|

سلامتی

القاعدہ کے 'اعلیٰ قدر ' کے کمانڈروں کے خلاف پاکستان کا کریک ڈاؤن

سیکورٹی فورسز نے مارچ میں متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک یا گرفتار کیا، جبکہ سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے دہشتگرد حملوں میں ایک کمی ریکارڈ کی۔

جاوید محمود


3 مارچ کو خیبر ایجنسی میں  آپریشن ردّالفساد کے دوران  عسکریت پسند ملزمان اور ان کا ضبط شدہ اسلحہ میڈیا کو دکھایا جا رہا ہے۔ ]عبدالمجید/اے ایف پی[

3 مارچ کو خیبر ایجنسی میں آپریشن ردّالفساد کے دوران عسکریت پسند ملزمان اور ان کا ضبط شدہ اسلحہ میڈیا کو دکھایا جا رہا ہے۔ ]عبدالمجید/اے ایف پی[

اسلام آباد – حالیہ ہفتوں میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے مارچ میں القاعدہ اور ”دولتِ اسلامیۂ عراق و شام“ (آئی ایس آئی ایل) کے متعدد کمانڈروں کو گرفتاریا ہلاک کر تے ہوئے انسدادِ دہشتگردی آپریشنز کو تیز تر کر دیا ہے۔

اسلام آباد اساسی پاکستان ادارہ برائے علومِ تنازعات و سلامتی (پی آئی سی ایس ایس) کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”سیکیورٹی فورسز نے مارچ میں مختلف دہشتگرد گروہوں سے تعلق رکھنے والے 85 عسکریت پسندوں کو قتل کیا اور 158 دہشتگرد ملزمان کو گرفتار کیا۔“

پی آئی سی ایس ایس کے ریسرچ ڈائریکٹر گل داد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”رواں برس مارچ میں سیکیورٹی اہلکاروں نے کراچی میں ایک اعلیٰ قدر کے ہدف، آئی ایس آئی ایل کمانڈر کامران اسلم کو ہلاک کیا، گجرات میں القاعدہ کے پانچ عناصر مارے گئے، جبکہ بہاولپور میں آئی ایس آئی ایل کے تین ارکان گرفتار ہوئے۔“

انہوں نے کہا، ”30 مارچ کو گجرات میں مارے جانے والے پانچ القاعدہ ارکان اور 31 مارچ کو بہاولپور میں ہلاک کیے جانے والے تین آئی ایس آئی ایل کارکنان کے نام سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پوشیدہ رکھے گئے ہیں، ]جبکہ[ تفتیش جاری ہے۔“

کراچی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس مشتاق مہر نے 18 مارچ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور کرمنل انوسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اہلکاروں نے اسی روزکراچی میں آئی ایس آئی ایل کمانڈر کامران اسلم گجر کو ہلاک کیا۔

مہر نے کہا کہ اسلم گجر ”آئی ایس آئی ایل“ تربیت یافتہ کمانڈر تھا جو ماضی میں القاعدہ سے منسلک رہا اور کراچی میں قتل کی 38 وارداتوں میں ملوث تھا۔

ڈان کے مطابق، اسلم گجر کے سر پر 2.5 ملین روپے (24,000 ڈالر) کا انعام تھا۔

18 مارچ کو ہی افغانستان میں چھپے متعدد تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) رہنما امریکی فضائی حملہ میں مارے گئے۔

ٹی ٹی پی نے سوشل میڈیا پر ٹی ٹی پی کمانڈر وں یوسف وزیر، تاج علی خان ، عبدالحق اور فضلِ حق کی موت کی تصدیق کی ہے۔

عسکریت پسندانہ حملوں میں ہونے والی اموات میں کمی

پی آئی سی ایس ایس کی ماہانہ سیکیورٹی اسیسمنٹ رپورٹ کے مطابق، مارچ میں عسکریت پسند حملوں اور سیکیورٹی فورسز کی کاروائیوں سمیت پر تشدد واقعات میں گزشتہ ماہ کی نسبت معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ فروری کے 114 کے مقابلہ میں مارچ میں ہونے والے کل 107 پر تشدد واقعات میں 141 افراد ہلاک ہوئے – 85 عسکریت پسند، 32 سولین اور24 سیکیورٹی فورس اہلکار۔ 141 کی تعداد کا موازنہ فروری میں ہونے والی 288 یکساں اموات سے ہے۔

مارچ میں صرف عسکریت پسند حملوں سے ہونے والی اموات میں بھی کمی واقع ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا، ”گزشتہ ماہ اموات اور زخمی ہونے کے واقعات میں اچانک اضافہ دیکھے جانے کے بعدمارچ میں زخمی ہونے کے واقعات اور اموات مقابلتاً کم دیکھے گئے اگرچہ حملوں کی تعداد۔۔۔ بالکل اتنی ہی تھی۔“

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ 40 عسکریت پسند حملوں میں 32 شہریوں، 17 سیکیورٹی فورس اہلکاروں اور 25 عسکریت پسندوں سمیت 74 افراد ہلاک ہوئے۔

فروری میں عسکریت پسندانہ حملوں میں 163 اموات ہوئیں۔ لہٰذا عسکریت پسندوں کی مسلط کردہ اموات میں کمی کی ماہانہ شرح 55 فیصد تھی۔

عسکریت پسندی کے لئے کوئی رعایت نہیں

وزارت داخلہ کے ایک ترجمان سرفراز حسین نے بتایا، حکومت اور سیکورٹی ادارے ملک کے کسی بھی حصے میں عسکریت پسندی سے کوئی رعایت نہیں برت رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سندھ خصوصاً کراچی میں سیکورٹی افسران خاص طور پر رینجرز، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تعاون سے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر عسکریت پسندوں کے خلاف جارحانہ طور سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔"

حسین نے بتایا، ستمبر 2013 کے بعد سے کراچی میں ٹارگٹیٹڈ سیکورٹی آپریشن، جب رینجرز نے شہر میں جرائم اور دہشت گردی کے خلاف ایک وسیع کریک ڈاؤن کا آغاز کیا، سندھ اور ملک کے دیگر حصوں میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی شدت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا، "سیکورٹی افسران انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کے سدّباب کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔"

سیکورٹی تجزیہ کار اور کراچی میں روزنامہ پاکستان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر مبّشر میر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سندھ اور صوبہ پنجاب میں رینجرز کو عسکریت پسند گروہوں کے خلاف بے رحمانہ کارروائیوں کے لئے کھلی چھوٹ ملنی چاہیئے۔"

انہوں نے بتایا، آئی ایس آئی ایل اور اس کی اتحادی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان اور پاکستان، دونوں ملکوں میں دہشت گرد حملے کرنے کے لئے افغانستان میں اکٹھی ہورہی ہیں اور سیکورٹی فورسز کو انھیں ان کے راستے میں روکنے کے لئے اختیار کی ضرورت ہے۔

میر نے بتایا،ننگر ہار، افغانستان میں آئی ایس آئی ایل کے ٹھکانوں پر یو ایس کا گرایا جانے والا وزنی بم، "عسکریت پسندی کی حوصلہ شکنی کے لئے ایک اچھی علامت ہے، اور پاکستانی حکومت اور سیکورٹی فورسز کو بھی بدنام دہشت گردوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنا چاہیئے۔"

انہوں نے بتایا، "آئی ایس آئی ایل، ٹی ٹی پی اور ان کے اتحادی گروہ پارہ چنار، پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، جو عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ پکتیکا، افغانستان، کے قریب واقع ہے۔"

میر نے باڑ لگانے، نگرانی اور کڑے سرحدی انتظام کے لئے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

انہوں نے بتایا، "باقاعدہ سرحدی انتظام،[...] ملک میں عسکریت پسندی اور دہشت گرد حملوں میں مزید کمی لائے گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج