| سلامتی

شکست خوردہ داعش جنگجوؤں کے بیوی بچوں کو بے ملک و قوم مستقبل کا سامنا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی


شام، باغوز میں – "دولتِ اسلامیہٴ عراق و شام" (داعش) کے علاقہٴ عملداری کے آخری ٹکڑے سے نکالے گئے شہری کردش قیادت میں، امریکی پشت پناہی کی حامل شامی جمہوری افواج کی جانب سے چھان بین کے منتظر ہیں۔ 23 مارچ کو باغوز کا سکوت ہوا۔ [بلینٹ کِلِک/اے ایف پی]

شام، باغوز میں – "دولتِ اسلامیہٴ عراق و شام" (داعش) کے علاقہٴ عملداری کے آخری ٹکڑے سے نکالے گئے شہری کردش قیادت میں، امریکی پشت پناہی کی حامل شامی جمہوری افواج کی جانب سے چھان بین کے منتظر ہیں۔ 23 مارچ کو باغوز کا سکوت ہوا۔ [بلینٹ کِلِک/اے ایف پی]

لندن – دنیا بھر کے ممالک نہ صرف "دولتِ اسلامیہٴ عراق و شام" (داعش) کے زیرِ حراست جنگجوؤں بلکہ ان کے بیوی بچوں کی شہریت منسوخ کر رہے ہیں، جس سے نوجوانوں کی ایک نسل کے لیے بے ملک و قوم مستقبل کی ایک بلا پیدا ہو رہی ہے۔

گزشتہ ماہ شام میں اس گروہ کی نام نہاد "خلافت" کے سکوتکے بعد، ہزاروں جنگجو، عورتیں اور بچے متعدد کیمپوں میں پابند اپنے مقدر کے منتظر ہیں۔

سنڈے ٹائمز اخبار نے کہا کہ ایک واقعہ میں برطانیہ نے گزشتہ ماہ 2013 میں شام جانے کے لیے لندن چھوڑنے والی دو خواتین – 30 سالہ ریما اقبال اور اس کی 28 سالہ بہن زارا—کی شہریت منسوخ کر دی، اور اس اثناء میں ان کے آٹھ برس سے کم عمر کے پانچ لڑکے ہیں۔


مشرقی شام میں داعش کے خلاف ایک معرکے کے بعد امریکی پشت پناہی کی حامل افواج کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کے ایک گروہ کی فوٹو سوشل میڈیا پر گردش میں ہے۔ [فائل]

مشرقی شام میں داعش کے خلاف ایک معرکے کے بعد امریکی پشت پناہی کی حامل افواج کی جانب سے حراست میں لیے گئے افراد کے ایک گروہ کی فوٹو سوشل میڈیا پر گردش میں ہے۔ [فائل]

قانونی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اس اخبار نے کہا کہ انہیں ان کی برطانوی شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے۔

پاکستانی ثقافت کے حامل اس جوڑے نے مبینہ طور پر مغربی یرغمالوں کے قتل سے متعلقہ ایک دہشتگرد سیل میں شادی کی۔

بے ملک و قومیت

اس انکشاف کے بعد لدن کی ایک نوجوان شمیمہ بیگم سے متعلق بھی ایسا ہی فیصلہ آیا، جس کا نومولود بچہ مارچ میں ایک شامی پناہ گزین کیمپ میں جاںبحق ہو گیا۔

بیگم، جس نے ایک ولندیزی داعش جنگجو سے شادی کی، کواس دہشتگرد گروہ اور امریکی پشت پناہی کی حامل افواج کے مابین لڑائیسے فرار کے بعد صحافیوں نے ایک پناہ گزین کیمپ میں ڈھونڈ نکالا۔

2015 میں جب وہ سکول کی دو دیگر لڑکیوں کے ہمراہ لندن سے شام کے لیے گئی، تب وہ 15 برس کی تھی۔

بیگم، جو اب 19 برس کی ہے، نے فروری میں شام کے ایک پناہ گزین کیمپ میں ایک بیٹے کو جنم دینے کے بعد وطن واپس لوٹنے کی درخواست کی، لیکن لندن نے مسترد کر دیا۔ تین ہفتے کا بچہ جرّاح، نمونیہ سے جاںبحق ہو گیا۔

اس نے برطانوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دو دیگر بچے داعش کی حکمرانی کے دوران شام میں شیرخورگی ہی میں وفات پا گئے۔

سیکریٹری داخلہ ساجد جاوید نے سلامتی خدشات کے دوران اس کی شہریت منسوخ کر دی۔

قبل ازاں، ساجد جاوید نے کہا کہ 100 سے زائد افراد پہلے ہی اپنی برطانوی شہریت کھو چکے ہیں۔

بیگم کے اہلِ خانہ کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل نے مارچ میں جاوید کو خط لکھا، جس میں اس نے "رحم کے ایک اقدام کے طور پر" اسے اس کی برطانوی شہریت سے محروم کرنے کے 19 فروری کے فیصلہ کو بدلنے کی التجا کی۔

نتائج

اس بچے کی موت کے نتیجے میں سیکریٹری خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا کہ حکام اس امر پر کام کر رہے ہیں کہ داعش مفرورین کو پیدا ہونے والے برطانوی بچوں کو کیسے بچایا جائے۔

ہنٹ نے کہا کہ بیگم کے تیسرے بچے کی موت "ایک نہایت پریشان کن اور افسوس ناک صورتِ حال ہے" تاہم حکام کو علاقہٴ جنگ میں بھیجنا نہایت خطرناک ہے۔

انہوں نے مارچ میں بی بی سی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا، "جب شمیمہ نے [داعش] میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو وہ جانتی تھی کہ وہ ایک ایسے ملک جا رہی ہے جہاں کوئی سفارت خانہ نہ تھا، جہاں کسی کونسلر کی اعانت نہیں ہے۔"

"اور مجھے ڈر ہے کہ یہ فیصلے، اگرچہ ہولناک ہیں، نتائج کے حامل ہیں۔"

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی، عباد احمد، جو قبل ازاں برطانیہ میں مقیم تھے، نے کہا کہ یورپ اور شمالی امریکہ میں مہاجر ممالک سے بچے – بطورِ خاص لڑکیوں – کو شناخت کے بحران کا سامنا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ داعش جیسے عسکریت پسند گروہ ان کے احساسِ محرومی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کر کے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

احمد نے مزید کہا کہ "داعش انہیں زیادہ تر نہ صرف سوشل میڈیا اور کیمیونیٹی میں مزید ارکان بھرتی کرنے کے لیے بلکہ مختلف محاذوں پر لڑنے والے جنگجوؤں کے لیے ’بیویوں‘ کے طور پر بھی استعمال کرتا ہے۔"

کراچی سے ضیاء الرّحمٰن نے اس رپورٹ میں کردار ادا کیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

15
2
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 04-14-2019

انکے اوپر بھی اسی طرح پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جائے جسطرح انہوں نے مظلوم لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے.
یہ لوگ کسی بھی طرح سے رحم کے مستحق نہیں ہیں

جواب