| پناہ گزین

یو این ایچ سی آر نے پناہ گزینوں کو پناہ دینے پر پشاور اور غازی انتیپ کو ’جڑواں شہروں‘ کا خطاب دے دیا

عدیل سعید


3 جولائی کو ایک افغان محنت کش قالین سازی میں استعمال ہونے والا دھاگہ رنگ کر رہا ہے۔ پشاور میں سینکڑوں افغان ہاتھ سے بنے قالین تیار کرتے ہیں۔ [عدیل سعید]

3 جولائی کو ایک افغان محنت کش قالین سازی میں استعمال ہونے والا دھاگہ رنگ کر رہا ہے۔ پشاور میں سینکڑوں افغان ہاتھ سے بنے قالین تیار کرتے ہیں۔ [عدیل سعید]

پشاور – اقوامِ متحدہ کے سفیر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے پشاور کو تنازع کی وجہ سے اپنے وطن کو چھوڑنے پر مجبور افغان پناہ گزینوں کو پناہ دینے میں اس کے کردار کی وجہ سے "جڑواں شہر" کا خطاب دیا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا (کے پی) کے لیے یو این ایچ سی آر کے سربراہ دنیش شریستھا نے 20 جون کو کہا کہ الیپّو، شام کے ساتھ مشترکہ سرحد کے حامل غازی انتیپ کے ترک شہر کے ہمراہ پشاور کی بھی "پناہ گزینوں کے لیے غیر معمولی مہمان نوازی" کا مظاہرہ کرنے پر نشاندہی کی گئی۔

شریستھا نے کہا کہ یو این ایچ سی آر "انسانیت کے لیے ان کی خدمت کا اعتراف کرتا ہے اور عالمی برادری کے لیے ایک مثال پیش کرنے کے لیے دونوں شہروں کو’جڑواں شہر‘ قرار دیتا ہے۔"


3 جولائی کو پشاور میں ایک افغان دستکار لکڑی کے روائتی اوزاروں کے ذریعے قالین بُن رہا ہے۔ [عدیل سعید]

3 جولائی کو پشاور میں ایک افغان دستکار لکڑی کے روائتی اوزاروں کے ذریعے قالین بُن رہا ہے۔ [عدیل سعید]

شریستھا نے ڈسٹرکٹ ناظم پشاور محمّد عاصم سے ملاقات کے دوران کہا کہ اعلامیہ کے جزُ کے طور پر یو این ایچ سی آر اور پشاور کی ضلعی حکومت کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوں گے۔

شریستھا نے مزید کہا کہ یو این ایچ سی آر پاکستان – اور بطورِ خاص پشاور – کی دسیوں لاکھوں افغان پناہ گزینوں کے لیے کئی دہائیاں طویل مہمان نوازی کو سراہتا ہے۔

’کھلے دل سے‘ خوش آمدید

دنیش نے کہا کہ "جنگ سے متاثرہ افغانوں کو قبول کرنے اور انہیں جگہ دینےمیں پشاور کا کردار نہایت قابلِ ستائش اور عالمی برادری کے لیے بے دخل افراد کی میزبانی کرنے میں ایک عظیم مثال ہے۔"

عاصم نے کہا، "پشاور کے شہری – بطورِ خاص [کے پی] اور اس کے صدرمقام، پشاور—آنے والے افغان پناہ گزینوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کی خوب میزبانی کرتے ہیں۔"

عاصم نے کہا، "ہمارے پاس پاکستان میں مقیم تقریباً 1.4 ملین اندراج شدہ افغان پناہ گزین ہیں، اور عالمی برادری کو اس خیر سگالی کا اعتراف کرنا چاہیئے، جہاں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کو صحت، تعلیم، صاف پانی اور آزادیٴ حرکت سمیت برابری کی بنیاد پر سہولیات دستیاب ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اپنے ذاتی چیلنجز کے بوجھ تلے ہونے کے باوجود، پاکستان نے 28 جون کو افغان پناہ گزینوں کے قیام میں 2020 تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا۔

ترکی کے ایک صنعتی شہر غازی انتیپ نے"دولتِ اسلامیہ" (داعش) کی سفاکیوں سے فرارہونے کی کوشش کرنے والے تقریباً 3.6 ملین شامیوں کی میزبانی کی ہے۔

پاک-افغان عوام کے فورم کے ترجمان ناصر خان نے کہا، "یہ ایک نہایت اچھا فیصلہ ہے کیوں کہ پریشان حال انسانیت کے لیے پشاور اور غازی انتیپ کی جانب سے دکھایا جانے والا عزم نہایت قابلِ ستائش اور غیرمعمولی ہے۔"

ناصر نے کہا کہ انسانیت کے مفاد کی ایسی روایات کی تعریف اور حوصلہ افزائی ہونی چاہیئے اور دوسروں کے لیے تقلید کی غرض سے انہیں مثال بنا کر پیش کیا جانا چاہیئے۔

دیگر ممالک کے لیے ایک نمونہ

ناصر نے کہا کہ "پشاور اور غازی انتیپ اس امر کی اچھی مثالیں ہیں" کہ کیسے جنگ اور دہشتگردی سے فرار کے متلاشی دسیوں لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا، "تنازعات کی وجہ سے ایسے ہی پناہ گزینوں کو موصول کرنے والے دیگر ممالک" کو ان سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔

پشاور کے بوڑھ بازار کے ایک افغان تاجر حاجی منگل نے کہا، "پاکستان میں باشندوں نے نہ صرف پریشان حال افغان پناہ گزینوں کو پناہ دی، بلکہ انہوں نے ان کو باعزت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتے ہوئے اپنے معاش اور وسائل بھی ان کے ساتھ بانٹے۔"

منگل، جو 1980 کی دہائی کے اواخر میں اپنے لڑکپن میں پاکستان پہنچے، نے کہا کہ جب انہوں نے افغانستان چھوڑا تو ان کے پاس نہایت محدود وسائل تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلی مرتبہ یہاں پہنچے پر انہیں -- خلافِ توقع خوش دلی سے خوش آمدید کہا گیا۔

پشاور میں مقیم، لیکن صوبہ غزنی، افغانستان میں پیدا ہونے والے ایک نوجوان لڑکے محمّد یاسر نے کہا، "میرے لیے پاکستان مادری سرزمین جیسا ہے، جہاں میں پیدا ہوا اور پروان چڑھا۔"

اس نے کہا کہ اس نے لڑکپن میں اپنے ہم وطنوں کی طرح جنگ اور دہشتگردی کی وجہ سے تباہی اور پریشانی کا سامنا نہیں کیا۔

یاسر نے کہا ابھی تک، پاکستان کی جانب سے افغانستان کو پیش کی جانی والی کئی دہائیاں طویل میزبانی بے مثال ہے، اور یہ خیر سگالی سزاوار ہے کہ اس کی ازحد ستائش کی جائے اور ان ممالک کے لیے اسے خط کشیدہ کیا جائے جن کے ہمسائے مشکل میں ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

18
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha