| دہشتگردی

کراچی کے علمائے دین اور فعالیت پسند فرقہ ورانہ تنازع کے خاتمہ کے لیے متحد

ضیاء الرّحمٰن


13 جون کو مری میں کراچی کے علمائے دین اور سول سوسائٹی کے فعالیت پسند فرقہ ورانہ فسادات کی بیخ کنی اور بین العقائد رواداری کو فروغ دینے کی غرض سے ایک مشترکہ فورم تشکیل دینے کے لیے جمع ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

13 جون کو مری میں کراچی کے علمائے دین اور سول سوسائٹی کے فعالیت پسند فرقہ ورانہ فسادات کی بیخ کنی اور بین العقائد رواداری کو فروغ دینے کی غرض سے ایک مشترکہ فورم تشکیل دینے کے لیے جمع ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

کراچی – علمائے دین، سول سوسائٹی فعالیت پسند اور میڈیا کے نمائندگان فرقہ ورانہ فسادات کے خاتمہ اور خطے میں بین العقائد رواداری کو فروغ دینے کے لیے مل کر کراچی آئے۔

11 تا 13 جون کو 30 سے زائد شرکاء نے کراچی میں فرقہ ورانہ تشد، اس کے اثرات اور اس میں تخفیف کے طریقوں پر بات چیت کرنے کے لیے مری میں اجلاس منعقد کیا۔

اس اجلاس کا آغاز حکومت کو اسلامی امور پر تجاویز فراہم کرنے والے ایک ریاستی ادارے کاؤنسل آف اسلامک آئڈیالوجی (سی آئی آئی) نے ایک اسلام آباد اساسی خودمختار وکالتی گروہ بین الاقوامی تحقیقاتی کاؤنسل برائے مذہبی امور (آئی آر سی آر اے) کے ساتھ اشتراک سے کیا۔

اجتماع کے شرکاء نے اعتراف کیا کہ کراچی 2007 سے فرقہ ورانہ تشدد سے متاثر ہے، اور عسکریت پسند علمائے دین، قائدین اور مدرسوں کے طلباء کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں اور تاجروں جیسے پیشہ وران کو بھی ہدف بناتے ہیں۔

انہوں نے "ایک پر امن کراچی" کہلائے جانے والے ایک اقدام کا آغاز کرنے پر اتفاق کیا، جو ایک ایسا فورم ہے جس میں سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ ساتھکو نمائندگی دی جائے گی۔کو نمائندگی دی جائے گی۔

ئی آر سی آر اے کے ڈائریکٹر اور تقریب کے مرکزی منتظم محمّد اسرار مدنی نے کہا کہ اس فورم کا مقصد رواداری کے فروغ کے لیے مشترکہ راہوں کی نشاندہی کی غرض سے مختلف فرقوں اور عقیدوں کے علما کو اکٹھا کرنا ہے۔

مدنی نے ایک انٹرویو میں کہا، "یہ فورم ساتھی شہریوں کی بین العقائد رواداری کے حق میں اور ملک میں بڑھتے ہوئے تعصب اور دہشتگردی کی مذمت میں آواز بلند کرنے میں مدد کرے گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فورم تشدد اور نقصِ امن کی کالز کے خلاف کاروائی کرے گا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ متعدد عقائد اور فرقوں میں رواداری کو فروغ بھی دے گا۔

طے کیا گیا ہے کہ کراچی میں فرقہ ورانہ تشدد میں جاںبحق ہونے والوں یا نشانہ بننے والوں کے رشتہ دار اس فورم میں شریک ہوں گے۔

مارچ میں ملک کے ممتاز عالمِ دین اور وفاقی شرعی عدالت کے سابق جج مفتی تقی عثمانی کراچی میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اپنی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دینے کے لیے جاتے ہوئے ایک قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔

ان کے بھتیجے، مفتی زبیر اشرف عثمانی، جو خود بھی—ملک کے ایک کلیدی مدرسے— دارالعلوم کراچی سے منسلک ایک عالمِ دین ہیں، بھی اس فورم میں شرکت کر رہے ہیں۔

مفتی تقی عثمانی نے ایک انٹرویو میں کہا، "فرقوں کے مابین تفریقات کے بجائے مشترکات کو فروغ دیا جانا چاہیئے۔ عسکریت پسند تفریقات کو استعمال کرتے اور دہشتگردانہ حملے کر کے خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔"

خدشات برقرار

متعدد حکومتی اور خودمختار ادروں کی جانب سے پالیسی پیپرز کے مطابق، کالعدم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کی وجہ سے ملک بھر اوربطورِ خاص کراچی میںفرقہ ورانہ تشدد میں کمی آئی ہے۔

ایک اسلام آباد اساسی خود مختار تھنک ٹینک پاک ادارہ برائے علومِ امن (پی آئی پی ایس) نے جنوری میں شائع ہونے والی اپنی سالانہ سیکیورٹی رپورٹ میں کہا کہ 2018 میں تیرہ دہشتگرد حملوں میں دیگر اسلامی فرقوں، کسی مذہبی اقلیت یا "مخالف فرقے کے گروہ" کو ہدف بنایا گیا۔ یہ 2017 کے مقابلہ میں نو حملے کم تھے۔

رپورٹ کے مطابق، کراچی میں ایک سے زائد برس کے کریک ڈاؤن کی وجہ سے اسے گزشتہ دو برس سے فرقہ ورانہ تشدد کے محورومرکز علاقوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔

تاحال حکام کا کہنا ہے کہ وہ نگرانی کم نہیں کر رہے۔

کراچی میں ایک سینیئر انٹیلی جنس عہدیدار جنہیں مڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں، نے کہا، "اگرچہ ستمبر 2013 میں شروع ہونے والے جاری کریک ڈاؤن نے طالبان گروہوں، نسلی سیاسی جماعتوں کی مسلح شاخوں اور مجرمانہ گینگز کو کمزور کر دیا ہے، تاہم ابھی بھی فرقہ ورانہ تشدد نفاذِ قانون کی ایجنسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔"

داعش گھات میں

حکام کے مطابق، "دولتِ اسلامیہٴ" (داعش)بھی ملک میں فرقہ ورانہ نقائص کا استعمال کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی عناصر، بطورِ خاص مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں بحران اور خطے میں داعش کا پھیلاؤ کراچی میں فرقہ ورانہ فسادات پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

پی آئی پی ایس کی رپورٹ کے مطابق، 2018 میں داعش نے والے بلوچستان میں چار اور کے پی میں ایک حملہ کرتے ہوئے بلوچستان اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں اپنی موجودگی کا مظاہرہ کیا، ان حملوں میں 224 افراد جاںبحق اور 301 کے زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا، "داعش افغانستان اور پاکستان، ہر دو میں فرقہ ورانہ دہشتگردانہ حملوں میں ملوث ہو رہی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

6
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha