|

دہشتگردی

کے پی پولیس نے دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا

رواں برس خیبرپختونخوا محکمۂ انسدادِ دہشتگردی نے ابھی تک 271 مشتبہ شرپسندوں کو گرفتار، 36 شرپسندوں کو ہلاک اور 504 کلو دھماکہ خیز مواد برآمد کیا۔

عدیل سعید


24 اکتوبر کو کے پی محکمۂ انسدادِ دہشتگردی کی جانب سے ایک مشتبہ آئی ایس آئی ایل دہشتگرد میڈیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ پشاور میں آئی ایس آئی ایل کے پمفلٹ تقسیم کرنے والے مشتبہیں میں سے ایک تھا۔ [عدیل سعید]

24 اکتوبر کو کے پی محکمۂ انسدادِ دہشتگردی کی جانب سے ایک مشتبہ آئی ایس آئی ایل دہشتگرد میڈیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ پشاور میں آئی ایس آئی ایل کے پمفلٹ تقسیم کرنے والے مشتبہیں میں سے ایک تھا۔ [عدیل سعید]

پشاور — رواں برس خیبر پختونخوا (کے پی) محکمۂ انسداد دہشتگردی نے دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے کومبنگ آپریشن اور چھاپوں کے دوران تاحال 271 مشتبہین گرفتار، 36 شرپشند ہلاک کر دیے اور 504 کلوگرام دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا۔

جنوری سے ستمبر تک محیط ایک کے پی سی ٹی ڈی پرفارمنس رپورٹ کے مطابق، 271 گرفتاریوں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت کالعدم تنظیموں کے 142 ارکان شامل ہیں۔

کے پی سی ٹی ڈی کے سینیئر سپرانٹنڈنٹ پولیس میاں سعید احمد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان 142 میں سے 106 ”2007 میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں بننے والی کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی سے تعلق رکھتے ہیں اور ملک میں ہونے والے دہشتگردی کے بدترین واقعات میں ملوث ہیں۔“

دیگر گرفتار شدگان میں ”دولتِ اسلامیۂ عراق و شام“ (آئی ایس آئی ایل) کے پانچ مشتبہ ارکان، خیبر ایجنسی میں منگل باغ کی لشکر اسلام کے نو، تحریکِ طالبان مہمند کے نو، لشکرِ جھنگوی کے دو اور جیشِ محمّد کے دو ارکان شامل ہیں۔

سعید نے کہا کہ گرفتار مشتبہین میں سے 23 اور پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے شرپسندوں میں سے 4 پر 20.8 ملین روپے (200,000 امریکی ڈالر) کا انعام تھا، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے اس رقم کو ہلاکتوں اور گرفتاریوں میں حصہ لینے والوں میں تقسیم کیا۔

مزید برآں، سی ٹی ڈی نے 504 کلوگرام دھماکہ خیز مواد اور دہشتگردی کا متعدد دیگر سامان ضبط کیا۔

عدالتیں ان 271 ملزمان کے مقدمات پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے اب تک 18 کو سزائیں سنائی ہیں، جبکہ 129 جیلوں میں مقدمات چلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ 49 ضمانت پر رہا ہیں اور 16 بری کیے جا چکے ہیں۔

سعید نے کہا کہ 2013 میں تشکیل پانے والے سی ٹی ڈی نے متعدد جارح دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ”ہمارا مقصد ملک کو دہشتگردی کی آفت سے پاک کرنا اور قوم کو آسودہ حال اور ترقی یافتہ بنانا ہے۔“

'دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابی'

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) سی ٹی ڈی صلاح الدین احمد نے کہا، ”سی ٹی ڈی کی مؤثرکارکردگی نے کے پی پولیس کو ملک کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔“

احمد نے 7 جولائی کو سنٹرل پولیس آفس میں آئی جی پی کے پی ناصر خان درّانی کو ایک پریزنٹیشن میں بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے جنوری سے جون تک کے اعدادو شمار کا موازنہ کرنے سے 2016 میں دہشتگردی میں ایک نمایاں کمی کا انکشاف ہوتا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ کے پی پولیس نے 2016 کی پہلی ششماہی میں دہشتگردی کے 99 واقعات ریکارڈ کیے جو 2013 میں 281 تھے۔

احمد نے کہا کہ یہ گراوٹ ”65 فیصد کمی“ کی نمائندگی کرتی ہے۔

انہوں نے دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشتگردوں کی جانب سے کیے جانے والے قتلِ عام کے بعد حکومتِ پاکستان کی طرف سے جلد ہی شروع کی کی جانے والی انسدادِ دہشتگردی کی ایک حکمتِ عملی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی عسکریت پسندی کی انسداد کے لیے جارحانہ اور دفاعی، ہر دو حکمت ہائے عملی پر کام کر رہا ہے اور سختی سے قومی ایکشن پلان (این اے پی) کا نفاذ کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جارحانہ اقدامات میں سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن اور سنیپ چیکنگ (پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کی بلا ترتیب تلاشی) اور عسکریت پسندوں پر کریک ڈاؤن شامل ہیں۔

دفاعی اقدامات میں غیر قانونی امیگریشنز، جعلی کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (سی این آئی سیز) رکھنے والوں اور مشتبہ کوائف رکھنے والے کرائے داروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے آباد علاقوں میں شرپسندوں کو ٹھکانے نہ بنانے دینا شامل ہیں۔

دیگر اقدامات میں نفرت انگیز مواد کی تقسیم اور صوبے میں فرقہ ورانہ اور ریاست مخالف جذبات بھڑکانے کی انسداد کے لیے لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال پر کریک ڈاؤن شامل ہیں۔

ساتھ مل کر دہشت گردی سے جنگ

بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کے اے آئی جی شفقت ملک نے بتایا۔ "دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں سی ٹی ڈی کی کارکردگی تعریف کے قابل ہے اور یہ اپنی استعداد سے زیادہ کام کر رہا ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اپنے قیام کے بعد چند ہی سال میں، سی ٹی ڈی نے درجنوں قتل میں ملوث جرائم پیشہ افرد گرفتار کیے ہیں۔"

شفقت نے سی ٹی ڈی کی تفتیشی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے بتایا کہ عدالتوں نے سی ٹی ڈی کے گرفتار کیے ہوئے بہت سے ملزمان کو مجرم قرار دیا کیونکہ اس نے بہت سی شہادتیں اکٹھی کی تھیں۔

انہوں نے بتایا، "کسی سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو اس کے گرفتار کیے ہوئے لوگوں کو مجرم قرار دیے جانے سے جانچا جا سکتا ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا، 2009 سے کے پی میں بی ڈی یو نے 6,000 سے زیادہ بم ناکارہ بنا کر اپنے حصے کا کام سرانجام دیا ہے۔

انہوں نے بتایا، کے پی پولیس کے مختلف حصے دہشت گردی کو شکست دینے کے لئے مل کر کام کرتے ہیں۔

بیرونی مبصرین بھی سی ٹی ڈی کی تعریف کرتے ہیں.

"سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کی کارروائی کرنے کی صلاحیت کو کمزور کیا ہے۔" پشاور کے جرائم سے متعلق صحافی عادل پرویز نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "اس کو آپ جرائم کی گرتی ہوئی تعداد سے جانچ سکتے ہیں، خصوصاً اغوا برائے تاوان کی تعداد سے۔"

سی ٹی ڈی کے گرفتار کیے گئے مجرمان میں پشاور کا ٹارگٹ کلر محمد فرید شامل ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ فرید، پانچ خواتین سمیت 32 افراد کے قتل میں ملوث تھا۔

عادل نے سی ٹی ڈی کو مزید وسائل فراہم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے بتایا، اگر اس کے پاس مزید سہولیات ہوں تو یہ اور بہتر کارکردگی دکھائے گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج