2016-07-28 | صحت

پاکستان میں وسیع پولیو مہم کا آغاز

اشفاق یوسفزئی

حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند بچوں کے پولیو کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی عالمی کاوشوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔


14 جولائی کو جنوبی وزیرستان ایجنسی میں ایک کمیونیٹی ہیلتھ ورکر ایک بچے کو پولیو کے خلاف ویکسین کر رہے ہیں۔ [بشکریہ اشفاق یوسفزئی]
14 جولائی کو جنوبی وزیرستان ایجنسی میں ایک کمیونیٹی ہیلتھ ورکر ایک بچے کو پولیو کے خلاف ویکسین کر رہے ہیں۔ [بشکریہ اشفاق یوسفزئی]
14 جولائی کو جنوبی وزیرستان ایجنسی میں ایک کمیونیٹی ہیلتھ ورکر ایک بچے کو پولیو کے خلاف ویکسین کر رہے ہیں۔ [بشکریہ اشفاق یوسفزئی]

حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند بچوں کے پولیو کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی عالمی کاوشوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

پشاور — رواں برس پاکستانی حکام ایک وسیع پولیو ویکسینیشن اور آگاہی مہم کا آغاز کر رہے ہیں۔

کئی برسوں سے طالبان پولیو ویکسینیٹرز پر مغربی منصوبے پر کام کرنے کا ناحق الزام لگا رہے ہیں۔ انہوں نے جون 2012 سے اب تک 80 پولیو ویکسینیٹرز کو قتل کیا ہے۔

نتیجتاً اب پاکستان اور افغانستان ہی دو ایسے ممالک ہیں جہاں پولیو کا مرض موجود ہے۔

اب، جیسا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف ملک بھر میں دو برس سے زائد کی جارحانہ عسکری کاروائی کے بعد شرپسند مفرور ہیں، پولیو ویکسینیٹر بچوں کو اس قابلِ انسداد مرض کے خلاف ایمیونائز کرنے کے لیے سابقہ طور پر خطرناک علاقوں میں جا رہے ہیں۔

طالبان بچوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں

ہیلتھ ورکرز کو خیبر پختونخواہ(کے پی) اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں ہولناک چیلنجز کا سامنا ہے، جو کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحد پار وائرل ترسیل کی زد میں ہیں۔ یہ دونوں علاقہ ہائے عملداری پاکستان میں پولیو کے واقعات کے وسیع اکثریت کے حامل ہیں۔

جون 2014 میں آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد افواج سے فرار ہونے والے پاکستانی طالبان پولیو ویکسینیشن کے خلاف اپنے تنفر کو اپنے ساتھ افغانستان لے گئے، اور دونوں ممالک کی – اور عالمی – صحتِ عامہ کو خطرہ سے دوچار کر دیا۔

2016 میں اب تک کے پی کے سات بچوں میں پولیو کی تشخیص ہوئی ہے۔ ان میں سے چار کو بکثرت صوبہ ننگرہار اور خوست شہر جانے کے بعد افغانستان سے مرض لاحق ہوا، جہاں عسکریت پسند تاحال ایمیونائزیشن کی جارحانہ طور پر مخالفت کرتے ہیں۔

پولیو کے خاتمہ کے عالمی اقدام کے مطابق، کے پی سے ملحقہ فاٹا میں جنوبی وزیرستان کے ایک دو سالہ بچے میں جون میں افغانستان سے لوٹنے کے بعد پولیو کی تشخیص ہوئی۔

کے پی پولیو ویکسینیشن پروگرام کے چیف ڈاکٹر ایوب روز نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”[دہشتگردوں کے خلاف] کامیاب عسکری کاروائی کے بعد، طالبان فاٹا سے فرار ہو کر افغانستان میں سامنے آئے۔ وہ وہاں سے دوبارہ پولیو کے خاتمہ کی عالمی مہم کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”ہم طالبان کا مقابلہ کرنے اور اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔“

حالیہ دہائیوں میں دنیا بھر میں ڈرامائی بہتری کے ہوتے ہوئے پاکستان کی پولیو کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی ابتری کے گہرے اثرات ہو سکتے ہیں۔

ایوب نے کہا، ”ہم نے شرپسندوں کی ویکسینیشن مخالف مہم کو ناکام بنانے کے لیے ماہانہ بنیادوں پر جارحانہ ویکسینیشن مہمات کا آغاز کیا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ رواں برس اب تک طبی عملہ نے کے پی پانچ برس سے کم عمر کے 5.4 ملین بچوں کو ویکسین کیا ہے۔

انہوں نے کہا، ”ہمارے یہاں [پناہ گزین] کیمپوں میں تقریباً 90,000 افغان بچوں کو ویکیسن کرنے کے لیے خصوصی مہمیں ہیں۔“

ایمیونائزیشن ٹٰیموں کا تحفظ

اینڈ پولیو پاکستان کے مطابق، 2015 میں پاکستان میں 2014 کے 306 واقعات کے مقابلہ میں 54 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ رواں برس اب تک یہاں 13 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں کے پی کے سات اور فاٹا کا ایک – جنوبی وزیرستان کا بچہ – شامل ہے۔

حکام نے اس بڑی بہتری کو آپریشن ضربِ عضب اور انسدادِ دہشتگردی کے قومی ایکشن پلان کے نتیجے میں امنِ عامہ کا مرہونِ منت قرار دیا ہے۔

سیکیورٹی میں ان بہتریوں کے ساتھ ہزاروں طالبان کے افغانستان فرار ہو جانے کے بعد ایمیونائزیشن ٹیموں کو کام کرنے کی خاصی بہتر آزادی مل گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 25-30 جون کو کے پی اور فاٹا میں ویکسینیشن ٹیمیں 965,000 بچوں تک پہنچ گئے، جبکہ طبی عملہ نے پولیو کی پلائی جانے والی ویکسین کے محفوظ ہونے کی تشہیر کے لیے مؤثر مہمیں چلائیں۔

تاہم جنوبی وزیرستان میں دو سالہ بچے کی بیماری سے ڈاکٹروں کو خدشات ہیں۔

فاٹا ویکسینیشن پروگرام کے چیف، ڈاکٹر افتخار علی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”سات ماہ بعد فاٹا میں پولیو کا ایک نیا واقعہ تنبیہ ہے۔ ہم نے گزشتہ دو برسوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے ایک جامع ایمیونائزیشن مہم کا آغاز کیا ہے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”ہم نے [فاٹا میں] اس برس کے پہلے پولیو کیس کے بعد ایک فوری عمل کی مہم کا آغاز کیا،“ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں فاٹا میں 500,000 بچوں کو ایمیونائز کرنے کے لیے 6,000 ویکسینیٹر بھیجے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا بھر میں فوج ویکسینیشن ٹیموں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ”ہیلتھ ورکر بالکل محفوظ ہیں۔“

گزشتہ برسوں میں فاٹا میں جہالت کی وجہ سے یا طالبان کے خوف کی وجہ سے ہزاروں والدین نے عموماً اپنے بچوں کی ویکسینیشن سے انکار کیا۔

افتخار نے کہا کہ فاٹا میں جون 11-13 کی ویکسینیشن مہم میں صرف 242 والدین نے ویکسین سے انکار کیا۔

آئمہ، والدین حفاظتی قطرے پلانے کی حمایت کرتے ہیں

فاٹا کے مکین، جنھیں تیزی سے پھیلتے پولیو کے المناک سال یاد ہیں، یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ وہ واپس نہ لوٹیں۔

فاٹا کے رہائشی مولانا حضرت شاہ نے طالبان کے جھوٹ، اسلام ویکسی نیشن کی ممانعت کرتا ہے، کے سدباب کے لئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔

"ہم والدین کو قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ اپنے بچوں کو امراض کی تمام اقسام سے محفوظ رکھنا ان کا فرض ہے،" شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ فاٹا میں امام مسجد اور علمائے دین بچوں کی حفاظت کے لئے قطرے پلانے کی مہم کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا، فاٹا کے والدین اپنے بچوں کو پولیو کے خطرے سے دوچار کرنے پر طالبان کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا، "وہ تمام والدین جو طالبان کے فاٹا پر قبضے کے دوران اپنے بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے کے خواہشمند نہیں تھے اب ان کی ویکسی نیشن کے لئے بےتاب ہیں۔"

شمالی وزیرستان کا رہائشی خان نواب، جس کا بغیر ویکسی نیشن کا بڑا بیٹا 2013 میں پولیو سے متاثر ہوا، عسکریت پسندوں کی جانب سے ویکسی نیشن کی مخالفت پر غم وغصہ میں ہے۔

"وہ بچوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں،" انھوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "اپنے بچوں کی حفاظت میں مدد کے لئے میں نے پولیو ویکسی نیشن کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

پاکستان میں چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اثرورسوخ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

نتائج