| سیاست

کے پی مقامی حکومت کے نظام کو قبائلی اضلاع تک بڑھانے کے لیے تیار

عدیل سید


قبائلی افراد، گزشتہ نومبر میں خیبر کے قبائلی ضلع میں، مقامی معاملات پر بات چیت کے لیے، ایک مقامی جرگہ میں شریک ہیں۔ ]عدیل سید[

قبائلی افراد، گزشتہ نومبر میں خیبر کے قبائلی ضلع میں، مقامی معاملات پر بات چیت کے لیے، ایک مقامی جرگہ میں شریک ہیں۔ ]عدیل سید[

پشاور -- خیبرپختونخواہ (کے پی) کی حکومت مقامی حکومت کے نظام کو ان قبائلی اضلاع تک بڑھانے کے لیے اقدامات کو آخری شکل دے رہی ہے جو حال ہی میں صوبہ کے ساتھ ملے ہیں۔

غیر مرکزی نظام کا مقصد، قبائلی ارکان کو اتنا خودمختار بنانا ہے کہ وہ برادری کی سطح پر اپنے علاقوں کو ترقی دے سکیں اور بہتر نظامِ حکومت میں مدد فراہم کر سکیں۔

کے پی کے وزیرِ اطلاعات شوکت یوسف زئی نے 24 جنوری کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کے پی کی حکومت قبائلی اضلاع میں مقامی انتخابات کروانے کے لیے تیار ہے جس کے بعد مقامی حکومت کا نظام علاقے میں وسیع کر دیا جائے گا"۔


ایک شخص گزشتہ سال 25 جولائی کو عام انتخابات کے دوران ووٹ ڈال رہا ہے۔ ]عدیل سید[

ایک شخص گزشتہ سال 25 جولائی کو عام انتخابات کے دوران ووٹ ڈال رہا ہے۔ ]عدیل سید[

انہوں نے کہا کہ "سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں، مقامی حکومت کے نظام میں توسیع کے ساتھ، سیاست اور ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا"۔

یوسف زئی نے کہا کہ اس تبدیلی کے حصہ کے طور پر، قبائلی اضلاع کے لیے مختص کیے جانے والے 30 فیصد ترقیاتی فنڈز کو انتخابی اداروں کی طرف سے منظور کیے جانے والے منصوبوں کے لیے استعمال کیا جائے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے تیاریاں کر لی ہیں اور ہم انتخابات منعقد کرنے کے لیے تیار ہیں"۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی کے پی برانچ کے ترجمان، سہیل خان کے مطابق، انتخابات کچھ ماہ میں منعقد ہوں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ای سی پی، قبائلی اضلاع میں انتخابات منعقد کرنے کے لیے مکمل تیاریاں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں حلقہ ہائے انتخاب کی حدود بندیوں پر کام جاری ہے"۔

خان نے کہا کہ حدود بندیوں کی ابتدائی فہرست پہلے ہی شائع کر دی گئی ہے اور حکام نے قبائلی ارکان سے کہا ہے کہ وہ 30 جنوری تک کوئی اعتراض یا اپیل جمع کروا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام یکم مارچ تک اپیلوں کا جائزہ لیں گے اور حتمی فہرست 4 مارچ کو پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں نئے ووٹ دہندگان کا اندراج 10 جنوری سے شروع ہو گا اور سارے علاقے میں ایسے اشتہاری تختے لگائے جائیں گے جن میں ووٹ دہندگان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ اپنے ووٹ درج کروائیں۔

'ایک تاریخی قدم'

مقامی حکومت، انتخابات اور دیہی ترقی کے لیے کے پی کے وزیر شہرام خان ترکئی نے 25 جنوری کو اخباری نمائندوں کو بتایا کہ "مدغم ہونے والے قبائلی اضلاع میں مقامی حکومت کا نظام جلد ہی متعارف کروایا جائے گا تاکہ بنیادی سطح پر عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، انہیں حل کیا جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں متعارف کروائی جانے والی مقامی حکومتوں نے صوبائی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور برادری کی سطح پر مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔

ترکئی نے کہا کہ "قبائلی اضلاع میں اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ایک تاریخی قدم ہے"۔

مقامی حکومتی شعبہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "سابقہ فاٹا کے سات اضلاع اور چھہ تحصیلوں میں مقامی حکومتی نظام کو متعارف کروانے کے لیے قواعد تیار کرنے کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے"۔

اہلکار نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں، تقریبا 590 گاؤں کی کونسلیں اور 40 علاقہ جاتی کونسلیں قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کے پی اور قبائلی اضلاع میں گاؤں اور علاقہ جاتی کونسلوں کی تعداد بالترتیب اور ہو گی۔

جنوبی وزیرستان ڈسٹرکٹ کے ایک شہری پیر بنیامین نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں اور یہ قبائلی افراد کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس فیصلے سے نہ صرف علاقے میں ترقی ہو گی بلکہ قبائلی افراد کو سیاسی عمل میں شرکت کرنے اور اپنے دروازے پر مسائل کو حل کرنے کا موقع ملے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "اس سے پہلے قبائلی اضلاع میں نظامِ حکومت نے قبائل کو اپنے علاقے میں ترقی کے عمل میں شامل ہونے سے محروم رکھا تھا مگر اب ہمارے اپنے لوگ مقامی مسائل کو حل کرنے کے لیے آگے آئیں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

11
1
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی Captcha
Comment bubble | 02-11-2019

تسلیمات

جواب