http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/10/29/feature-01
| ٹیکنالوجی

جلد ہی تمام غیر اندراج شدہ موبائل فون غیر فعال ہو جائیں گے

اشفاق یوسفزئی

26 اکتوبر کو پشاور، خیبر پختونخوا میں ایک پاکستانی موبائل فون صارف ایک موبائل ہینڈ سیٹ کی تصدیق کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو ایک ٹیکسٹ میسیج ارسال کر رہا ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور – پاکستان چوری اور دہشتگردانہ سرگرمیوں اور دیگر جرائم میں غیر اندراج شدہ فونز کے استعمال کے واقعات کو کم کرنے کے لیے موبائل فونز کو ریگولیٹ کرنے کے ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

20 اکتوبر تمام غیر اندراج شدہ موبائل ہینڈ سیٹس کے غیر فعال ہونے کی اصل تاریخ تھی، لیکن پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے حکام کو عوام کو آگاہ کرنے کے لیے مناسب وقت دینے کے لیے ڈیوائس آئیڈینٹیفیکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے نفاذ کو مؤخر کر دیا۔

سینیٹ کی سٹنڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی چیئر پرسن روبینہ خالد نے 25 اکتوبر کو پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس سے پریشانی پیدا ہو رہی تھی، ہم فونز کو ریگولیٹ کرنا چاہتے ہیں لیکن سہولیات کے انقطاع سے قبل صارفین کو مطلع کیا جانا چاہیئے۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے فی الحال اس منصوبے کے نفاذ کو روک دیا ہے۔"

حکام میڈیا اور موبائل فون کی دکانوں پر عوام کو اس تبدیلی سے مطلع کرنے کے لیے آگاہی مہمات چلانے کے بعد جلد ہی اس پروگرام کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

دہشتگردی، جرائم میں کمی

پشاور، خیبر پختونخواہ میں ایک سابق پولیس افسر ہدایت الرّحمٰن نے دلیل دیتے ہوئے کہا، "اس اقدام سے موبائل فونز کی چوری، ڈکیتیوں اور دہشتگردی جیسے جرائم میں کمی آئے گی۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "جب موبائل ہینڈ سیٹ حکومت کے پاس درج ہوں، تو مالکان انہیں مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔"

ماضی میں دہشتگردوں نے ٹیکنالوجی کے دیگر غلط استعمال کے ساتھ ساتھ بم فعال کرنے کے لیے بھی موبائل فون استعمال کیے ہیں۔

پشاور میں فارنزک سائنس لبارٹری میں ایک پولیس اہلکار اکبر خان نے کہا کہ ڈی آئی آر بی ایس سے موبائل فون چھینے جانے کی انسداد ہو سکے گی کیوں کہ چوری شدہ فون استعمال نہ ہو سکیں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس سے عمومی جرائم میں بھی کمی آئے گی، کیوں کہ پولیس مجرموں کے استعمال میں آنے والے کسی بھی اندراج شدہ نمبر کو ٹریک کر سکے گی۔" انہوں نے مزید کہا کہ قبل ازاں پولیس غیر قانونی موبائل فونز کو ٹریس نہیں کر سکتی تھی۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سنیئر سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے کہا کہ یہ نیا منصوبہ دہشتگردوں کے کمیونیکیشن نیٹ ورک کو منتشر کرنے میں بھی مدد کرے گا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ منصوبہ ان عسکریت پسند تنظیموں کے لیے ایک شدید دھچکہ ہو گا جو دہشتگردانہ اقدامات کرنے میں موبائل فونز پر منحصر ہوتے ہیں۔"

حکومت اور فون ڈیلرز کو فوائد

ڈان کے مطابق، پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل برائے خدمات طالب ڈوگر نے کہا کہ یہ نیا نظام حکومت کی سالانہ ٹیکس آمدنی کو 170 ملین ڈالر تا 200 ملین ڈالر (22 بلین روپے تا 26 بلین روپے) تک بڑھا دے گا۔

انہوں نے کہا، "ہم صرف پی ٹی اے سے منظور شدہ فون سیٹ خریدنے کی سفارش کرتے ہیں،" انہوں نے مزید کہا کہ صارفین کو چاہیئے کہ نیا ہینڈ سیٹ خریدنے سے قبل اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ آیا وہ ریگولیٹری معیارات پر پورا اترتا ہے، نئے ہینڈسیٹ کے ڈبے پر چھپا ہوا انٹرنیشنل موبائل ایکویپمنٹ آئیڈینٹیٹی (آئی ایم ای آئی) نمبر 8484 پر ارسال کریں۔

آئی ایم ای آئی موبائل فونز کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والا ایک منفرد نمبر ہے۔

ڈوگر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے صارفین کو "دو ہفتوں کے اندر پی ٹی اے کے ساتھ اس فون کے آئی ایم ای آئی کا اندراج کروانا ہو گا" جو حالیہ ہینڈ سیٹ پر ایک نیا سبسکرائیبر آئیڈینٹٹی ماڈیول (سِم) کارڈ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کاروائی موبائل فون آپریٹرز، ڈسٹریبیوٹرز اور صارفین کے لیے یکساں طور پر مددگار ہو گی۔

پشاور میں موبائل فون کی ایک دکان کے مالک، سلیم خان نے کہا کہ غیر اندراج شدہ موبائل فونز کی فروخت نے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ اور دہشتگردوں کی بھی مدد کی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
5
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha