رمضان

سیکیورٹی میں بہتری کی وجہ سے رمضان کے آخری ایّام میں خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔

عسکریت پسند ایمان داروں کو دھوکے یا زورِ بازو پر زکوة اور فطرانہ جعلی خیراتی اداروں کو دینے پرمجبور کرتے ہیں -- حکام نے متنبہ کیا ہے کہ یہ رقم ضرورت مندوں کی مدد کی بجائے ہتھیار اور بم خریدنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

کراچی میں ہونے والی نمائش جون کے آخر تک جاری رہے گی۔

بہت سے شہری جو ٹی ڈی پی (عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد) کے کیمپوں میں مردہ دلی سے رہ رہے تھے، یہ ان کی تین سال بعد اپنے گھروں میں پہلی عید ہو گی۔

رات کی کرکٹ، والی بال، اور فٹ بال ٹورنامنٹس مختلف قومیتوں اور عقیدوں کے نوجوانوں کو اپنی طرف کھنیچتے ہیں اور رمضان کی روایات کا ستون بن گئے ہیں۔

پولیس پرامن ماہِ مقدس کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مہینے میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

سول سوسائٹی کے گروپوں نے متنبہ کیا ہے کہ عسکریت پسند جعلی فلاحی ادارے قائم کر کے، مسلمانوں کے مقدس مہینے کے دوران پاکستانیوں کی دریا دلی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

جنگجو رمضان کے دوران کافی زیادہ تعداد میں پیسے اکٹھے کرتے ہیں، جو کہ عوام کی خیراتی فطرت کا غلط استعمال ہے۔