|

سلامتی

نسبتاً پُرامن پشاور میں ریستوران کا کاروبار پھل پھول رہا ہے

خاندان اور دوست احباب درجنوں نئے ریستورانوں اور تحفظ کے ایک تازہ احساس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

از جاوید خان


18 فروری 2015 کو پشاور کے ایک ریستوران میں افغان مہاجرین کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے۔ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد جو پشاوری پہلے رات کے وقت باہر کھانا کھانے جانے سے خوفزدہ ہوتے تھے اب ریستورانوں میں واپس لوٹ رہے ہیں۔ [اے مجید/ اے ایف پی]

18 فروری 2015 کو پشاور کے ایک ریستوران میں افغان مہاجرین کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے۔ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد جو پشاوری پہلے رات کے وقت باہر کھانا کھانے جانے سے خوفزدہ ہوتے تھے اب ریستورانوں میں واپس لوٹ رہے ہیں۔ [اے مجید/ اے ایف پی]

پشاور-- کبھی غروبِ آفتاب کے بعد ویران ہو جانے والے پشاور میں اب امن کے بعد مشہور سڑکوں کے ساتھ ساتھ درجنوں نئے ریستوران بن رہے ہیں اور شہر میں امن و امان کی بہتر صورتحال واپس آ گئی ہے۔

رنگ روڈ پر ایک تکہ ریستوران کے مینیجر، باز گل نے کہا، "ایک وقت ہوتا تھا جب رنگ روڈ پر تمام ریستوران غروبِ آفتاب کے بعد ویران ہو جاتے تھے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اب لوگ رات دیر گئے تھے باہر رہتے ہیں کیونکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں امن و امان بہتر ہو گیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ سنہ 2008 اور 2009 میں رنگ روڈ پر پولیس پر حملوں، بم دھماکوں اور اغواء کاریوں نے ریستوران کے ممکنہ گاہکوں کے باہر نکلنے کی حوصلہ شکنی کی تھی۔

طاقتور عسکری آپریشنوں بشمول آپریشن ضربِ عضب، جو جون 2014 سے اب تک شمالی وزیرستان میں جاری ہے، کے بعد اب پورے ملک میں تصویر بہت بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ریستوران کا کاروبار منافع بخش ترین کاروباروں میں سے ایک ہے کیونکہ گاہک ہزاروں کی تعداد میں آ رہے ہیں۔

گزشتہ چند ماہ میں، پشاور میں درجن بھر سے زائد کھانوں کے مشہور مراکز کھل چکے ہیں، جو خاندانوں اور نوجوانوں کو دوپہر کے کھانے، چائے اور حتیٰ کہ رات دیر گئے تک کھانا کھانے کی ترغیب دے رہے ہیں۔

ممکنہ گاہک خصوصاً رات کے وقت خوف کھایا کرتے تھے کیونکہ یہ عرصہ دہشت گردی اور جرم کا سب سے زیادہ نشانہ تھا۔

خاندان امن کی واپسی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آپریشنز سجاد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پشاور میں بہت سے دکانیں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کھلی ہیں، جو کہ ایک طویل عرصے بعد صوبائی دارالحکومت میں امن کی واپسی با آوازِ بلند بیان کرتی ہیں۔"

انہوں نے مقامی لوگوں، خصوصاً خاندانوں کو، ترغیب دی کہ وہ باہر نکلیں اور اپنی پسند کے ریستورانوں میں جا کر امن کی بحالی کا جشن منائیں۔

انہوں نے کہا، "شہر میں کھانوں کی دکانوں پر سینکڑوں خاندان اپنے چہروں پر مسکراہٹ واپس سجائے ڈنر کرتے دیکھے جا سکتے ہیں، جو کہ بہت حوصلہ افزاء ہے۔"

پشاور میں یونیورسٹی روڈ، رنگ روڈ اور گھنٹہ گھر "فوڈ سٹریٹس" میں بدل چکے ہیں، اور ایک اور فوڈ سٹریٹ حیات آباد میں بنائی جا رہی ہے۔

ان فوڈ سٹریٹس پر اور شہر کے دیگر حصوں میں سینکڑوں ریستوران کانٹیننٹل، اطالوی، چینی، ترکی اور عربی کھانوں کے علاوہ، روایتی کھانے پیش کر رہے ہیں جیسے کہ مٹن تکہ اور چپل کباب۔

کھانے کے شوقینوں کی جانب سے زبردست ردِعمل کے بعد ان میں سے کچھ دکانوں نے اپنی شاخوں کی تعداد تین گنا کر دی ہے۔

صبا عمران، یونیورسٹی کی ایک طالبہ جنہوں نے ابھی ابھی اپنی والدہ اور دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ یونیورسٹی روڈ پر ایک نئے ریستوران میں کھانا کھایا تھا، نے کہا، "سنہ 2006 کے بعد ہم اپنی زندگی کے بدترین برسوں میں سے گزرے ہیں، جب لوگوں نے اپنی نقل و حرکت کو محدود کر دیا تھا اور غروبِ آفتاب کے بعد اپنے گھروں میں ہی رہتے تھے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ حکومت، پولیس اور فوج کی کوششوں کے نمایاں نتائج نکلے ہیں اور امن بہت حد تک واپس آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "آپ ان ریستورانوں میں آنے والوں کے چہرے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ امن کی واپسی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔"

رات کے وقت دوستوں کے ساتھ باہر جانا محفوظ ہے

پشاوری اُن پرانے برے دنوں کو چھوڑ کر خوش ہیں جب وہ اندھیرا ہونے کے بعد گھر میں رہتے تھے، خصوصاً نواحی علاقوں میں۔

نواحی پشاور کے ایک مکین، عبدالمجید نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "رنگ روڈ پر لگ بھر روزانہ رات کو کنٹینر ٹرمینلز [ریستورانوں کے قریب] پر، پولیس افسران اور پولیس کاروں پر، اور یہاں تک کہ سرکاری املاک پر دہشت گرد حملے ہوا کرتے تھے۔"

انہوں نے کہا کہ خاندان کے بزرگ اور خیرخواہ اپنے عزیزوں کو رات کے وقت باہر جانے سے متنبہ کیا کرتے تھے۔

مجید، جنہوں نے گرینڈ ٹرنک روڈ پر ایک چھت پر واقع ریستوران پر مٹن تکہ کا آرڈر دیا ہوا تھا جبکہ مقامی فنکار روایتی پشتو موسیقی بجا رہے تھے، نے کہا، "اب [۔۔۔] ہم محسوس کرتے ہیں کہ دوستوں کے ساتھ باہر کسی بھی کھانے کی دکان پر جانا اور کچھ گھنٹوں کے لیے اچھا وقت گزارنا محفوظ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ محض چند برس پہلے ریستورانوں کی بندش کی لہر کے مقابلے میں، اب رنگ روڈ پر درجنوں نئے ریستوران ہیں۔

انہوں نے کہا، "آپ روایتی اور جدید کھانوں کی دکانوں، دونوں میں ہزاروں لوگوں کو باہر آ کر ایک اچھے کھانے پر دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے دیکھ سکتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Sajjad khan | 02-06-2017

پولیس اور مسلح افواج کی کاوشوں کی پذیرائی کے لیے عمدہ مقالہ۔ \n

جواب

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج