|

معاشرہ

نوجوانوں کی پاکستانی تنظیم دہشت گردی کی بیواؤں کی مدد کر رہی ہے

یوتھ اینٹی ٹیررازم آرگنائزیشن ایسی بیواؤں کے لیے اپارٹمنٹ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جنہیں اپنے مرکزی کفیل کے دہشت گردی میں مارے جانے کے باعث مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

عدیل سید


یوتھ اینٹی ٹیررازم آرگنائزیشن (وائے اے ٹی اے)، جو اکتوبر میں پشاور میں مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہی ہے، نے ایسی بیواؤں کے مدد کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے جنہیں دہشت گردی میں اپنے شوہر کھونے کے بعد مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ]وائے اے ٹی او[

یوتھ اینٹی ٹیررازم آرگنائزیشن (وائے اے ٹی اے)، جو اکتوبر میں پشاور میں مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آ رہی ہے، نے ایسی بیواؤں کے مدد کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے جنہیں دہشت گردی میں اپنے شوہر کھونے کے بعد مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ]وائے اے ٹی او[

پشاور -- غیر سرکاری تنظیم، یوتھ اینٹی ٹیررازم آرگنائزیشن (وائے اے ٹی اے) جو کہ انتہاپسندی سے جنگ کرنے کے لیے کام کرتی ہے، نے ایسی بیواؤں کے مدد کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے جنہیں دہشت گردی میں اپنے شوہر کھونے کے بعد مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

وائے اے ٹی او کے چیرمین محمد آصف نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے ان خواتین کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں اور جنہیں اپنے مرکزی کفیل کی شہادت سے مصائب کا سامنا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے مایوس بیواؤں اور ان کے اہل خاندان کے ساتھ ہمدردی کی علامت کے طور پر پناہ اور امدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے"۔

آصف نے کہا کہ وائے اے ٹی او کا ابتدائی منصوبہ دہشت گردی کے متاثرین کے لیے آٹھ فلیٹ بنانے کا ہے اور بعد میں مزید گھر فراہم کرنے کے لیے مزید کوششیں کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ "غیر سرکاری ادارہ ہونے کے باعث، وائے اے ٹی او اپنی مدد آپ کی بنیاد پر کام کر رہی ہے اور اسے حکومت کی کوئی باضابطہ مدد حاصل نہیں ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ منتظمین ان فلیٹوں کو تعمیر کرنے کے لیے اپنی امداد اور اس کے ساتھ ہی انسان دوستوں کی طرف سے حاصل ہونے والی امداد پر انحصار کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے پشاور کے مضافات میں واقع ناصر پور گاوں کے علاقے مسما میں زمین منتخب کر کے خرید لی ہے اور سرمایہ اکٹھا کرنے کے بعد تعمیر کا کام شروع کر دیں گے"۔

آٹھ فلیٹوں کو تعمیر کرنے کے لیے لاگت کا تخمینہ 11 ملین روپے (82,000 ڈالر) لگایا گیا ہے۔

آگاہی پھیلانا

وائے اے ٹی او کے جنرل سیکریٹری سید عباس شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "وائے اے ٹی او نوجوانوں میں آگاہی پھیلانے سے بنیاد پرستی کا مقابلہ کر رہی ہے اور انہیں اپنے ہم عصروں میں امن کا پیغام پھیلانے کے لیے امن کے سفیروں میں بدل رہی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "برادریوں کے ساتھ اپنے رابطوں میں ہمیں علم ہوا کہ دہشت گردی نے بہت سے خاندانوں کی زندگیوں کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچایا ہے"۔

شاہ نے کہا کہ سینکڑوں بیواؤں کو دہشت گردی کے واقعات میں اپنے شوہروں سے محروم ہو جانے کے بعد اپنے خاندانوں کی کفالت پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صلاحیتوں اور وسائل کے نہ ہونے کے باعث، ان میں سے کچھ خواتین کو اپنے بچوں کی کفالت کے لیے مزدوری تک کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

وائے اے ٹی او کے وائس چیرمین میاں فضل داد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "بیواؤں کے لیے گھر تعمیر کرنے کے پیچھے بنیادی مقصد حکومت اور رحم دل افراد کی توجہ دہشت گردی کے متاثرین کے مصائب کی طرف دلانا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے متاثرین کو 300,000 روپے (2,255 ڈالر) کا معمولی معاوضہ ادا کرتی ہے مگر اس کے بعد، خاندانوں کو اپنی کفالت خود کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خصوصی طور پر مہنگائی اور بنیادی ضروریات اور سہولیات کی قیمتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، یہ ایک وقتی معاوضہ پانچ سے چھہ مہینوں میں ختم ہو جاتا ہے۔

فضل داد نے کہا کہ صرف کچھ ہی ایسی انسانی ہمدردی کی تنظیمیں ہیں جو ان خاندانوں کے ذریعہ معاش کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں جبکہ اکثریت نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں۔

بیواؤں کے بوجھ کو کم کرنا

بیواؤں اور دہشت گردی کے دوسرے متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ وائے اے ٹی او کے اقدام کو سراہتے ہیں۔

ایک بیوہ، خدیجہ بی بی جن کے شوہر عطا محمد، 2013 میں جلوزئی مہاجر کیمپ میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے، نے کہا کہ "میرا بیٹا نوشہرہ ڈسٹرکٹ کے شہر پبی میں ایک کباڑیے کے ساتھ کام کرتا تھا مگر اب وہ وائے اے ٹی او کی طرف سے فراہم کردہ رکشا چلا رہا ہے"۔

ان کا بیٹا پیسے کمانے کے لیے رکشے میں مسافروں کو لے جاتا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اپنے شوہر کی ہلاکت کے بعد، اپنے 14 سالہ بیٹے کو "پیسے کمانے کے لیے جدوجہد کرتا دیکھنا بہت مشکل تھا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میرے پاس اس کی قسمت پر رونے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا"۔

پشاور کے علاقے سیٹھی ٹاون میں رہنے والی بیوہ خاتون عابدہ باجی نے کہا کہ اپنے اور اپنے بچوں کے لیے ایک فلیٹ کا ماہانہ 7,500 روپے (56 ڈالر) کرایہ ادا کرنے کے بعد ان کے لیے اپنے خاندان کے دوسرے اخراجات پورے کرنا تقریبا ناممکن ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں اپنے شوہر کی ہلاکت کے بعد گھروں میں کام کرتی تھی مگر وائے اے ٹی او کی طرف سے فراہم کردہ سلائی مشین نے مجھے اپنے گھر میں رہ کر کام کرنے اور اپنے نو بچوں کا دھیان رکھنے کے قابل بنا دیا ہے"۔

باجی نے کہا کہ وائے اے ٹی او یا کسی بھی دوسری تنظیم کی طرف سے پناہ گاہ ملنے سے اس کی ماہانہ آمدن پر سے بہت بڑا بوجھ ختم ہو جائے گا اور اس کے اخراجات کم ہو جائیں گے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج