| سفارتکاری

اقوامِ متحدہ کی جانب سے پاکستان اور ہندوستان کو کشمیر کے مسئلے پر تناؤ ختم کرنے کی ترغیب

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی


لوگ اسلام آباد میں ٹیلی وژن دیکھتے ہوئے جبکہ وزیرِ اعظم عمران خان 19 فروری کو عوام سے مقبوضہ کشمیر میں 14 فروری کو ہونے والے خودکش دھماکے کے متعلق خطاب کر رہے تھے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

لوگ اسلام آباد میں ٹیلی وژن دیکھتے ہوئے جبکہ وزیرِ اعظم عمران خان 19 فروری کو عوام سے مقبوضہ کشمیر میں 14 فروری کو ہونے والے خودکش دھماکے کے متعلق خطاب کر رہے تھے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

اقوامِ متحدہ -- اقوامِ متحدہ (یو این) نے منگل (19 فروری) کے روز ہندوستان اور پاکستان سے کہا ہے کہ تناؤ کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور اگر فریقین متفق ہوں تو ایک حل نکالنے میں مدد دینے کی پیشکش کی ہے۔

14 فروری کو ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے جس میں 40 ہندوستانی فوجی ہلکا ہوئے تھے، کے بعد دونوں ممالک ایک سفارتی جھگڑے میں پھنس گئے ہیں، جس پر علاقے میں ہندوستانی فوج کی جانب سے جوابی کارروائی پر سوچا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ترجمان سٹیفنی جاریک نے کہا، "میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر سخت تشویش ہے۔"


گزشتہ 28 نومبر کو حفاظتی اہلکاروں کو کرتارپور میں گردوارہ دربار صاحب کے باہر دیکھا جا سکتا ہے۔ پچھلے سال پاکستان نے ہندوستان اور پاکستان میں دو مقدس مزاروں کو جوڑنے کے لیے ویزے کے بغیر کرتارپور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھا تھا، جسے اس وقت ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے میں ایک چھوٹے سے قدم کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ [نذر الاسلام]

گزشتہ 28 نومبر کو حفاظتی اہلکاروں کو کرتارپور میں گردوارہ دربار صاحب کے باہر دیکھا جا سکتا ہے۔ پچھلے سال پاکستان نے ہندوستان اور پاکستان میں دو مقدس مزاروں کو جوڑنے کے لیے ویزے کے بغیر کرتارپور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھا تھا، جسے اس وقت ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے میں ایک چھوٹے سے قدم کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ [نذر الاسلام]

جاریک نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گٹیریس نے تناؤ کو ختم کرنے کے لیے "دونوں جانب سے زیادہ سے زیادہ برداشت کرنے اور فوری اقدامات کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے" اور "اگر دونوں فریق کہیں" تو ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

اے ایف پی کی جانب سے دیکھے گئے ایک خط میں پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے سوموار (18 فروری) کو گٹیریس سے مداخلت کرنے کی درخواست کی تھی۔

خط میں کہا گیا ہے، "تناؤ کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنا بہت ضروری ہے۔ اقوامِ متحدہ پر لازم ہے کہ تناؤ کو ختم کرنے کے لیے آگے بڑھے۔"

حملے کی ذمہ داری پاکستان میں قائم ایک تنظیم جیشِ محمد (جے ای ایم) نے قبول کی تھی۔

سفارت کاروں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تناؤ کے جواب میں، فرانس، برطانیہ اور امریکہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر دباؤ ڈالنے پر غور کر رہے تھے کہ وہجیشِ محمد کے امیر مسعود اظہرکو اقوامِ متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالے، لیکن چین کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

چین جیشِ محمد کے امیر کو بلیک لسٹ کرنے کی دو کوششوں -- 2016 اور 2017 میں -- میں مزاحمت کر چکا ہے۔ تنظیم کو بذاتِ خود سنہ 2001 میں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے۔

افغان امن عمل کے لیے خطرات

امریکہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے گیٹریس کے ساتھ اور سلامتی کونسل کے صدر کے ساتھ ملاقات کی جس میں یہ تنبیہ کرتے ہوئے کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی کہ ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں گرما گرمیافغانستان میں امن کے عملکو تباہ کر دے گی۔

لودھی نے اے ایف پی کو بتایا، "برِصغیر میں شدت افغانستان میں امن کے لیے امکانات کے لیے ایک خطرہ ہے۔"

افغانستان میں پاکستانی سفیر زاہد نصراللہ نے بھی متنبہ کیا کہ اپنے ہمسائے کے خلاف کوئی بھی بھارتی کارروائی طالبان کے ساتھ امن مذاکرت میں خلل ڈال سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرت کے لیے امریکی قیادت میں ایک مہینہ طویل جدوجہد میں "بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے"۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان مصالحت زلمے خلیل زاد "تمام افغان فریقین کو افغانستان کے اندرونی مکالمے میں اکٹھا کرنے" کے مقصد سے 28-10 فروری کو مختلف محکموں کے افراد پر مشتمل وفد کی سربراہی کرتے ہوئے چھ ممالک کے دورے پر ہیں۔

اس سفر میں وفد بیلجیئم، جرمنی، ترکی، قطر، افغانستان اور پاکستان جائے گا۔

دریں اثناء، امریکہ نے منگل کے روز پاکستان کو ترغیب دی تھی کہ وہ ان لوگوں کو سزا دے جو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں خودکش دھماکے کے پشت پناہ ہیں۔

امریکی وزارتِ کارجہ کے ترجمان رابرٹ پالاڈینو نے کہا کہ امریکی حکام 14 فروری کے حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا، "ہماری حکومتِ ہندوستان کے ساتھ قریبی مراسلت رہی ہے صرف اظہارِ افسوس کے لیے ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے لیے ہماری بھرپور حمایت کے لیے بھی کیونکہ یہ اس دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے۔"

"ہم پاکستان کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کرے ۔۔۔ اور کسی بھی ذمہ دار کو سزا دے۔"

پالاڈینو نے کہا، "ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ گاہیں دینے اور ان کی حمایت کرنے سے انکار کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔"

اگلے اقدامات

حالیہ ہنگامے سے قبل، پاکستان اور ہندوستان کی سرحد کے دونوں جانب سیاستدان دونوں ممالک کے درمیانتعلقات کو بہتر بنانے کے لیے چھوٹے چھوٹے اقداماتکرتے رہے ہیں۔

گزشتہ اگست کو، اپنیبعد از انتخابات اپنی پہلی تقریرمیں، خان نے کہا کہ ان کی حکومت ہندوستان کے ساتھ پُرامن روابط رکھنا چاہے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان امن اور دوستی کو فروغ دینے کے لیے ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو پاکستان دو قدم آگے بڑھائے گا۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق، خان کا آغازِ گفتگو ہندوستانی وزیرِ اعظم نریندرا مودی کے "پاکستان کے ساتھ تعمیری اور بامعنی مشغولیت" کے اپنے مطالبے کے جواب میں تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

11
4
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی Captcha
Comment bubble | 02-24-2019

بھارت کو فوری طور پر پاکستان پر حملہ کر دینا چاہیئے۔

جواب
Comment bubble | 02-21-2019

پلوامہ خودکش حملے میں پاکستان کی ساز باز سے متعلق بھارت کی پرزور مذمت کی تائید کرنا عام سمجھ بوجھ کے بھی خلاف ہے۔ اس امر پر یقین کرنا اور بھی زیادہ مشکل ہے کہ پاکستان جے ای ایم کے اعتراف کا تحمل سے جائزہ لے گا اور مسعود اظہر کے اس اقدام میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہونے کا اعتراف کرنے پر سزا نہیں دے گا۔

جواب