|

دہشتگردی

پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کی ہمدردیاں خریدنے کی داعش کی حکمتِ عملی کا تدارک

سیکیورٹی عہدیداران کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی ایل خطے میں قدم جمانے کی ایک کوشش میں عسکریت پسندوں کو دسیوں لاکھوں روپے کی پیشکش کر رہی ہے۔

جاوید محمود


کوئٹہ سے 750 کلومیٹر جنوب میں صوفی بزرگ شاہ نورانی کے مزار پر خودکش حملے کے ایک روز بعد، 13 نومبر کو پاکستانی رینجرز مزار کی حفاظت پر معمور ہیں۔ 52 اموات کا باعث بننے والے اس حملے کی ذمہ داری آئی ایس آئی ایل نے قبول کی۔ [آصف حسن/اے ایف پی]

کوئٹہ سے 750 کلومیٹر جنوب میں صوفی بزرگ شاہ نورانی کے مزار پر خودکش حملے کے ایک روز بعد، 13 نومبر کو پاکستانی رینجرز مزار کی حفاظت پر معمور ہیں۔ 52 اموات کا باعث بننے والے اس حملے کی ذمہ داری آئی ایس آئی ایل نے قبول کی۔ [آصف حسن/اے ایف پی]

اسلام آباد — سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ”دولتِ اسلامیۂ عراق و شام“ (آئی ایس آئی ایل) کی جانب سے کلیدی دہشتگرد رہنماؤں اور ملک میں شدت پسندی اور عسکریت پسندی کو فروغ دینے والے عناصر کو مالیات فراہم کیے جانے کی کوششوں کو ناکام بنا رہا ہے۔

ایک سینیئر سیکیورٹی عہدیدار نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”آئی ایس آئی ایل اپنا خونریزی کا ایجنڈا نافذ کرنے اور خطے میں قدم جمانے کی کوشش میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کو دسیوں لاکھوں روپے کی پیشکش کر رہا ہے۔“

ایک عہدیدار نے اپنی شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ افغانستان میں آئی ایس آئی ایل رہنما کالعدم پاکستانی عسکریت پسند تنظیموں کے رہنماؤں تک رسائی حاصل کر کے ان کی حمایت حاصل کرنے کے عوض انہیں زرِ کثیر کی پشکش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس امر سے واقف، سیکیورٹی اداروں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے اور پاکستان میں قدم جمانے کے آئی ایس آئی ایل کے ارادوں کی سرکوبی کے لیے اپنی نگرانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، ”رواں برس پاکستان میں سیکیورٹی ایجنسیوں نے آئی ایس آئی ایل سے ملحقہ درجنوں عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے تفتیش کنندگان کے سامنے پاکستان میں عسکریت پسندوں کے آئی ایس آئی ایل ۔۔۔ کے عالمی نیٹ ورک میں شامل ہونے کے لیے مالیات کی پیشکش کرنے کی آئی ایس آئی ایل کی حکمتِ عملی کا اعتراف کیا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ آئی ایس آئی ایل پاکستان میں ایک نیٹ ورک قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو، تمام سیکیورٹی ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں باہمی تعاون کر رہی ہیں اور معلومات کا تبادلہ کر رہی ہیں۔

پاکستان کو آئی ایس آئی ایل کو مسدود کرنا ہو گا

پشاور سے تعلق رکھنے والے سینیئر سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم نے ٹی ٹی پی سمیت پاکستان اور افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کو آئی ایس آئی ایل کی جانب سے فراہمیٔ مالیات کی پیشکشوں کے بارے میں سنا ہے۔“

شاہ نے کہا کہ پاک فوج کے آپریشن ضربِ عضب اور کراچی اور ملک کے دیگر حصّوں میں ٹارگٹڈ آپریشنز کے بعد مالی مشکلات کا سامنا ہونے کے بعد ازبک عسکریت پسندوں اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹی پی کے چند رہنماؤں نے پہلے ہی پیسے کے بدلے آئی ایس آئی ایل کی فرمانبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔ فوج نے جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں ضربِ عضب کا آغاز کیا۔ یہ جارحانہ کاروائی آج تک جاری ہے۔

شاہ نے کہا کہ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نگرانی اور عسکریت پسندوں کے گڑھوں، انفراسٹرکچر اور نیٹ ورکس کا خاتمہ کردینے والی جارحانہ عسکری کاروائی کی وجہ سے ابھی تک آئی ایس آئی ایل پاکستان میں اپنی موجودگی قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

اسلام آباد اساسی تھنک ٹٰینک سنٹر برائے تحقیق و علومِ سلامتی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر امتیاز گل نے کہا، ”آئی ایس آئی ایل کو اپنے ایجنڈا کے نفاذ کی غرض سے اپنی افرادی قوت اور نیٹ ورک کی تشکیل کے لیے پاکستان میں اسی ذہنیت کے عسکریت پسند دستیاب ہو سکتے ہیں۔“

گل نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”پاکستان اور افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کے خلاف آپریشنز کے بعد وہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے ہیں، اور وہ ہر ممکن ذریعہ سے مالی معاونت کے نئے طریقوں کی تلاش میں ہوں گے۔“

انہوں نے سیکیورٹی فورسز پر طالبان جیسے دیگر عسکریت پسند گروہوں کی طرح سے مقامی عسکریت پسندوں کو بھی آئی ایس آئی ایل کی جانب سے فراہمیٔ مالیات کے امکان کو مسدود کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو پاکستان میں آئی ایس آئی ایل بھرتیوں کی انسداد کے لیے اپنے کام میں اضافہ کرنا ہو گا۔

پاکستان میں مطلوب ترین دہشتگردوں کی گرفتاریاں

انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ڈائریکٹرجنرل آفتاب سلطان نے 19 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سلامتی کو بتایا کہ پاکستان کے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) نے گزشتہ تین برس کے دوران 865 مطلوب ترین دہشتگردوں کو گرفتار کیا اور متعدد آپریشنز میں 171 کو ہلاک کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئی بی دہشتگردی کے خلاف لڑائی کے لیے پاکستان میں اپنے نیٹ ورک اور افرادی قوت کو پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

فروری میں سلطان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلی امور کو بتایا کہ سینکڑوں پاکستانی آئی ایس آئی ایل میں شمولیت اختیار کرنے کی غرض سے پاکستان سے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس وقت مزید کہا کہ لشکرِ جھنگوی اور سپاہِ صحابہ آئی ایس آئی ایل کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہیں اور وہ اس عالمی دہشتگرد گروہ میں شامل ہو سکتی ہیں۔

سلطان نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ مقامی اور عالمی دہشتگردی کے خلاف لڑنے کے لیے آئی بی تمام صوبوں میں تمام سیکیورٹی اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

آئی بی پاکستان کی سولین انٹیلی جنس ایجنسی ہے۔ عسکری قیادت کی انٹیلی جنس ایجنسیاں انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری اینٹیلی جنس (ایم آئی) ہیں۔

پرتشدد انتہاپسندی کی بھاری قیمت

دفاعی تجزیہ کار اور ڈیلی پاکستان کراچی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر مبشر میر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سیکورٹی حکام کو کالعدم عسکریت پسند گروہوں کے رہنماؤں اور عناصر خصوصاً لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ پاکستان اور آئی ایس آئی ایل سے ہمدردی رکھنے والے دیگر گروہوں پر کریک ڈاؤن میں تیزی لانی چاہیئے۔"

میر کے پاس سیکورٹی فورسز کے لئے کئی تجاویز تھیں۔

میر نے بتایا، وہ پاکستان میں کرائے کے عسکریت پسندوں کو گرفتار کرسکتے ہیں، اور آئی ایس آئی ایل کے ساتھ وفاداری یا ہمدردی رکھنے والے تمام عسکریت پسندوں، کی گرفتاری کے لئے ملک گیر مہم کا آغاز کرنا چاہیئے۔

میر نے بتایا، اسٹیٹ بنک آف پاکستان (ایس بی پی) اور کمرشل بنکوں کو ان افراد کے اکاؤنٹس معطل کردینے چاہیئیں جن کا تعلق عسکریت پسند تنظیموں سے ہے۔

انہوں نے بتایا، اکتوبر کے اواخر میں ایس بی پی نے انسداد دہشت گردی ایکٹ (1997) کے فورتھ شیڈول میں شامل 4,000 سے زائد مشتبہ افراد کے اکاؤنٹس معطل کردیے۔ فہرست نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی جانب سے فراہم کی گئی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اکاؤنٹس کی اصل مالیت 350 ملین روپیہ (3.3 ملین ڈالر) ہے۔

ایس بی پی نے 17 نومبر کو جاری کی گئی اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پرتشدد انتہاپسندی کی وجہ سے پاکستان کو 2002 سے 2016 کے درمیان 118.3 بلین ڈالر (12.4 ٹریلین روپیہ) کا براہ راست یا بالواسطہ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

بنک نے اپنی رپورٹ میں بتایا، "اقتصادی نمو اور سماجی شعبہ کی ترقی دہشت گردی کے واقعات سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 7

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Ali Asghar | 11-24-2016

مجھے پاک فوج سے پیار ہے \nپاک فوج زندہ باد

جواب

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج