|

صحت

فاٹا ایک سال سے پولیو سے پاک ہے

جاری عسکری کارروائیوں اور ویکسین پلانے والی ٹیموں کی جانفشانی بارآور ہوئی ہے اور 27 جولائی 2016 کے بعد سے اب تک وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں پولیو کا کوئی کیس نہیں ہوا ہے۔

از عدیل سعید


سنہ 2017 میں حفاظتی قطرے پلانے کی مہم کے دوران ایک خاتون فاٹا میں ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے۔ بہتر تحفظ اور محکمۂ صحت کے ملازمین کی ان تھک کوششوں نے قبائلی پٹی کو گزشتہ ایک سال سے پولیو سے پاک رکھا ہے۔ [تصویر بشکریہ فاٹا ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی)]

سنہ 2017 میں حفاظتی قطرے پلانے کی مہم کے دوران ایک خاتون فاٹا میں ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے۔ بہتر تحفظ اور محکمۂ صحت کے ملازمین کی ان تھک کوششوں نے قبائلی پٹی کو گزشتہ ایک سال سے پولیو سے پاک رکھا ہے۔ [تصویر بشکریہ فاٹا ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی)]

پشاور -- حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری عسکری کارروائیوں اور محکمۂ صحت کے اہلکاروں کے لیے بہتر رسائی کے نتیجے میں، گزشتہ برس وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات پولیو سے پاک رہے ہیں۔

فاٹا ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے ایک تکنیکی ترجمان، ڈاکٹر ندیم جان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فاٹا میں پولیو کا آخری کیس 27 جولائی 2016 کو سامنے آیا تھا، اور قبائلی علاقے نے اس کے بعد سے پولیو کا کوئی کیس نہ ہونے کی حیثیت کو برقرار رکھا ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ ایک بڑی کامیابی ہے: ایک ایسا خطہ جو پاکستان میں پولیو کے وائرس کے پھیلاؤ کا مرکز ہوا کرتا تھا اسے پولیو سے پاک کر دیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کا کریڈٹ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور محکمۂ صحت کے اہلکاروں کو جاتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "فوجی کارروائیوں نے فاٹا سے باغیوں کا صفایا کیا، جس سے امن بحال ہوا اور محکمۂ صحت کے اہلکاروں اور حفاظی قطرے پلانے والوں کے لیے ان علاقوں میں کام کرنے کا راستہ صاف ہوا جو [ماضی میں] امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے ان کی دسترس میں نہیں تھے۔"

اب وہ قبائلی پٹی کے کونے کونے میں جانے کے قابل ہیں، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں سے قبل، پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیمیں پورے فاٹا تک رسائی سے قاصر تھیں۔

جان نے فاٹا میں پولیو کے خاتمے کے منصوبے کی ارکان کی بہادری اور جذبے کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے پاکستانیوں کو مہلک مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔

انہوں نے کہا، "فاٹا کی حیثیت کو پولیو سے پاک برقرار رکھنا پاکستان کو وائرس سے پاک کرے گا اور اس خطرناک بیماری کے مکمل خاتمے کی غرض سے کی جانے والی عالمی کوششوں میں مدد کرے گا۔"

پاکستان دنیا میں صرف ان تین ممالک جہاں پولیو ابھی بھی وبائی مرض ہے میں سے ایک ہونے کی اپنی حیثیت کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ دیگر دو ممالک افغانستان اور نائیجیریا ہیں۔

پولیو کیسز میں ڈرامائی کمی

فاٹا میں ایک علاقائی ویکسینیشن مینیجر، محمد ریاض نے کہا، "سنہ 2014 میں، جب پاکستانی فوج نے فاٹا میں پناہ لینے والے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تھا، قبائلی علاقے سے 179 پولیو کیسز رپورٹ کیے گئے تھے، جو کہ گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار کے مقابلے میں بہت بلند تھے۔"

ریاض نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اس کے کچھ ہی دیگر بعد جب محکمۂ صحت کے اہلکاروں کی پورے فاٹا تک رسائی ہو گئی، فاٹا میں پولیو کیسز کی تعداد سنہ 2015 میں سکڑ کر 16 رہ گئی۔ سنہ 2016 میں، صرف دو کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سنہ 2014 میں پورے پاکستان سے پولیو کے 306 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ تعداد سنہ 2015 میں کم ہو کر 54 اور سنہ 2016 میں 19 رہ گئی۔ سنہ 2017 میں ابھی تک، پولیو کے صرف دو واقعات رپورٹ ہوئے ہیں: ایک پنجاب میں اور ایک گلگت بلتستان میں۔

انہوں نے کہا، "فاٹا میں ہر ماہ تقریباً دس لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔"

ریاض نے مزید کہا کہ جب والدین کو بیماری کے نقصانات اور ویکسین کی مصدقہ حفاظت کے بارے میں پتہ چلا تو بہت کم والدین اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کر رہے ہیں۔

جنوبی وزیرستان سے پولیو کے قطرے پلانے والے ایک اہلکار جنہوں نے حفاظتی وجوہات کی بناء پر نام صیغۂ راز میں رکھنے کی درخواست کی، پاکستان فارورڈ کو بتایا، "شورش زدہ فاٹا میں پولیو کے قطرے پلانا ایک انتہائی خطرناک کام ہے، اور ہم حب الوطنی کے جذبے سے اپنی جانیں جوکھم میں ڈال رہے ہیں۔"

دسمبر 2013 کے بعد سے پاکستان میں تقریباً 40 پولیو اہلکار اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس افسران کو قتل کیا جا چکا ہے، تاہم 2016 میں حفاظت بہتر ہونے سے، قتلوں کی رفتار تیزی سی کم ہوئی۔

پولیو کے قطرے پلانے والے اہلکار نے ٹیلی فون انٹرویو میں کہا، "فاٹا ایک مشکل علاقہ ہے، ہمیں پہاڑیاں چڑھنے کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں میں جانا پڑتا ہے یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ہر بچے کو مامون بنا دیا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "بعض اوقات لوگ مزاحمت کرتے ہیں اور [ویکسین کے متعلق] تحفظات کا اظہار کرتے ہیں، لیکن علاقے میں بااثر شخصیات بشمول عمائدین، کی مدد سے ۔۔۔ وہ اہلکاروں کو اپنے بچوں کو قطرے پلانے دیتے ہیں۔"

اہلکار نے کہا، "ہمارے بچوں کے تحفظ اور صحت کے لیے، ہم تمام مشکلات اور خطرات کے باوجود اپنا کام جاری رکھیں گے۔"

شعور میں اضافہ

فاٹا ای او سی کے ترجمان عقیل احمد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یونیسیف (اقوامِ متحدہ کا فنڈ برائے اطفال) اور ای او سی نے مطبوعہ مواد کو پھیلاتے ہوئے، فاٹا کی ممتاز شخصیات اور خطے میں مساجد کے اماموں کو پولیو کے اثرات کے متعلق خطبات کے ذریعے عوام کو تعلیم دینے میں شامل کرتے ہوئے پولیو ویکسین کے متعلق غلط فہمیوں کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ کام کیا۔"

انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسین کے فوائد کو سمجھنے میں عوام کی مدد کے لیے مختلف زبانوں میں دو کتابچے تیار اور شائع کیے گئے ہیں۔ ایک اکثر پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتا ہے، جبکہ دوسرا پولیو ویکسینیشن کی حمایت میں علماء کے دینی فتوے فراہم کرتا ہے۔ ‎ ‎

خیبرپختونخوا کے گورنر ظفر اقبال جھگڑا نے 26 جولائی کو ایک بیان میں کہا کہ پولیو سے پاک فاٹا "ایک نمایاں سنگِ میل" ہے۔

انہوں نے اس ہدف کے حصول میں جانفشانی سے کی گئی کوششوں کے لیے ای او سی کے رابطۂ کار ڈاکٹر فدا محمد وزیر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی۔

ڈان کے مطابق، وزیر نے کہا، "ہمیں فاٹا کو ہمیشہ کے لیے پولیو سے پاک رکھنے کی جدوجہد جاری رکھنی چاہیئے، جو کہ بہت زیادہ ممکن ہے۔"

نیشنل ایمرجنسی ایکشن پلان 18-2017 کے مطابق، حکام خواتین ویکسینیشن ٹیموں کو بھرتی کر رہے ہیں - جنہیں ماؤں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے جنسی رکاوٹ کے متعلق کوئی پریشانی نہیں ہوتی - اور ہر بچے کو ٹیکا لگانے کو یقینی بنانے کے لیے چھوٹی سطح پر منصوبوں پر توجہ کی تجدید کر رہے ہیں۔

ڈان کے مطابق، وزیر نے کہا کہ فاٹا کی حفاظتی ٹیکوں پر توسیعی پروگرام ٹیم خطے کو پولیو سے پاک رکھنے کے لیے محنت کرنا جاری رکھے گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج