|

دہشتگردی

تازہ ترین ویڈیو میں داعش نے بچوں کو جلاد بنا دیا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک نئی ویڈیو جس میں، نہایت کم عمر لڑکوں کو "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" کی مخالفت کرنے والے افراد کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، کھلم کھلا بچوں کا استحصال ہے۔

قاہرہ سے ولید عبدل الخیر


داعش کی ویڈیو جس میں ایک عسکریت پسند کو چھوٹے بچے کو بندوق دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے، سے لیا گیا اسکرین شاٹ۔ اس ویڈیو میں چند لمحوں کے بعد بچے نے ایک "مرتد" کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

داعش کی ویڈیو جس میں ایک عسکریت پسند کو چھوٹے بچے کو بندوق دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے، سے لیا گیا اسکرین شاٹ۔ اس ویڈیو میں چند لمحوں کے بعد بچے نے ایک "مرتد" کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ایک نئی وڈیو جسے "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) نے بنایا اور سوشل میڈیا پر پھیلایا ہے، میں چھوٹے چھوٹے بچے جوان مردوں کو گولی مارتے اور ان کا سر قلم کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں اور پس منظر میں اشتعال انگیز، پرجوش مذہبی خطابت کو سنا جا سکتا ہے۔

ماہرین نے دیارونا کو بتایا کہ یہ ویڈیو طفولیت اور اسلام دونوں کا ہی سنگین استحصال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ہونے والا معاشرتی نقصان برین واش شدہ نوجوان مجرموں سے بڑھ کر ہو گا کیونکہ اس دوسرے بچوں کو راغب کرنے کے مقصد سے بنایا گیا ہے۔

آٹھ جنوری کو داعش کی نام نہاد ولایت الخیر (دیر الزور شہر اور اس کے اندرونی علاقوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے) کی میڈیا شاخ نے اس ویڈیو کو جاری کیا جس میں تین لڑکوں کو دیہی دیر الزور میں تین جوان آدمیوں کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن میں سے ایک کی عمر چار سال سے زیادہ نہیں ہے۔

متاثرین پر ارتداد اور کرد پولیس کے حفاظتی یونٹس (وائے پی جی) جو کہ شمالی شام میں داعش سے جنگ کرنے والی فوج ہے، کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام لگایا گیا۔

شام کے ابنِ الولید اسٹڈیز اینڈ فیلڈ ریسرچ سینٹر کے نئے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر میزین ذکی نے کہا کہ اس ویڈیو کو ایک ویڈیو گیم کے انداز میں پیش کیا گیا ہے اور اسے واضح طور پر بچوں کو راغب کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسے دوسرے بچوں کو گروپ کی صفوں میں شامل ہونے پر راغب کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس میں "پرکشش میڈیا مواد جو کہ گروپ کے عناصر کی طرف سے مارے جانے والے چھاپوں سے شروع ہوتا ہے پیش کیا گیا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ویڈیو کو دیکھنے والا بچہ یقینی طور پر اپنے آپ کو ان عناصر میں سے ایک تصور کرے گا۔

اشتعال انگیز بیان بازی

ذکی نے کہا کہ ویڈیو کی اشتعال انگیز مذہبی بیان بازی کا آغاز "وفاداری اور استرداد" (ال والہ ول براء) کے تصور کی وضاحت کے ساتھ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں وضاحت کی گئی ہے کہ "مذہبی تعلقات قرابت کے تعلقات سے زیادہ مظبوط ہیں جو کہ بنیادی طور پر گروپ کے حق میں خاندانوں اور رشتہ داروں کے خلاف بھڑکانا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس ویڈیو میں ہر عمر کے داعش کے عناصر کو دکھایا گیا ہے جس سے یہ تصور ملتا ہے کہ گروپ عمر کی بنیاد پر عناصر میں کوئی تفریق نہیں کرتا ہے اور تمام کی ایک جیسی ہی اہمیت ہے"۔

اس نکتہ کی وضاحت کرنے کے لیے، ویڈیو میں خطاب ال کمیشلی "خلافت کا پِلّا" کی کہانی بتائی گئی ہے جس نے اپنے خاندان کی طرف سے "کافروں کی زمین" - گروپ کے کنٹرول سے باہر کرد علاقے - میں رہنے کا فیصلہ کیے جانے کے بعد گروپ کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی۔

کیمرے کے سامنے، لڑکے نے دعوی کیا کہ وہ اپنے بھائی، ابو برا ال کمیشلی کی حوصلہ افزائی پر داعش کے علاقے میں آیا ہے، جو ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا۔

ذکی نے کہا کہ "بچے کی کہانی میں سارا زور ماں باپ کے فیصلوں سے بغاوت کرنے اور ان کی حکم عدولی کرنے پر دیا گیا ہے تاکہ بچوں کو گروپ میں شامل ہونے پر بھڑکایا جا سکے۔ بچے کی جو برین واشنگ کی گئی تھی وہ صاف نظر آ رہی ہے"۔

ذکی نے کہا کہ اس کے بیان کے بعد دوسرے بچوں کی فوٹیج ہے جنہیں ہتھیاروں کی تربیت دی جا رہی ہے جس میں بہت زیادہ ہنسی مذاق، ہتھیار اور کھیلوں کی سرگرمیوں جس میں گھڑ سواری بھی شامل ہے، کے پرکشش مناظر موجود ہیں۔

جہاں تک تین متاثرین کا سوال ہے، ان کا انجام دردناک ہوا۔

دکھائے گئے تین افراد اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ داعش کے خلاف کرد افواج کے لیے کام کر رہے تھے۔ اس کے بعد بچوں نے انہیں باندھ کر قتل کر دیا۔

بچوں کا کھلم کھلا استحصال

قاہرہ یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی پروفیسر بسما حسنی نے دیارونا کو بتایا کہ "یہ ویڈیو، جس کو بچوں کے لیے بنایا گیا ہے، ایک ایسا قدم ہے جو بچپن اور اسلام دونوں کو مسخ کرتا ہے"۔

اس تازہ ترین ویڈیو کے ساتھ، داعش نے دوہرا جرم کیا ہے، انہوں نے کہا کہ "پہلا تو قتل کرنے کے لیے بھڑکانا ہے اور دوسرا خصوصی طور پر بچوں کو قتل کرنے کے لیے بھڑکانا ہے جو کہ کھلم کھلا بچوں کا استحصال ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ایسی فلمیں گروپ کو ان کاموں کی مجرمانہ حقیقت سے مکمل طور پر لاعلم کرتی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ مذہبی تصدیق موجود ہوتی ہے جس میں گروہ نے تحریف کی ہوتی ہے"۔

ایس ڈی ایف کے پلاٹون کمانڈر غسان ابراہیم نے دیارونا کو بتایا کہ آپریشن فرات کا غصب کے حصہ کے طور پر دیہی الراقہ میں داعش کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں کے دوران، شام کی ڈیموکریٹک افواج (ایس ڈی ایف) داعش کے عناصر کی بڑی تعداد کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہیں "جن میں بچے اور ایسے لڑکے جن کی عمریں پندرہ سال سے زیادہ نہیں تھیں، بھی شامل تھے"۔

انہوں نے کہا کہ بچوں نے اس وقت فورا ہتھیار ڈال دیے جب ان کے مورچوں کو گھیر لیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی راہنمائی کے لیے کوئی سینئر کمانڈر موجود نہیں تھا "جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں جنگ میں تنہا ہی بھیج دیا گیا تھا"۔

ابراہیم نے کہا کہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ داعش بچوں پر انحصار اس شدید جانی نقصان کے باعث کر رہی ہے جس کا سامنا اسے شام اور عراق کی لڑائی میں کرنا پڑا ہے کیونکہ اب وہ پہلے کی طرح بیرونِ ملک سے بھرتی کیے ہوئے لڑاکوں کو نہیں لا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "لڑاکوں کی تعداد میں کمی کو پورا کرنے کے لیے اس کے پاس صرف بچے ہی رہ گئے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ جو بچے داعش کی صفوں میں لڑتے ہوئے ملے ہیں ان سے "نہایت احتیاط سے نمٹنا گیا ہے۔ انہیں خصوصی کیمپوں میں بھیجا گیا ہے جہاں ماہرین نے ان سے پوچھ گچھ کی ہے جس کے بعد ان کے والدین یا رشتہ داروں کی تلاش کی گئی ہے"۔

ابراہیم نے کہا کہ انہیں واپس معاشرے میں آباد کیا گیا ہے اور ان کے ذہنوں کو داعش کی طرف سے بوئی جانے والے تباہ کن نظریات سے صاف کیا گیا ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 27

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج