|

حقوقِ نسواں

قومی اسمبلی کی نشست کے لیے مقابلہ کرنے والی فاٹا کی خاتون حوصلے کی علامت بن گئیں

کرم ایجنسی سے سبکدوش ہونے والی ایک سرکاری ملازم علی بیگم نے کہا، میرا مقصد دہشتگردی کا خاتمہ، قیامِ امن، خواتین کو عطائے اختیار اور قبائلی آبادی کو جہموریت میں داخل کرنا ہے۔

اشفاق یوسفزئی


پارہ چنار، کرم ایجنسی سے ایک خاتون، علی بیگم نے 7 اپریل کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک نشست کے لیے اپنی سیاسی مہم کا آغاز کیا۔ [اشفاق یوسفزئی]

پارہ چنار، کرم ایجنسی سے ایک خاتون، علی بیگم نے 7 اپریل کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں ایک نشست کے لیے اپنی سیاسی مہم کا آغاز کیا۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور – وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کی کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والی ایک 63 سالہ سبکدوش سرکاری ملازم، علی بیگم نے آئندہ عام انتخابات لڑنے کے ارادہ کا اعلان کیا۔

عسکریت پسندی کے نرغے میں آ جانے کے بعد اس قدامت پسند خطہ میں خواتین کا سیاست میں حصّہ لینا نسبتاً غیرمعمولی ہے۔

2013 میں گزشتہ عام انتخابات کے دوران باجوڑ ایجنسی کی رہائشی بادام زری فاٹا سے عام انتخاب لڑنے والی پہلی خاتون امّیدوار تھیں۔

زری انتخاب ہار گئیں، تاہم فاٹا کے متعدد رہائشیوں کو قومی اسمبلی کی نشست کے لیے بیگم کی مہم سے اونچی امّیدیں ہیں۔ انتخاب کا متوقع شیڈیول جولائی کے اواخر میں ہے۔

بیگم نے 7 اپریل کو پارہ چنار میں ایک مہمّاتی دفتر کھولا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "میرا مقصد دہشتگردی کا خاتمہ، قیامِ امن، خواتین کو عطائے اختیار اور قبائلی آبادی کو جمہوریت می داخل کرنا ہے۔"

انہوں نے کہا، "میں پاکستان کے مردوں کے غلبہ والے معاشرہ میں خواتین کے کردار اور حقوق [کو بہتر بنانا] اور امن کے لیے فرقہ ورانہ ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتی ہوں۔"

بیگم نے کہا، "علاقہ کی ترقی اور آسودگی کے لیے قبائلی ارکان کا اتحاد [میرا مقصد ہے اور یہی مجھے] سیاست میں لایا، انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے خواتین کو شامل کرنے کے لیے عوامی اجلاس منعقد کرنے کا آغاز کیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "خواتین پسماندہ ترین ہیں اور میں سیاست کی جانب ان کو بیدار کرنا چاہتی ہوں تاکہ وہ جمہوری عمل میں حصّہ لے سکیں۔ ہمیں خواتین کو درپیش مسائل سے نمٹنا چاہیئے۔"

مقامی افراد کی جانب سے حمایت کا عہد

بیگم نے کہا کہ انتخاب میں کامیاب ہونے کے لیے وہ مرد و خواتین، ہر دو کی حمایت حاصل کریں گی۔ پہلے ہی ان کے کافی معاونین ہیں۔

پارہ چنار میں ایک 41 سالہ سکول ٹیچر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم علی بیگم کی ستائش کرتے ہیں اور امّید کرتے ہیں کہ وہ عوام کی خدمت کریں۔ [رائے دہندگان] ان کی مکمل حمایت کریں گے۔"

انہوں نے مزید کہا، "وہ اپنے تعلیمی پس منظر اور ایک سرکاری ملازمہ کے طور پر اہم عہدوں پر فائز رہنے کے باعث ہمارے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ اپنے حقوق کے لیے لڑنے کی غرض سے خواتین کو اکٹھا کرنے میں بیگم ایک مضبوط قوت ثابت ہوں گی۔

جامعہ پشاور کے شعبہٴ تاریخ میں ایک لیکچرار، محمّد سہیل نے کہا کہ بیگم اتحاد کی ایک علامت بن سکتی ہیں اور ارکان کے لیے ایک قوتِ تحریک کے طور پر کام کر سکتی ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "وہ ایک تعلیم یافتہ خاتون ہیں اور پورے علاقہ میں ان کی عزت کی جاتی ہے، اور عوام ان کے پیچھے چلیں گے۔ ان کی کامیابی حوصلہ افزا ہو گی۔"

امن کی واپسی

پارہ چنار کے بزرگ عطااللہ خان نے کہا کہ ایک قدامت پسند علاقہ میں بیگم کا انتخاب لڑنے کا اعلان ایک قوی پیغام بھیجتا ہے کہ فاٹا ایک پرامن مقام ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "دنیا کے لیے اس علاقہ میں امن کی واپسی پر توجہ دینا نہایت اہم ہے کہ جہاں ایک خاتون امّیدوار ووٹ مانگنے [گھر گھر] جا سکتی ہے۔"

خان نے کہا کہ انتخاب لڑنے کا بیگم کا فیصلہ تمام تر فاٹا کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے، کیوں کہ اس سے خواتین میں ان کے حقوق و ذمہ داریوں سے متعلق آگاہی پیدا ہو گی۔

انہوں نے کہا، "فاٹا کی ترقی کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ دہشتگردی ہے، جس کے لیے علی بیگم جیسے جانفشانی سے محنت کرنے والے درکار ہیں، جو دوسروں کو تحریک دے سکیں اور مل کر کام کر سکیں۔

یہ اقدام عسکریت پسندوں کو بھی ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ وہ ظلم و ستم سے خواتین کو دھمکا نہیں سکتے ۔

خان نے انتخاب کے روز بیگم کی فتح یابی کی پیشگوئی کی۔

انہوں نے کہا، "علاقہ میں زیادہ تر خواتین اپنے مسائل کے حل کے لیے انہیں پارلیمان بھیجنے کی غرض سے ان کی مہم میں شرکت کریں گی۔" انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی تعلیم بیگم کے ایجنڈا پر سرِ فہرست ہونی چاہیئے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج