|

رمضان

دورانِ رمضان پاکستانی مذہبی رہنماؤں کی جانب سے فرقوں کے مابین رواداری کا فروغ

ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مہینے میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

ضیاء الرّحمٰن


17 جون 2016 کو رمضان کے ماہِ مقدس کے دوران اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ایک پاکستانی رضاکار روزہ کشائی کی تیاری کرنے والے عبادت گزاروں کو افطار کا کھانا پیش کر رہا ہے۔ ]ْعامر قریشی/اے ایف پی[

17 جون 2016 کو رمضان کے ماہِ مقدس کے دوران اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ایک پاکستانی رضاکار روزہ کشائی کی تیاری کرنے والے عبادت گزاروں کو افطار کا کھانا پیش کر رہا ہے۔ ]ْعامر قریشی/اے ایف پی[

کراچی – پاکستان میں رمضان نہ صرف مسلمانوں کے لیے روحانی اور دینی اہمیت کا مہینہ ہے بلکہ یہ خاندان اور دوستوں کو اکٹھا کرنے اور فرقوں کے مابین رواداری کو فروغ دینے کا بھی وقت ہے۔

بین المذاہب اور فرقوں کے مابین رواداری کو فروغ دینے اور نفرت اور عدم برداشت کو کم کرنے کے لیے، مسلمان اور غیر مسلم، دونوں برادریوں نے افطار کی ایسی تقاریب منعقد کیں جن میں متعدد اعتقادات کے لوگ مل کر کھانا کھا سکتے ہیں۔

بین الاعتقاد کمیشن برائے امن و رواداری (آئی سی پی ایچ) کے سربراہ، کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک عالمِ دین حضرت علّامہ محمّداحسن صدّیقی ہر سال ایسی تقاریب کا انتظام کرتے ہیں۔

گزشتہ برس دورانِ رمضان آئی سی پی ایچ نے کراچی کے سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل میں ایک افطار کا انتظام کیا تھا، جس میں مختلف مذاہب اور فرقوں کے متعدد رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

صدّیق نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”بین المذاہب رواداری پر کام کرنے والے فعالیت پسندوں کے لیے رمضان ایک مثالی مہینہ ہے۔“

رواں برس وہ رمضان کے درمیان ایک افطار کا انتظام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ایسے افطار کا مقصد مذہبی رہنماؤں کو ایک ہی میز پر اکٹھا کرنا ہے، جہاں وہ ۔۔۔ بین المذاہب اور درونِ مذہب نتازعات کو بات چیت کے ذریعے ختم کر سکتے ہیں۔“

بین المذاہب رواداری کا فروغ

مسلمانوں کے ماہِ مقدّس کے دوران بین المذاہب رواداری کے فروغ کی متعدد کاوشیں کی گئیں۔

چند غیر مسلم افراد اپنے مسلمان دوستوں کے لیے افطار کی میزبانی کرتے ہیں، جبکہ متعدد مسلمان اظہارِ یکجہتی کے لیے اپنے غیر مسلم ہمسایوں کو پھل اور دیگر کھانے بھجواتے ہیں۔

پاکستا ن سکھ کاؤنسل کے سرپرستِ اعلیٰ سردار رمیش سنگھ، جو پاکستانی سکھ برادری کی نمائندگی کرتے ہیں، باقاعدگی سے افطار کی تقاریب منعقد کرتے ہیں۔

سنگھ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”اس سے ہمیں ایک دوسرے کے اعتقادات سیکھنے اور اپنے اپنے مذہب میں روزے کے موضوع کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔“

مثال کے طور پر رمضان کے دوران روزے رکھنا اسلام کا ستون ہے، جبکہ سکھ مذہب ایک مذہبی عمل کے طور پر روزہ رکھنے کو مسترد کرتا ہے۔

سنگھ نے کہا ، تاہم پاکستان میں غیر مسلموں کی اکثریت اسلام کے احترام میں دورانِ رمضان اپنے گھروں سے باہر کھانے پینے سے گریز کرتی ہے۔

سڑک کنارے افطار کے سٹال

رمضان کے دوران پھلوں، سبزیوں اور دیگرضروریاتِ زندگی کی طلب سے ساتھ ساتھ قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

غریب پاکستانیوں اور ایسے افراد پر بوجھ کم کرنے کے لیے جو افطار کے لیے اپنے کام سے بروقت گھروں کو نہیں پہنچ پاتے، فلاحی تنظیمیں، انجمن ہائے تاجران اور افراد مفت کھانا پیش کرنے والے ہزاروں افطار سٹال پیش کرتے ہیں۔

رمضان کے دوران بڑی سڑکوں کے ساتھ ساتھ بسوں اور کاروں میں ایسے مسافروں میں افظار باکس تقسیم کرنے والے متعدد رضاکار دیکھے جا سکتے ہیں جنہیں دورانِ سفر روزہ افطار کرنا ہوتا ہے۔

کراچی کے علاقہ گرومندر میں ایک ممتاز تاجر سیّد شکیب تین دہائیوں سے ہر برس افطار کی تقاریب منعقد کر رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”کراچی میں رمضان کے پورے مہینے کے دوران سڑک کنارے افطار کا انعقاد— جس میں ضرورت مندوں اور مسافروں کو کھانے پینے کی اشیاء پیش کی جاتی ہیں— ایک روایت بن چکا ہے۔“

رمضان میں سفّاکیاں

گزشتہ برسوں کے دوران ”دولتِ اسلامیہ“ (داعش) اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے رمضان کے دوران اپنی تخریبی کاروائیوں میں اضافہ کر دیا تھا۔

دی انڈیپنڈنٹ نے 13 جولائی کو خبر دی کہ گزشتہ برس داعش نے اپنے رسالے النباء میں فخر سے رمضان کے دوران متعدد ممالک میں 14 دہشتگرد حملوں میں 5,200 سے زائد افراد کو زخمی یا قتل کرنے کا دعویٰ کیا۔

اس جریدے میں متاثرین کی زمرہ بندی کی گئی، جن میں دیگر کے ساتھ تقریباً 2,000 شعیہ، 1,000 کرد، 600 شامی حوثی اور 300 مسیحی شامل ہیں۔

پاکستانی علماء رمضان کی رسوم اور اجتماعات کے دوران موقع سے استفادہ کرتے ہوئے عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے سفاکیوں اور معصوم شہریوں کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔

علمائے دین کی نمائندگی کرنے والی ملک گیر انجمن پاکستان علماء کاونسل (پی یو سی) نے 11 مئی 2016 کو آئی ایس آئی ایس کی مذمت میں ایک فتویٰ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ یہ گروہ اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

پی یو سی کے چیئرمین مولانا طاہرمحمود اشرفی نے کہا کہ دہشتگرد گروہوں کا اسلام سے کچھ واسطہ نہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”عسکریت پسند گروہ داعش دورانِ رمضان اپنی دہشتگردانہ کاروائیوں میں – مسلم اور غیر مسلم، ہر دو— معصوم شہریوں کو قتل کرتے ہیں۔ دراصل یہ اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا مسلمان آئی ایس آئی کے ہاتھوں معصوم افراد کے قتل اور ان کی املاک کی تباہی کی حمایت نہیں کر سکتے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج