|

حقوقِ نسواں

فاٹا میں قبائلی خواتین سیاسی، سماجی حقوق کی متلاشی

25 سے زائد قبائلی خواتین کا ایک گروپ، قبائلی خور فورم، سیاسی عمل میں خواتین کی شرکت کے لیے وکالت کر رہا ہے۔

از محمد عاحل


قبائلی خواتین کے حقوق کی وکالت کے لیے بنائی گئی ایک نئی این جی او، قبائلی خور کی صدر نوشین جمال اورکزئی (سیاہ لباس میں)، 7 مارچ کو پشاور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، [محمد عاحل]

قبائلی خواتین کے حقوق کی وکالت کے لیے بنائی گئی ایک نئی این جی او، قبائلی خور کی صدر نوشین جمال اورکزئی (سیاہ لباس میں)، 7 مارچ کو پشاور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، [محمد عاحل]

پشاور -- وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کی خواتین ایک نئی این جی او جو کہ ان کے سیاسی اور سماجی حقوق میں پیش رفت کے لیے وقف ہے، کے ذریعے اپنے لیے وکالت کر رہی ہیں۔

قبائلی خور "قبائلی بہنیں" فورم برسوں سے جنگ اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والی قبائلی خواتین کے حقوق کے لیے کوشاں ہے اور اس کا مقصد انہیں فاٹا میں فیصلہ سازی میں شرکت کے قابل بنانا ہے۔

قبائلی خور ساتوں قبائلی ایجنسیوں اور سرحدی علاقوں سے تعلق رکھنے والی 25 سے زائد قبائلی خواتین پر مشتمل ہے۔

رضاکار ارکان نے قبائلی خواتین کو ان کے آئینی حقوق اور مذہب، ثقافت اور معاشرے سے متعلقہ امور کے بارے میں تعلیم دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

خواتین کو بااختیار بنانا

قبائلی خور کی صدر نوشین جمال اورکزئی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ سب سے بڑا ہدف قبائلی خواتین کو سیاسی طور پر بااختیار بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کی بحالی، دہشت گردوں کی جانب سے مذہب کے غلط استعمال کے بارے میں ان میں شعور اجاگر کرنے اور آگاہی اور صلاحیت میں اضافے کے ذریعے قبائلی نظام اور جرگوں میں خواتین کو حقیقی نمائندگی مہیا کرنے کی کوششوں کے طریقے بھی تلاش کرے گی۔

اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والی ایک سماجی کارکن اور انسانی حقوق کی کارکن اورکزئی نے کہا، "ہم تین انتہائی اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں: قبائلی خواتین کو تعلیم سے آراستہ کرنا، ان کے آئینی حقوق کے بارے میں ان میں شعور اجاگر کرنا، اور اسلام میں عطا کردہ حقوقِ وراثت [کی انہیں تعلیم دینا]۔"

ان کے قانونی حقوق حاصل کرنے کے لیے، تنظیم دہشت گردی سے متاثرہ خواتین کے لیے راستے تخلیق کرنے میں مدد کرے گی تاکہ وہ اپنے گھروں کو بحال کر سکیں، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "یہ انتہائی ضروری ہے کہ قبائلی خواتین کو ان کے سیاسی حقوق کا ادراک کرنے کے لیے انہیں بااختیار بنایا جائے۔"

ایک خاتونِ خانہ اور قبائلی خور کی کارکن، نادیہ صبا داور نے کہا کہ قبائلی خواتین میں تعلیم اور معلومات تک رسائی کی کمی ہے، جو انہیں ترقی کرنے سے روکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کو مرکزی سیاسی دھارے میں لانے کے لیے کی جانے والی آئندہ اصلاحات کے ساتھ، قبائلی خواتین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ سیاسی عمل کا حصہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی خور تعلیم یافتہ خواتین اور قائدانہ صلاحیتوں کی حامل خواتین کو لائے گی تاکہ وہ ناخواندہ قبائلی خواتین کی اپنے حقوق و فرائض کو سمجھنے میں مدد کریں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "وہ انہیں ۔۔۔ سیاسی عمل کے بارے میں تعلیم دینے کی کوشش کریں گی اور انہیں مقامی اداروں کے نظام میں لانے میں مدد کریں گی تاکہ ان کا خواتین کے لیے فیصلہ سازی میں اپنا ایک کردار ہو۔"

دہشت گردی کے اثرات سے نمٹنا

مہمند ایجنسی کی تحصیل بائی زئی سے قبائلی خور کی ایک رکن سکینہ مہمند نے کہا کہ دہشت گردی نے سب سے زیادہ نقصان قبائلی خواتین کو پہنچایا ہے، جس سے ان میں سے ہزاروں خواتین اپنے خاوندوں اور بیٹوں سے محروم ہوئی ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فورم ان خواتین میں حرفتی مہارتیں پیدا کرنے میں ان کی مدد کرے گا تاکہ وہ روزگار کما سکیں اور اپنے خاندانوں کی کفالت کر سکیں۔"

لنڈی کوتل، خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والی ایک مسیحی قبائلی خاتون، اور فورم کے ساتھ شامل ایک سماجی کارکن، سارہ مسیح کے مطابق، قبائلی خور فاٹا میں جنگ اور دہشت گردی کے خوف کی شکار قبائلی خواتین اور دوشیزاؤں کو صلاح کاری اور بحالی کی خدمات فراہم کرے گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ نئے متعارف کروائے گئے رواج ایکٹ (استعماری دور کے فرنٹیئر کرائم ریگولیشن، جو قبائلی علاقوں میں اجتماعی سزا کے احکامات دیتا ہے) اور جرگہ کے نظام (جس میں خواتین کے لیے آج تک کوئی کردار نہیں ہے) میں خواتین کی حیثیت واضح نہیں ہے، اس لیے فورم خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور عدالتی اور سیاسی ڈھانچے میں خواتین کی نمائندگی کا متلاشی ہے۔

سارہ نے کہا، "فورم والدین کو ترغیب دے گا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجیں اور اسکول جانے کی عمر سے نکل آنے والی نوجوان خواتین کو حرفتی تعلیم نیز روایتی تعلیمی مضامین کی تعلیم دینے کے لیے دیگر تنظیموں کے ساتھ تعاون کریں۔"

حقوقِ نسواں کے لیے ایک پلیٹ فارم

یونیورسٹی آف پشاور کی ایک طالبہ، نگین آفریدی نے نئے فورم کا خیرمقدم کیا، ان الفاظ کے ساتھ کہ قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والی خواتین میں اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی صلاحیت ہے اور یہ کہ قبائلی خور ان کے لیے ایک پلیٹ فارم کا کام کرے گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "نوجوان قبائلی خواتین کو چاہیئے کہ اب اٹھ کھڑی ہوں اور اپنے حقوق کی جنگ لڑیں۔"

جو لوگ یونیورسٹیوں اور ملازمتوں میں قبائلی کوٹے کی بنیاد پر ترجیحی داخلے حاصل کرتے ہیں ان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "انہوں نے ان کی قبائلی حیثیت سے فائدہ اٹھایا ہے۔ اب جواب دینے کا وقت ہے ۔۔۔ انہیں دیگر خواتین کے ساتھ کام کرنا چاہیئے جو ابھی بھی ظالمانہ قوانین کے تحت زندگی گزارتی ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج