| ٹیکنالوجی

امریکہ کی جانب سے ہواوی پر پابندی کی وجہ سے پاکستان میں اس کمپنی کے سمارٹ فونز غیر یقینی کا شکار

جاوید محمود


جولائی 2018 میں اسلام آباد میں ایک طالبہ کیمپس میں اپنا سام سنگ سمارٹ فون استعمال کر رہی ہے۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس کمپنی پر پابندیاں لگانے کے امریکی فیصلہ کے بعد مارکیٹس میں ہواوی سمارٹ فونز کی طلب میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

جولائی 2018 میں اسلام آباد میں ایک طالبہ کیمپس میں اپنا سام سنگ سمارٹ فون استعمال کر رہی ہے۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس کمپنی پر پابندیاں لگانے کے امریکی فیصلہ کے بعد مارکیٹس میں ہواوی سمارٹ فونز کی طلب میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

اسلام آباد – امریکہ کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے امریکی کمپنیوں کو چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوی کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکنے کے اقدام کی بازگشت پاکستان سمیت دنیا بھر میں سنائی دے رہی ہے۔

اے ایف پی نے خبر دی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 مئی کو امریکی کمپنیوں کو غیر ملکی ٹیلی کام آلات استعمال کرنے سے روکنے کے لیے قومی ہنگامی صورتِ حال کا اعلان کرتے ہوئے ہوئے اسے سیکیورٹی خدشہ قرار دیا، یہ اقدام بظاہر ہواوی کو ہدف بناتا ہے۔

واشنگٹن کے طویل عرصہ سے یہ خدشات تھے کہ چین سے بھیجے جانے والی ٹیکنالوجی اور آلات جاسوسی اور سبوتاژ کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ چند قانون سازوں نے ہواوی کو "حکومتِ چین کا ایک موثر ہتھیار" قرار دیا۔


2 جون کو اسلام آباد کی بلیو ایریا مارکیٹ میں ایک سمارٹ فون فروشندہ ہواوی اور دیگر برانڈز کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کر رہا ہے۔ [جاوید محمود]

2 جون کو اسلام آباد کی بلیو ایریا مارکیٹ میں ایک سمارٹ فون فروشندہ ہواوی اور دیگر برانڈز کی تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کر رہا ہے۔ [جاوید محمود]

اگرچہ اس حکم میں ہواوی کا بطورِ خاص ذکر نہیں کیا گیا، تاہم امریکی محکمہٴ کامرس ٹیکنالوجی کے اس دیو پیکر کاروبار کی مزید براہِ راست طور پر پیروی کرتے ہوئے اسےایران کی پابندیوںکی مبینہ خلاف ورزیوں پر اپنی "اداراتی فہرست" میں شامل کر لیا۔

یہ فہرست امریکی فرمز سے اس فہرست پر موجود شخص یا کمپنی کو امریکی ٹیکنالوجی کی فروخت یا منتقلی کے لیے حکومت سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی متقاضی ہے۔

گوگل نے بھی اس فہرست پر عملدرآمد کرتے ہوئے 19 مئی کو ہواوی کا اینڈرائڈ لائسنس منسوخ کرتے ہوئے اسے گوگل کی کلیدی ایپس اور خدمات سے منقطع کر دیا۔

غیر یقینی

پاکستان تقریباً 1 بلین ڈالر (146.9 بلین روپے) سالانہ موبائل فونز کی درآمد پر صرف کرتا ہے، جن میں سے زیادہ تر چین سے آتے ہیں۔

ہواوی 2012 میں پاکستانی منڈی میں وارد ہوا۔ گزشتہ چند برسوں میں، فروشندوں کے مطابق، یہ کمپنی چوٹی کے دو تیز ترین شرحِ نمو کے حامل برانڈز میں سے ایک کے طور پر سامنے آئی ہے، جبکہ سام سنگ منڈی کا سربراہ برقرار رہا ہے۔

Honor 85 اور Y6 ہواوی کے سب سے کم قیمت سمارٹ فون ہیں۔ یہ بالترتیب 120 ڈالر (18,000 روپے) اور 144 ڈالر (21,000 روپے) میں فروخت ہوتے ہیں۔

توقع ہے کہ ہواوی پر امریکی حکومت کی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان میں چینی موبائل فونز کی طلب کم ہو گی اور درآمدات میں کمی آئے گی۔

پاکستان میں ہواوی کی مصنوعات کا کاروبار کرنے والوں اور صارفین نے اس کمپنی کے سمارٹ فونز کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی کی صورتِ حال پر ایک "دیکھو اور انتظار کرو" کی حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے۔

اسلام آباد کے G-9 مرکز میں موبائل فون کے ایک تاجر ایاز نذیر نے کہا، "سام سنگ کے بعد، حالیہ مہینوں میں، ہواوی کے سمارٹ فون پاکستان میں سب سے تیزی سے نمو پانے والے برانڈ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔"

نذیر کے مطابق، ممکنہ خریدار اس امر سے متعلق سوالات کر رہے ہیں کہ آیا ان فونز پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسا کہ فیس بک اور ٹویٹر کی رسائی ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا، "فی الوقت ہم اپنے گاہکوں کو اس وقت تک دیگر سمارٹ فونز خریدنے کا کہہ رہے ہیں جب تک کہ امریکہ-ہواوی مسئلہ حل نہ ہو جائے۔"

اسلام آباد ہی کے ایک اور سمارٹ فون فروشندہ ابراہیم خان نے کہا، "اگر ہواوی عالمی سوشل میڈیا نیٹ ورکس تک بے روک رسائی کو یقینی بنانے میں ناکام رہی تو کمپنی ہم سے اپنے سمارٹ فونز واپس لے لے گی۔"

انہوں نے کہا، "گاہک ہواوی خریدتے ہوئے خدشات کا اظہار کرتے ہیں، اور ہم انہیں سام سنگ یا دیگر پائدار برانڈ خریدنے کا کہہ رہے ہیں۔"

خان کے مطابق، سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہواوی پر پابندیاں لگانے کے امریکی فیصلے کے بعد اس کمپنی کے سمارٹ فونز کی طلب میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

G-8 مرکز کے ایک رہائشی فرخ چودھری نے کہا، "میں نے ہواوی سمارٹ فون خریدنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ایک سمارٹ فون خریدنے کا بنیادی مقصد گوگل، فیس بک، انڈرائڈ اور دیگر خدمات تک فوری رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔"

چودھری نے کہا، "اگر یہ سب دستیاب نہیں تو سمارٹ فون خریدنے کا مقصد کیا ہے؟ اب میں کسی دوسرے معروف برانڈ کا فون تلاش کروں گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

82
21
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 06-14-2019

یہ صرف ٹیکنالوجی کی جنگ ہے دیکھیں کون جیتتا ہے ۔۔۔میرے خیال میں اس کے لیے تخریبی حربے استعمال نہیں کرنے چاہئیں ۔۔۔شکریہ

جواب