2016-10-25 | دہشتگردی

کوئٹہ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 65 تک پہنچ گئی

عبدالغنی کاکڑ

آئی ایس آئی ایل نے اس وحشیانہ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔


25 اکتوبر کو پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر رات بھر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی سپاہی اس تنصیب کے داخلی راستے سے گزر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنوب مغربی پاکستان میں ایک پولیس اکیڈمی پر رات بھر چلنے والے حملے میں، جو کہ رواں برس ہونے والے مہلک ترین شدّت پسندانہ حملوں میں سے ایک تھا، ہلاکتوں کی تعداد 65 افراد تک پہنچ گئی ہے جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہیں۔ [بنارس خان/اے ایف پی]
25 اکتوبر کو پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر رات بھر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی سپاہی اس تنصیب کے داخلی راستے سے گزر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنوب مغربی پاکستان میں ایک پولیس اکیڈمی پر رات بھر چلنے والے حملے میں، جو کہ رواں برس ہونے والے مہلک ترین شدّت پسندانہ حملوں میں سے ایک تھا، ہلاکتوں کی تعداد 65 افراد تک پہنچ گئی ہے جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہیں۔ [بنارس خان/اے ایف پی]
25 اکتوبر کو پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر رات بھر ہونے والے حملے کے بعد پاکستانی سپاہی اس تنصیب کے داخلی راستے سے گزر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنوب مغربی پاکستان میں ایک پولیس اکیڈمی پر رات بھر چلنے والے حملے میں، جو کہ رواں برس ہونے والے مہلک ترین شدّت پسندانہ حملوں میں سے ایک تھا، ہلاکتوں کی تعداد 65 افراد تک پہنچ گئی ہے جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہیں۔ [بنارس خان/اے ایف پی]

آئی ایس آئی ایل نے اس وحشیانہ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

کوئٹہ — کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سنٹر پر ہونے والے ایک مہلک ترین حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 65 تک پہنچ گئی ہے اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں تینوں حملہ آور مارے جا چکے ہیں۔

پولیس ٹریننگ کالج کے ایک سینیئر پولیس آفیسر محمّد اجمل کاسی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”نامعلوم عسکریت پسندوں نے بلوچستان پولیس ٹریننگ کالج کے احاطے میں داخل ہو کر ہوسٹل، جس میں 750 سے زائد پولیس کیڈٹس رہائش پذیر ہیں، پر حملہ آور ہونے سے قبل مرکزی داخلی دروازے پر دو گارڈز کو گولیاں ماریں۔“ انہوں نے کہا، ”ہمارے تمام کیڈٹس کو سروں پر گولیاں ماری گئیں اور سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان چار گھنٹوں تک گولیوں کا تبادلہ جاری رہا۔ ہمارے کیڈٹ غیر مسلح تھے اس لیے وہ حملے پر جوابی کاروائی نہ کر سکے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”دو عسکریت پسند گولیوں کے تبادلے میں مارے گئے، جبکہ ایک اور حملہ آور نے ٹریننگ کالج کے نئے ہوسٹل کے داخلی راستے پر اپنی خود کش جیکٹ کو اڑا لیا۔“

بلوچستان کے داخلی و قبائلی امور کے وزیر سرفراز بگٹی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”فوج کی کمان میں وسیع و عریض پولیس ٹریننگ سنٹر کا مکمل سرچ آپریشن کیا گیا اور محاصرے کے بعد تمام تر احاطے کو کلیئر کیا گیا۔“

انہوں نے کہا، ”ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ یہ بزدلانہ حملہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کی جانب سے کیا گیا تھا،“ انہوں نے مزید کہا، ”ہم نے مواصلات کو انٹرسیپٹ کیا، جس سے تصدیق ہوئی کہ حملہ آور افغانستان میں موجود اپنے استعمال کنندگان کے ساتھ رابطہ میں تھے۔“

ڈان کے مطابق، دولتِ اسلامیۂ عراق و شام (آئی ایس آئی ایل) نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی۔

کوئٹہ کی سیکیورٹی برانچ کے سپرانٹنڈنٹ جاوید احمد غارشین نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر ہونے والا تیسرا حملہ تھا، قبل ازاں 2006 اور 2008 میں بھی عسکریت پسندوں نے اس کالج پر راکٹ داغے۔ حملہ میں ہونے والی زیادہ تر ہلاکتوں کی شناخت پولیس کیڈٹس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کے طور پر کی گئی۔ شہید ہونے والے عملہ میں ضلع شبقدر کے ایک فوجی کپتان روح اللہ بھی شامل تھے۔“

انہوں نے کہا، ”شہید ہونے والے تمام کیڈٹس کی میّتیں پولیس ہیڈ کوارٹرز لائی گئیں، جہاں آج ان کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، بعد ازاں شہید کیڈٹس کی میّتیں ان کے آبائی اضلاع کو بھجوا دی گئیں۔“

صوبائی ترجمان انوار الحق کاکڑ نے کوئٹہ میں جاری ہونے والے ایک پریس نوٹ میں کہا، ”حکومتِ بلوچستان نے پولیس ٹریننگ کالج پر اس وحشیانہ دہشتگرد حملے کے خلاف تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور صوبائی دارالحکومت کی سیکیورٹی ہائی الرٹ پر کر دی گئی ہے۔“

کاکڑ نے کہا، ”ہم اپنے بے گناہ رنگروٹوں پر ہونے والے اس بزدلانہ حملے کی پرزور مذمّت کرتے ہیں؛ یہ حملے خطے میں عسکریت پسندی کے خلاف ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔“

انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے کوئٹہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں خبر دی، ”آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ پر انسدادِ دہشتگرد آپریشنز کے دوران جرأت کا مظاہرہ کرنے پر کیپٹن روح اللہ اور نائب صوبیدار محمّد علی کے لیے شجاعت کے اعزازات کا بھی اعلان کیا۔ ایک خودکش حملہ آور کو جہنم واصل کرنے کے بعد انہوں نے دوسرے بمبار کو گھیر لیا، جس سے پولیس رنگروٹوں کی ایک بڑی تعداد کو فرار ہونے میں مدد ملی۔۔۔ کیپٹن روح اللہ کو تمغۂ جرأت اور نائب صوبیدار محمّد علی کو تمغۂ بسالت سے نوازا گیا۔“

وزیرِ اعظم نواز شریف نے بھی کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملے کی پرزور مذمّت کی۔

ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیرِ اعظم نے حملہ پر خدشات کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشتگرد ہمارے خطے میں دہشت پھیلا کر اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکیں گے۔ انہوں نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مکمل طبّی سہولیات کے ساتھ پولیس کیڈٹس کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔

بلوچستان اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف مولانا عبدالواسع نے بھی دہشتگرد حملے کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے اقدامات کے مرتکبین امن و استحکام کے دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا، ”پاکستانی قوم امن مخالف عناصر کے خلاف متحد ہے؛ وہ عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کے لیے اپنی سرزمین کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔“ انہوں نے مزید کہا، ”حکومت کو دشمنوں کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہو گا۔“

بلوچستان کی انجمنِ تاجران کے ایک اعلیٰ رہنما اللہ داد ترین نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انجمن نے پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملے کے خلاف احتجاج میں بدھ کے روز صوبے میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ”ہم اس وحشیانہ حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں جس نے پولیس کیڈٹس کی جانیں لیں۔ ریاست کو سیکیورٹی اہلکاروں کی سلامتی کے لیے دوررس حکمتِ عملی کو یقینی بنانا ہو گا۔“

دیگر رہنماؤں کے ساتھ ساتھ افغانستان کے چیف ایگزیکٹِو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اس حملے کی پرزور مذمت کی۔ انہوں نے ٹویٹ کیا، ”میری ہمدردیاں اور تعزیت # کوئٹہ حملے میں شہید ہونے والوں کے عزّہ واقارب کے ساتھ ہیں۔ # افغان # پاکستان کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 10

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج