سیاست

ماہرین نے آئی آر جی سی کی طرف سے جہازوں سے آبنائے ہرمز میں فارسی استعمال کرنے کے مطالبے کی مذمت کی ہے

از پاکستان فارورڈ

ایران کی، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ہراساں کرنے کی ایک تاریخ موجود ہے۔ [کوجارو]

ایران کی، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ہراساں کرنے کی ایک تاریخ موجود ہے۔ [کوجارو]

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) خلیج میں بین الاقوامی بحری قوانین اور ضوابط کو چیلنج کرنا جاری رکھے ہوئے ہے، حال ہی میں بحری جہازوں پر نئے مطالبات عائد کیے گئے ہیں جن کا بظاہر مقصد پریشانیاں پیدا کرنا ہے۔

ایران کے ذرائع ابلاغ نے 23 جون کو خبر دی تھی کہ فتنہ پردازی کے تازہ ترین دور میں، آئی آر جی سی بحریہ (آئی آر جی سی این) کے کمانڈر علی رضا تنگسیری نے اعلان کیا کہ " آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو اپنی شناخت فارسی میں کروانی چاہیے۔"

انہوں نے کہا کہ "آج اسلامی جمہوریہ، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے داخلی راستے کو کنٹرول کرنے کی ذمہ دار ہے اور ہمارا پڑوسی ملک عمان اس کے نکاس کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ہے۔"

بی بی سی کے مطابق، اپنے تنگ ترین مقام پر، آبنائے ہرمز اور اس کی شپنگ لین مکمل طور پر ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے اندر واقع ہیں۔

آئی آر جی سی این کے کمانڈر علی رضا تنگسیری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو 'فارسی میں اپنی شناخت کروانی چاہیے'۔ [فارس]

آئی آر جی سی این کے کمانڈر علی رضا تنگسیری نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو 'فارسی میں اپنی شناخت کروانی چاہیے'۔ [فارس]

فجیرہ کی اماراتی بندرگاہ 2 جولائی 2019 کو یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ آئی آر جی سی این کی طرف سے عالمی سمندری قانون کی خلاف ورزی نے آبنائے ہرمز کے قریب خلیج میں نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے۔ [کریم صاحب/اے ایف پی]

فجیرہ کی اماراتی بندرگاہ 2 جولائی 2019 کو یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ آئی آر جی سی این کی طرف سے عالمی سمندری قانون کی خلاف ورزی نے آبنائے ہرمز کے قریب خلیج میں نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے۔ [کریم صاحب/اے ایف پی]

اُس نے یہ بات نوٹ کرتے ہوئے کہ "ایران کو اپنے علاقائی پانیوں میں کام کرنے کی اجازت ہے -- لیکن غیر ملکی بحری جہازوں کے گزرنے کے حق کی قیمت پر نہیں" کہا کہ مگر بین الاقوامی ضوابط، بحری جہازوں کو ریاست کے علاقائی پانیوں سے گزرنے کا حق دیتے ہیں۔

1988 میں، بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے "سی سپیک" بنایا جو کہ انگریزی پر مبنی ہے -- پھر سمندر اور شہری ہوا بازی میں استعمال ہونے والی سب سے عام زبان -- سمندر کی سرکاری زبان ہے، جسے تمام ممالک کے جہاز رابطے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سی سپیک کے استعمال کی بنیادی وجہ حفاطت ہے، جسے بعد کے سالوں میں مزید ترقی یافتہ اور بہتر بنایا گیا ہے۔

نومبر 2001 میں، آئی ایم او کی 22 ویں اسمبلی نے آئی ایم او سٹینڈرڈ میرین کمیونیکیشن فریسز (ایس ایم سی پی) کو اپنایا اور تمام ممکنہ صارفین اور تمام میری ٹائم ایجوکیشن اتھارٹیز کے درمیان اسے وسیع پیمانے پر پھیلانے کی سفارش کی تھی۔ یہ بات اس کی ویب سائٹ پر بتائی گئی ہے۔

ایس ایم سی پی نے 1977 میں آئی ایم او کے ذریعہ اختیار کردہ معیاری میرین نیویگیشنل ووکیبلری (ایس ایم این وی) کی جگہ لے لی (اور 1985 میں ترمیم کی گئی)، اور تب سے یہ بین الاقوامی سمندری مواصلات کی زبان ہے۔

یہ انگریزی کے بنیادی علم پر مبنی ہے اور اس کا خاکہ سمندری انگریزی کی آسان شکل میں تیار کیا گیا ہے۔ اس میں معمول کے حالات میں استعمال کے لیے فقرے اور اس کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات میں استعمال کرنے کے لیے معیاری جملے اور جوابات شامل ہیں۔

آئی آر جی سی کے 'بے خبر' اہلکار

ایرانی ذرائع ابلاغ نے تنگسیری کے حالیہ تبصرے کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا، جہاں انہیں ایرانیوں کی جانب سے تنقید اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ایک صارف نے پوسٹ کیا کہ "آئی آر جی سی کے یہ اہلکار بے خبر ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین سے ناواقف ہیں"۔

ایک اور صارف نے طنزیہ طور پر تبصرہ کیا کہ "زبردست! اب یہ تھوڑی سی انگریزی جو آئی آر جی سی فورسز نے ضرورت کے تحت بولنی تھی، بھی مٹا دی جائے گی!" ایک اور صارف نے جواب دیا کہ "نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ انہیں انگریزی پر قائم رہنا ہو گا۔ یہ صرف قوم کے لیے شرمناک ہے۔"

ایران میں موجود کچھ لوگ آبنائے ہرمز میں فارسی مواصلات پر حالیہ اصرار کو منافقانہ سمجھتے ہیں، اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہ حکومت کی زبان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

تہران میں مقیم فارسی ادب کے پروفیسر جنہوں نے اس سے قبل اسکول کی نصابی کتابوں پر کام کرنے والی ٹیم میں خدمات انجام دی ہیں، فارسی زبان کی اہمیت پر حکومت کی عدم توجہی کو اجاگر کیا ہے۔

انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر المشارق کو بتایا کہ "میں اور میرے ساتھی برسوں سے، ایرانی حکام کی توجہ فارسی زبان کی اہمیت کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "ہماری ہمیشہ حوصلہ شکنی کی گئی ہے خاص طور پر ابراہیم رئیسی کے دور صدارت میں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "حکومت عربی کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ یہ اسلام کی زبان ہے۔ اگر حکام کے اختیار میں ہوتا تو وہ فارسی زبان اور ایرانی ثقافت کو بالکل مٹا دیتے۔ اب اچانک وہ فارسی کے حامی کیسے ہو گئے ہیں؟"

پہلی بار نہیں

2020 کے ایک انٹرویو میں، ڈپٹی آئی آر جی سی کمانڈر اور آئی آر جی سی این کے سابق کمانڈر علی فدوی نے دعویٰ کیا کہ 1990 کی دہائی میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے امریکی جہازوں کے کپتانوں کو فارسی میں بات کرنے کو کہا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "90 کی دہائی میں ایک دن، میرے دور میں، ہم نے کہا کہ 'یہ خلیج فارس ہے اور آپ کو فارسی میں بات کرنی چاہیے۔' اس کے بعد سے، امریکی -- اور بعد میں غیر امریکی -- اہلکاروں نے اپنے جہازوں پر فارسی بولنے والے لوگ رکھے ہوئے تھے"۔

اپنے تبصرے کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ "فارسی بولنے والے ایرانی نہیں ہیں -- وہ امریکی ہیں، لیکن روانی سے فارسی بولتے ہیں۔"

انہوں نے ہنستے ہوئے مزید کہا کہ "یقیناً ہم نے اس اصول کو 100 فیصد نافذ نہیں کیا، کیونکہ یہ ہمارے اپنے عملے کو انگریزی بولنے سے روک سکتا تھا۔"

ماہرین نے ان کے تبصرے کو "اشتعال انگیز مطالبہ" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

ایرانی بحریہ کے ایک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر المشارق کو بتایا کہ "یہ آئی ایم او کے قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہو گی۔ مزید برآں، یہ اسی وجہ سے قابلِ نفاذ نہیں ہو گا۔"

"جب تین سال پہلے فدوی نے یہ تبصرہ کیا تھا تو جس کے پاس سمندری علم کا ایک اونس بھی تھا اس نے اِس کا مذاق اڑایا تھا۔"

ہراساں کرنے کی تاریخ

آئی آر جی سی کی آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو ہراساں کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے کہا کہ 14 جون کو، ذرائع ابلاغ کی خبروں میں اشارہ دیا گیا کہ ایران نے "خلیج میں مشقی جہاز کے خلاف ایک خودکش ڈرون کا تجربہ کیا اور علاقے میں بحری جہازوں کو خبردار کیے بغیر ایک اور میزائل یا ڈرون فائر کیا"۔

ایک نامعلوم امریکی اہلکار کے مطابق، ایران "بنیادی طور پر تجارتی جہازوں کو مارنے کی مشق کر رہا تھا۔ یہی وہ واحد وجہ ہے جس سے آپ خلیج عمان میں ایسا کریں گے"۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے مزید کہا کہ 4 جون کو، امریکہ اور برطانیہ کے جہازوں نے، ایک گشتی ہوائی جہاز کی مدد سے، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز کی طرف سے مدد کے لیے درخواست کا جواب دیا، کیونکہ آئی آر جی سی این کی تیز حملہ کرنے والی کشتیوں نے، تجارتی جہاز کو ہراساں کیا تھا۔

آئی آر جی سی این فورسز نے 3 مئی کو آبنائے ہرمز میں پاناما کے جھنڈے والے ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا، یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ہونے والا ایسا دوسرا واقعہ ہے۔

امریکی بحریہ نے بتایا کہ نیووی نامی ٹینکر دبئی سے اماراتی بندرگاہ فجیرہ کی طرف جا رہا تھا جب اسے مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 6 بج کر 20 منٹ پر روک دیا گیا۔

بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے 5ویں بحری بیڑے نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر خلیج میں اہم چوکی کی حفاظت کے لیے کام کر رہے ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ "ہم نے بار بار ایرانی دھمکیاں، ہتھیار ضبط کیے جانے کے واقعات اور تجارتی جہازوں کے خلاف حملے دیکھے ہیں جو بین الاقوامی پانیوں اور خطے کے اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں میں اپنے بحری حقوق اور آزادیوں کا استعمال کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ "امریکہ بیرونی یا علاقائی طاقتوں کو آبنائے ہرمز سمیت مشرق وسطیٰ کے آبی گزرگاہوں کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔"

27 اپریل کو، آئی آر جی سی این فورسز نے خلیج عمان میں بین الاقوامی پانیوں سے گزرنے والے، امریکہ جانے والے مارشل آئی لینڈ کے جھنڈے والے ٹینکر کو پکڑ لیا۔

5ویں بحری بیڑے نے کہا کہ "ایران کے اقدامات، بین الاقوامی قانون کے خلاف اور علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے خلل ڈالنے والے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500