http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/02/15/feature-01
| مذہب

پوپ اور چوٹی کے مسلمان عالم کی جانب سے عقیدے کی آزادی، رواداری کی درخواست

اے ایف پی

پوپ فرانسس اور جامعہ الازہر کے امام اعظم شیخ احمد الطیب ایک دوسرے سے ملتے ہوئے جبکہ وہ 4 فروری کو ابوظہبی میں انسانی بھائی چارے کے اجلاس کے دوران دستاویزات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ [ونسنزو پنٹو/اے ایف پی]

ابوظہبی، متحدہ عرب امارات -- پوپ فرانسس اور ایک چوٹی کے مسلمان عالم نے کیتھولک چرچ کے سربراہ کے اسلام کی جائے پیدائش -- خطۂ عرب -- کے پہلے دورے کے دوران عقیدے کی آزادی کا مشترکہ مطالبہ جاری کیا ہے۔

پوپ، جنہوں نے اپنے پوپ کے عہدے کے سنگِ بنیاد پر مسلمان برادریوں سے رابطہ کیا ہے، 3 تا 5 فرور کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے تین روزہ تاریخی دورے پر تھے۔

ابوظہبی کا مرکزی اسٹیڈیم 5 فروری کو ویٹیکن کے پیلے اور سفید پرچموں کا سمندر بنا ہوا تھا جب پوپ فرانسس دسیوں ہزاروں کیتھولک عیسائیوں کے کھلے آسمان تلے ایک بہت بڑے اجتماع کی قیادت کرنے چمکتے سورج کی روشنی میں تشریف لائے۔

پوپ فرانسس ایک اعلیٰ شخصیت سے مصافحہ کرتے ہوئے جب وہ 4 فروری کو ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیرِ اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم کے ہمراہ ہیں۔ [ونسنزو پنٹو/اے ایف پی]

پورے یو اے ای کے مختلف علاقوں سے 135،000 سے زائد عیسائی نے خوشی سے نعرے بلند کیے جب پوپ کو گاڑی میں بٹھا کر زید سپورٹس سٹی اسٹیڈیم میں لایا گیا۔ چار ہزار مسلمان بھی اس اجتماع میں شریک ہوئے۔

مبینہ طور پر یہ اجتماع یو اے ای میں سب سے بڑا عوامی اجتماع تھا۔

پہلے ایک پوپ، جان پال دوم، نے سنہ 1981 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

'اخوت برائے عالمی امن'

4 فروری کو، پوپ نے ابوظہبی میں جامعہ الازہر، جو کہ قاہرہ میں اسلام کے سنی فرقہ کی عظیم درسگاہ ہے، کے امامِ اعظم شیخ احمد الطیب کے ساتھ مذاکرات کیے۔

دونوں دینی رہنماؤں نے "انسانی اخوت برائے عالمی امن و بقائے باہمی" پر ایک دستاویز پر دستخط کیے، جسے ویٹیکن کی جانب سے "عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان مکالمے میں ایک اہم پیش رفت" قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے "عقیدے کی آزادی"، "رواداری کی ثقافت کے فروغ"، عبادت گاہوں کے تحفظ" اور اقلیتوں کے لیے "مکمل شہریت" کے حقوق کا مطالبہ کیا۔

دستاویز میں کہا گیا ہے، "یہ ۔۔۔ انتہائی اہم ہے کہ ہمارے سماجوں میں مکمل شہریت کے تصور کو قائم کیا جائے اور 'اقلیتوں' کی متعصبانہ اصطلاح کو مسترد کیا جائے، جو تنہائی اور کمتری کے احساسات کو جنم دیتی ہے۔"

اس میں کہا گیا ہے، "آزادی ہر فرد کا حق ہے: ہر فرد کو عقیدے، سوچ، اظہار اور عمل کی آزادی حاصل ہے" اور یہ کہ "مذہب، رنگ، جنس، نسل اور زبان کی تکثیریت اور تنوع رضائے الہٰی ہیں۔"

اس میں کہا گیا ہے، "یہ حقیقت کہ لوگوں کو ایک مخصوص مذہب یا ثقافت کو اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اسے مسترد کرنا لازم ہے، ایسے ہی زندگی کے ثقافتی طریقے کے نفاذ کو بھی جسے دوسرے قبول نہیں کرتے۔"

پوپ نے 5 فروری کو انہیں واپس روم لے جانے والے جہاز میں کہا، "دستاویز بہت زیادہ غور و خوض اور دعا کے بعد تیار کی گئی تھی۔"

انہوں نے کہا، "میری وجہ سے، اس وقت صرف ایک بہت بڑا خطرہ ہے: تباہی، جنگ، ہمارے درمیان نفرت۔ اور اگر ہم مذہبی عقائد کے حامل ایک دوسرے کی مدد کرنے، ایک دوسرے کو اپنانے کے قابل نہیں ہیں ۔۔۔ تو یہ ہمارے ایمان کی شکست ہو گی۔"

انہوں نے کہا، "میں نے کئی مسلمانوں سے سنا ہے کہ [دستاویز] کو یونیورسٹی، کم از کم جامعہ الازہر میں لازماً، اور اسکولوں میں پڑھایا جائے گا۔ اسے پڑھایا جائے گا، مسلط نہیں کیا جائے گا۔"

جنگ کو مسترد کرنا مذہبی فریضہ

پوپ فرانسس نے ایک بین المذاہب اجتماع جس میں شیخ احمد اور یو اے ای کے رہنماء شریک تھے، میں ایک خطاب کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ تمام دینی رہنماؤں کا "فرض ہے کہ لفظ 'جنگ' کے ہر پہلو کی منظوری کو مسترد کریں۔"

ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان نے 4 فروری کو پوپ کو زمین کے ایک پلاٹ کا وثیقہ پیش کیا جہاں یو اے ای میں پہلا گرجا گھر سنہ 1965 میں تعمیر کیا گیا تھا۔

بعد ازاں 5 فروری کو، انہوں نے کہا کہ انہوں نے دونوں مذہبی رہنماؤں کے "تاریخی دورے کی یادگار کے طور پر ابوظہبی میں ابراہیمی خاندانی گھر کی تعمیر کا حکم" دیا ہے۔

جواب میں پوپ فرانسس نے انہیں ایک فریم کیا ہوا قدیم تمغہ پیش کیا جو -- پوپ کے ہم نام -- اسیسی کے سینٹ فرانسس اور سلطانِ مصر، ملک الکامل کے درمیان سنہ 1219 میں ہونے والی ملاقات کی یادگار تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha