا دوسرا مرحلہ بلوچستان سے شروع ہو گا۔ تاہم انہوں نے ہچکچاہٹ سے کہا کہ اس کا انحصار وفاقی حکومت کی طرف سے ملنے والی سپانسرشپ پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے کے پی کا سفر حکومتی سپانسرشپ کے بغیر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے گروپ امبریلا برینڈز نے ان کے اخراجات اٹھائے ہیں۔

پشاور پہنچنے پر گلِ افشاں کو پاکستان بک آف ریکارڈ (پی پی آر) کی طرف سے تصدیق ملی۔

پی بی آر کے بانی احمد حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پاکستان بک آف ریکارڈز کے پیچھے موجود خیال گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز سے لیا گیا ہے جو کہ ان لوگوں کو سرٹیفکیٹ دیتی ہے جنہوں نے ریکارڈ قائم کیا ہوتا ہے"۔

احمد جو کہ خود بھی مارشل آرٹس میں ریکارڈ یافتہ ہیں کہا کہ "پی بی آر کو شروع کرنے کا مقصد ایک مناسب پلیٹ فارم بنانا، صلاحیتوں کو تسلیم کرنا اور نوجوانوں کی مختلف میدانوں میں ریکارڈ قائم کرنے پر حوصلہ افزائی کرنا ہے خواہ ایسا چھوٹے پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے گلِ افشاں سے کہا کہ وہ کے پی کے مختلف علاقوں کے اپنے دورے کی ویڈیو ریکارڈنگ اور تصویریں جمع کروائیں، جس کے بعد ہم نے انہیں اس ریکارڈ کو قائم کرنے والی کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا"۔

انہوں نے کہا کہ "وہ اپنی ہمت پر تسلیم کیے جانے کی حق دار ہیں"۔

ایک "خاموش غیر معمولی" منظر

گلِ افشاں کے سپانسر، امبریلا برینڈز نے اس کے سفر کی دستاویز سازی کی ہے۔

امبریلا برینڈز کے چیف ایگزیکٹیو افسر ابرار احمد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے گلِ افشاں کے ساتھ ان کے سفر میں ساتھ دیا تاکہ ان کے سفر کی دستاویزی فلم بنا سکیں جو کہ ایک (نام نہیں بتایا گیا) بین الاقوامی نیوز چینل پر نشر ہو گی تاکہ پاکستان کے معتدل تصور کو فروغ دیا جا سکے"۔

خان نے امید کا اظہار کیا کہ گلِ افشاں کے پی کے سفر کے بارے میں دستاویزی فلم غیر ملکی مسافروں خصوصی طور پر مہم جو افراد کی حوصلہ افزائی کرے گی کہ وہ علاقے کا سفر کریں۔

ڈسٹرکٹ کے جنگلی حیات کے افسر سجیل بلوچ نے کہا کہ "پروا، ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک خاتون کو موٹر سائیکل چلاتے ہوئے دیکھنا کافی غیر معمولی تھا"۔

سجیل نے کہا کہ ان کے بھائی، امتیاز بلوچ جو کہ پروا تحصیل کے ناظم ہیں، کو جب گلِ افشاں کے امن کے لیے اس قدم کا پتہ چلا تو وہ بہت شکرگزار ہوئے۔

سجیل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے پروا میں ان کے قیام کے دوران پرجوش مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا اور مقامی لوگوں سے ان کی ملاقات کا انتظام کیا تاکہ وہ ان سے بات چیت کر سکیں اور امن سے محبت کرنے والے ان لوگوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha