|

سلامتی

افغانستان، پاکستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائی میں اضافے کے نتائج حاصل ہو رہے ہیں

سیکورٹی کریک ڈاون سے عسکریت پسندوں کے لیے پاکستان- افغانستان سرحد کے دونوں طرف پناہ گاہوں کی موجودگی کوئی کا امکان نہیں رہا ہے۔

جاوید محمود


گرفتار کیے جانے والے پاکستانی طالبان جنگجو اور ان کے ہتھیار 5 جنوری 2016 کو کابل میں ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ]وکیل کوہسار/ اے ایف پی[

گرفتار کیے جانے والے پاکستانی طالبان جنگجو اور ان کے ہتھیار 5 جنوری 2016 کو کابل میں ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ]وکیل کوہسار/ اے ایف پی[

اسلام آباد - سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی 2016 کی سالانہ سیکورٹی رپورٹ کے مطابق، پاکستان اور افغانستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں میں اضافے کے نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی عسکریت پسند جو کہ سرحد پار افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں کو اب وہاں پناہ گاہیں نہیں مل رہی ہیں۔

اسلام آباد کے سیکورٹی تھنک ٹینک نے خبر دی ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران، افغانستان میں 149 پاکستانی عسکریت پسند، 2016 میں 111 اور 2015 میں 38 ہلاک ہوئے۔

سی آر ایس ایس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امتیاز گل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "افغانستان میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر عسکریت پسندوں کا تعلق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا اور انہوں نے افغانستان میں پناہ حاصل کر رکھی تھی"۔

انہوں نے کہا کہ لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) سے تعلق رکھنے والے کچھ عسکریت پسند جو کہ شوال، جنوبی وزیرستان سے آپریشن ضربِ عضب کے دوران فرار ہو گئے تھے، افغانستان میں یا تو اتحادی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں یا انہیں پاکستانی یا افغانی سیکورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی اور ایل ای جے کے عسکریت پسندوں اور کمانڈروں کی افغانستان میں ہلاکت سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی کالعدم عسکری تنظیموں کے عناصر نے جگہ تبدیل کر لی ہے۔

عسکریت پسندوں کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں

گل نے کہا کہ پاکستانی فوج کے آپریشن ضربِ عضب سے پہلے، ان عناصر نے شمالی وزیرستان میں پناہ گاہیں بنا لی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ "تاہم، جب جون 2014 میں آپریشن ضربِ عضب کا آغاز ہوا تو دہشت گرد گروہوں اور ان کے ارکان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ افغان سرحدی علاقوں میں پناہ حاصل کریں"۔

گل کے مطابق، علاوہ ازیں 2015 میں ٹی ٹی پی اور ایل ای جے کے عناصر نے افغانستان میں "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کے ساتھ بیعت کا اعلان کر دیا تھا اور پاکستان اور افغانستان دونوں میں ہی کام کرنا شروع کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "گزشتہ دو سالوں کے دوران پاکستان اور افغانستان میں عسکریت پسندوں کی ہلاکت نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک، بنیادی ڈھانچے اور عسکری حملے کرنے کی صلاحیت کو سنگین نقصان پہنچایا ہے"۔

سی آر ایس ایس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں، سیکورٹی افواج نے گزشتہ دو سالوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں 3,038 پاکستانی عسکریت پسندوں، 2015 میں 2,233 اور 2016 میں 805 کو ہلاک کیا۔

اس کے علاوہ، 2016 میں 25 غیر ملکی عسکریت پسندوں، مجرموں اور جاسوسوں کو پاکستان میں ہلاک کیا گیا۔

مشترکہ دشمن سے جنگ

وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے سابقہ سیکورٹی سیکریٹری برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ، جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پاکستان اور افغانستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کے اقدامات نے دونوں ممالک میں عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "جس طرح دونوں ممالک کی سیکورٹی افواج اپنے مشترکہ دشمن، عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک جیسے ہی خیالات رکھتے ہیں"۔

شاہ نے کہا کہ فضائی حملوں اور سرحدی علاقوں میں پاکستانی فوج کے آپریشنز سے دہشت گردوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور افغانستان اپنے انٹیلیجنس کے تعاون کو بڑھا رہے ہیں اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے طالبان اور داعش کے خلاف اقدامات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب اور نئے عسکری آپریشن ردالفساد نے عسکریت پسندوں کی طاقت اور دہشت گردانہ حملے کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا ہے۔

عسکریت پسندوں نے اسلام کو مسخ، نوجوانوں کو گمراہ کیا

شاہ نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے گروہوں کو ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب ٹی ٹی پی کے سابقہ ترجمان لیاقت علی المعرف احسان اللہ احسان نے پاکستانی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

چھیبس اپریل کو جاری ہونے والی اپنی کانفرنس ویڈیو میں اس نے کہا کہ عسکریت پسند مذہب کا غلط استعمال کرتے ہوئے اسے بے گناہ لوگوں کو ہلاک کرنے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

احسان نے ان عسکریت پسند کمانڈروں سے نفرت کا اظہار کیا جنہوں نے اسلام کو مسخ کیا اور نوجوانوں کو پروپیگنڈا کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ "نام نہاد "جہادیوں" نے اسلام کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا ہے خصوصی طور پر نوجوانوں کو۔ وہ کبھی بھی اسلام یا اس کی اصل روح کے مطابق یا اس معیار کے مطابق نہیں چلتے ہیں جس کا وہ دوسروں سے مطالبہ کرتے ہیں"۔

شاہ نے کہا کہ احسان کے بیان اور اس کی طرف سے عسکریت پسندوں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا جانا "افغانستان اور پاکستان میں عسکریت پسندی کی حوصلہ شکنی میں ایک اہم پیش رفت ہے"۔

انتہاپسندی کے خلاف متحد

تعلیمی این جی او نظریہ پاکستان کی اسلام آباد شاخ کے چیرمین مرتضی مغل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کراچی اور ملک کے دوسرے حصوں میں فوجی آپریشنز اور انٹیلیجنس کی بنیاد پر ٹارگٹڈ آپریشنز 2015 کے بعد سے عسکریت پسندی کے گراف کو اس کی کم ترین سطح تک لے آئے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "طالبان اور دوسرے عسکریت پسند گروہ عوام کو مذہب کے نام پر زیادہ دیر کے لیے بے وقوف نہیں بنا سکتے اور پاکستانیوں کی اکثریت نے انتہاپسندی اور عسکریت پسندی سے قطع تعلق کر لیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "پورے ملک کا ایمان ہے کہ اسلام، جو دنیا بھر میں برداشت اور امن کی وکالت کرنے والا مذہب ہے، میں خون خرابے کی کوئی گنجائش نہیں ہے"۔

مغل نے پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی طرف سے دی جانے والے قربانیوں کو سراہا جنہوں نے عسکریت پسندوں کو بہت سے محاذوں پر شکست دے کر ملک میں امن اور استحکام کو بحال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد نے پاکستان بھر میں طالبان کی طاقت اور خوف کو ختم کیا ہے اور اب عسکریت پسند ملک میں کسی پناہ گاہ کو ڈھونڈنے میں ناکام ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج