http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/02/27/feature-01
| سفارتکاری

فضائی جھڑپ سے کشیدگی میں اضافے کے بعد خان نے مذاکرات کا مطالبہ کیا

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی

پاکستانی فوجی، اس جہاز کے ملبے کے پاس کھڑے ہیں، جسے بقول اسلام آباد کے، 27 فروری کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مار گرایا گیا تھا۔ ]اے ایف پی[

اسلام آباد -- دونوں فریقین کی طرف سے اس دعوی کے بعد کہ انہوں نے ایک دوسرے کے جنگی جہازوں کو مار گرایا ہے، پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بدھ (27 فروری) کو انڈیا کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

خان جنہوں نے ماضی میں بھی نئی دہلی کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے، نے ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے والے ایک بیان میں کہا کہ "میں ایک بار پھر انڈیا کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بہتر سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ اگر یہاں سے بات آگے بڑھی تو ہم کہاں جائیں گے؟"

پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہندوستانی پائلٹ ونگ کمانڈر ابہی نندن (دکھایا گیا) زیرِ حراست ہے۔ ]آئی ایس پی آر[

انہوں نے دونوں فریقین کے پاس موجود نیوکلیائی ہتھیاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "کیا ہم ان ہتھیاروں کے ساتھ جو کہ ہمارے پاس ہیں کسی قسم کی بھول چوک کو برداشت کر سکتے ہیں"۔

پاکستان نے اصرار کیا کہ وہ اپنے ہمسائے کے ساتھ "جنگ شروع کرنا نہیں چاہتا ہے"۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی نئی دہلی کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے، پریس کانفرنس کو بتایا کہ "ہم بات کو بڑھانا نہیں چاہتے، ہم جنگ کی طرف جانا نہیں چاہتے"۔

فضائی جھڑپیں

غفور نے کہا کہ اس سے پہلے پاکستانی جہاز لائن آف کنٹرول (ایل او سی) جو کہ کشمیر میں ڈی فیکٹو سرحد ہے، کے پار گئے تاکہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکیں۔ انہوں نے غیر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا جن میں سپلائی کے ڈپو بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد، دو ہندوستانی طیارے ایل او سی کو پار کر کے پاکستان کی فضائی حدود میں آ گئے۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستانی فضائیہ تیار تھی، انہوں نے ان کو گھیرے میں لے لیا، ان کا تصادم ہوا اور اس کے نتیجہ میں دونوں ہندوستانی جہاز مار گرائے گئے اور ایک کا ملبہ ہماری طرف گرا جبکہ دوسرے کا ملبہ ان کی طرف گرا"۔

غفور نے بعد میں ٹوئٹر پر تصدیق کی کہ صرف ایک ہندوستانی پائلٹ، جس کی شناخت ونگ کمانڈر ابہی نندن کے طور پر کی گئی ہے، کو پاکستانی فوج نے گرفتار کیا ہے۔

ہندوستان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان راجیش کمار نے غفور کی ابتدائی پریس کانفرنس کے بعد اعلان کیا کہ ایک پاکستانی جہاز کو اس وقت مار گرایا گیا جب وہ "ہندوستان کی طرف میں عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی" مہم میں حصہ لے رہا تھا"۔

انڈیا نے کہا ہے کہ اس کے صرف ایک طیارے کو مار گرایا گیا ہے مگر اس نے بھی فضائی لڑائی میں پاکستان کے ایک جنگی جہاز کو مار گرایا ہے۔

انہوں نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ "پاکستانی جہاز کو زمینی افواج نے پاکستان کی طرف فضاء سے گرتے ہوئے دیکھا ہے"۔

"اس لڑائی میں، ہم بدقسمتی سے اپنے ایک ایم آئی جی -21 سے محروم ہو گئے۔ پائلٹ اس لڑائی میں لا پتہ ہے۔ پاکستان نے دعوی کیا ہے کہ وہ ان کی حراست میں ہے"۔

پاکستانی فوج نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کا کوئی جہاز مار گرایا گیا ہے۔

'کشیدگی میں اضافے' کے خلاف اپیل

یہ لڑائی انڈیا کی طرف سے منگل کو یہ کہنے کے بعد ہوئی کہ اس کے جنگی جہازوں نے جیش محمد (جے ای ایم) کے عسکری کیمپ کو بالا کوٹ، پاکستان میں نشانہ بنایا۔ یہ حملہ 14 فروری کو ہونے والے خودکش دھماکے کے انتقام میں کیا گیا جس کی ذمہ داری جے ای ایم نے قبول کی تھی اور جس میں 40 ہندوستانی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

بدھ کی صبح کو، انڈیا کے وزارتِ خارجہ کے وزیر نے منگل کو ہونے والے حملے کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے صورتِ حال کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور انڈیا کے دعوؤں کو دہرایا کہ یہ جے ای ایم پر ایک شُفعانَہ حملہ تھا کیونکہ گروہ مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

سشما سوراج نے بیجنگ اور ماسکو کے اپنے ہم منصبوں سے مذاکرات کے دوران کہا کہ "انڈیا اس صورتِ حال کو مزید خراب کرنے کی خواہش نہیں رکھتا ہے۔ انڈیا ذمہ داری اور صبر سے کام کرنا جاری رکھے گا"۔

امریکہ، نے چین اور یورپین یونین کے ساتھ مل کر کہا ہے کہ ٹھنڈے دماغ سے کام لیا جانا چاہیے۔

امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پامپیو نے منگل کو انڈیا اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ "تحمل سے کام لیں" اور اسلام آباد پر زور دیا کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف قدم اٹھائے۔

پامپیو نے دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ "ہم انڈیا اور پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ تحمل سے کام لیں"۔

پامپیو نے کہا کہ وہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ انہوں نے "موجودہ صورتِ حال کو عسکری اقدامات کے بغیر ٹھنڈا کرنے اور پاکستان کی طرف سے اس کی سرزمین پر کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف پر مقصد اقدامات کرنے کی فوری ضرورت" پر زور دیا۔

پروازیں بند

بدھ کو پاکستان کی طرف سے اپنی فضائی حدود کو بند کرنے اور انڈیا کی طرف سے اپنے ہوائی اڈوں کو بند کرنے کے بعد، بہت سی پروازیں منسوخ ہو گئیں۔

فضائی ٹریفک میں خلل سے علاقے سے گزرنے والے راستے متاثر ہو رہے تھے جو کہ چھٹیاں منانے والے مغربی باشندوں میں مقبول ہیں اور صنعت کے ایک شخص کا کہنا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیاء کو جانے والی پروازوں کی ایک بڑی تعداد کو ہو سکتا ہے کہ دوسری طرف موڑنا پڑے۔

پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور فوج نے کہا کہ ملک کی ساری فضائی حدود کو بند کر دیا گیا ہے اور سی اے اے کے ایک ذریعہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ تمام ایر لائنز کو "مزید نوٹس تک پاکستان میں اپنے آپریشنز کو معطل کرنے کا حکم "دے دیا گیا ہے۔

پاکستان انٹرنشینل ایرلائنز جو کہ ملک کا قومی فضائی کمپنی ہے نے متنبہ کیا کہ "پاکستان کی کمرشل فضائی حدود کے بند ہو جانے کے باعث پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں"۔

انڈیا میں، کم از کم چھہ ہوائی اڈوں کو بند کر دیا گیا -- کشمیر میں سرینگر، جموں اور لیہ اس کے علاوہ امرتسر، چندی گڑھ اور دہرادن اور نئی دہلی کے شمال میں فضائی حدود کے بڑے علاقے کو شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
6
نہیں
تبصرے 3
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 03-13-2019

بھارت کے ساتھ دوستی اچھی بات ہے

جواب
| 03-12-2019

جی ہاں

جواب
| 03-11-2019

Dome saal
A.D
12
pus

جواب