|

سلامتی

دابق کھو دینے نے داعش کی خلافت کے تشخص کو مجروح کیا ہے

'دولتِ اسلامیہ عراق و شام' کی علامتی شامی شہر میں شکست تنظیم کے ایک زندہ رہنے والی خلافت کے تشخص کو بری طرح مجروح کرے گی۔

از ولید ابوالخیر بمقام قاہرہ


داعش کی جانب سے تیار کردہ 'آپ سے دابق میں ملاقات ہو گی' نامی ایک ویڈیو جو دنیا کے اختتام کی جنگ کی تیاری کرتے ہوئے داعش کے جنگجوؤں کو دکھاتی ہے، سے لیا گیا سکرین شاٹ۔

داعش کی جانب سے تیار کردہ 'آپ سے دابق میں ملاقات ہو گی' نامی ایک ویڈیو جو دنیا کے اختتام کی جنگ کی تیاری کرتے ہوئے داعش کے جنگجوؤں کو دکھاتی ہے، سے لیا گیا سکرین شاٹ۔

ماہرین نے دیارونا کو بتایا ہے کہ تنظیم کی پراپیگنڈہ کوششوں میں شامی شہر کے مرکزی کردار کے تناظر میں، "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کے قبضے سے دابق کو آزاد کرواتے ہوئے، خلاصی دلانے والی افواج نے تنظیم کے مورال کو اور ایک نموپذیر خلافت کے تشخص کو اجاگر کرنے کی اس کی کوششوں کو شدید دھچکا لگایا ہے۔

دابق شہر کو بہت کثرت کے ساتھ اسلامی الہامی پیشین گوئیوں میں مسلمانوں اور "رومیوں"، کفار کے لیے استعمال کی جانے والی ایک اصطلاح، کے درمیان یومِ حشر کی جنگ کے مقام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ داعش نے، سنہ 2014 میں اپنے آغاز سے، اس پیشین گوئی کو اپنی نام نہاد خلافت کے جواز کو سہارا دینے میں مدد اور لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیے اپنی پراپیگنڈہ ویڈیو اور بیانات میں ایک دوبارہ وقوع پذیر ہونے والے موضوع کے طور پر استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم کی حالیہ شکست کی اہمیت کو کم کرنے کی کوششوں کے باوجود، علامتی شہر کا ہاتھ سے نکل جانے کا داعش کو شام اور عراق سے نکالنے کی جنگ پر بہت بڑا نفسیاتی اثر ہو گا۔

محض ایک ہفتے سے کچھ عرصہ قبل، 16 اکتوبر کو ترکی پشت پناہی رکھنے والی فری سیریا آرمی (ایف ایس اے) کے دھڑوں نے فرات کے تحفظ کی کارروائیوں کے تیسرے مرحلے کے جزو کے طور پر، شمالی الیپو میں کئی دیہات اور شہروں، بشمول دابق کو داعش سے چھڑوا لیا تھا۔

تزویراتی تجزیہ کار اور دہشت گرد گروہوں کے ماہر میجر جنرل یحییٰ محمد علی، جو مصری فوج سے ریٹائر ہو چکے ہیں نے کہا، "داعش نے گزشتہ تین برسوں میں دابق شہر کو خصوصی حیثیت دلوانے کے لیے سخت محنت کی تھی۔"

انہوں نے دیارونا کو بتایا کہ اپنے پراپیگنڈہ کے ذریعے داعش نے دابق کو ایک عام جغرافیائی مقام سے "ایک بہے اہم نظریاتی علامت" میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

یہ یاد دلاتے ہوئے کہ یہ شہر "کوئی تزویراتی اور عسکری قدر نہیں رکھتا یا بہت کم قدر کا حامل ہے،" انہوں نے کہا کہ ایسا "تنظیم کے وجود اور دہشت گرد سرگرمیوں کو ایک جواز دینے کے مقصد" سے خصوصی طور پر کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر اپنی علامتی حیثیت کی وجہ سے، دابق کا ہاتھوں سے نکل جانا "تنظیم کے لیے ایک تکلیف دہ دھچکا" ہے جس کا جنگ پر نمایاں اثر پڑے گا، خصوصاً اس کی بھرتی کی کوششوں اور اس کے جنگجوؤں کے مورال کے حوالے سے۔

علی نے کہا کہ دابق کا داعش کے ہاتھوں سے نکلنا "ایک ایسے وقت میں وقوع پذیر ہوا ہے جب تنظیم نے اپنے اعلیٰ کمانڈروں کے نمایاں نقصانات اٹھائے ہیں ساتھ ہی ساتھ میدانِ جنگ میں بھی نقصان اٹھائے ہیں۔"

انہوں نے یاد دلایا، "اس شہر کو آزادی تنظیم کو شام میں ہونے والے دیگر نقصانات کے فوراً بعد ملی ہے، جن میں منبیج اور جارابلس کے شہروں میں نقصانات، اور عراق میں موصل کو آزاد کروانے کی کارروائی کا آغاز شامل ہیں۔"

علی نے کہا، "زمین پر رونما ہونے والے واقعات کو [ایک دوسرے سے] الگ نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا دابق کی آزادی سے پیدا ہونے والا نتیجہ بلاشبہ موصل میں نظر آئے گا، جہاں عراقی اور بین الاقوامی اتحادی افواج نے اسے آزاد کروانے کے لیے بے مثال تحریک شروع کر رکھی ہے۔"

اہمیت کم کرنے کی کوششیں

مصر کے ابن الولید سٹڈیز اینڈ فیلڈ ریسرچ سنٹر پر نئے میڈیا شعبے کے ڈائریکٹر مازن ذکی نے کہا کہ دابق شہر، جو ترکی کی سرحد کے بالکل جنوب میں ہے، الیپو شہر سے اندازاً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

انہوں نے دیارونا کو بتایا کہ یہ ضلع آزاز میں اخترین انتظامی مرکز کا ایک حصہ ہے، جہاں ایف ایس اے کے جھنڈے تلے لڑ رہے حزبِ مخالف کے دھڑوں کی جانب سے داعش کی موجودگی کا مقابلہ کیا گیا ہے۔

سنہ 2014 میں اپنے ظہور کے بعد سے، داعش اپنی پراپیگنڈہ تحریروں اور ویڈیوز میں دابق کو بہت زیادہ استعمال کرتی رہی ہے، جن میں سے بہت سی ویڈیوز عراق میں القاعدہ کے سابق رہنماء، ابومصعب الزرقاوی کی جانب سے سنہ 2004 کا ایک آڈیو کلپ پیش کرتی ہیں۔

اس کلپ میں، الزرقاوی کہتا ہے، "عراق میں شعلہ بھڑک چکا ہے، اور اس کی حرارت شدت پکڑتی جائے گی ۔۔۔ تاوقتیکہ یہ دابق میں صلیبی افواج کو جلا کر راکھ کر دے۔"

ذکی نے کہا، "تنظیم [دابق کو] اگست 2014 میں اس پر قابض ہونے کے بعد دوبارہ سامنے لے آئی، اور یہ تنظیم کی کلیدی علامات میں سے ایک علامت بن گیا۔"

انہوں نے کہا حتیٰ کہ تنظیم نے ایک انگریزی زبان کا جریدہ "دابق" تیار کیا، جس میں اس نے ایک شہر میں "مسلمانوں اور کفار کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ" کے پہلو کو بہت زیادہ فروغ دیا۔

ذکی نے کہا کہ دابق میں اپنی شکست کے بعد سے، داعش اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ وہ بڑی جنگ نہیں تھی جو یہ اپنے پراپیگنڈہ میں بڑھا چڑھا کر بیان کرتی رہی ہے، اپنے نقصان کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "افواہوں کی اشاعت کے ذریعے، تنظیم اپنی شکست کی شدت کو کم کرنے اور اس نقصان کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو اس کے نتیجے میں بھرتی اور مورال سے متعلق ہو سکتا ہے۔"

تلبیسِ تاریخ

جامعہ الازہر کے شریعہ اور قانون کے اساتذہ میں سے ایک پروفیسر، پولیٹیکل سائنٹسٹ عبدالنبی بکار نے کہا کہ اپنے آغاز سے، داعش نے تاریخی اور دینی حقائق کی تلبیس کی ہے اور کئی قرآنی آیات اور احادیث کو مسخ کیا ہے۔

انہوں نے دیارونا کو بتایا کہ یہ "اپنے وجود کو جواز مہیا کرنے اور زمین پر اپنی وسعت میں سہولت پیدا کرنے، نیز بھرتی کے لیے" ایک سوچی سمجھی چال ہے۔"

انہوں نے کہا، "کمزور فہم کے لوگ اور وہ جو دینی علوم سے نابلد ہیں اس دینی لغویات کے پھندے میں پھنس گئے اور تنظیم میں شامل ہو گئے، یہ سوچتے ہوئے کہ یہ درحقیقت ایک ریاست اور خلافت کی زمین قائم کر رہی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "دابق کا تنظیم کے قبضے سے نکل جانا تمام دینی فریب کاریوں کے لیے ایک دھچکا ہے جن کو اس نے فروغ دیا تھا۔"

وہ حدیث جو دابق کی جنگ کا الہامی پیغام دیتی ہے کے بارے میں انہوں نے کہا، "اس معاملے کی بہت سی تشریحات ہیں اور زیادہ تر لوگ دینی کنائیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کا زمینی حقیقت جو بھی ہو اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 11

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج