http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/11/27/feature-02
| ماحول

'پلانٹ فار پاکستان' کا 5 برس کے اندر 10 بلین درخت لگانے کا منصوبہ

عدیل سعید

وزیرِ اعظم عمران خان اگست میں اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی عمارت میں ایک درخت لگا رہے ہیں۔ [حکومتِ پاکستان]

پشاور – پاکستان اپنے "پلانٹ فار پاکستان" منصوبے کے تحت آئندہ پانچ برس کے دوران 10 بلین درخت لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے 2 ستمبر کوآبادی کم کرنے اور آئندہ نسل کو صاف اور سبز ملک دینے کے لیے ایک وسیع تر اقدام"صاف سبز پاکستان" کے ایک جزُلازم کے طور پر اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز کیا۔

انہوں نے ہری پور میں ایک پودا لگا کر اس مہم کا آغاز کیا اور اپنے ساتھیوں پر اس ملک کو سبز بنانے کے لیے زور دیا۔

17 مئی کو خیبر پختونخوا محکمہٴ جنگلات کے ڈائریکٹر پرویز منان شمال مغربی پاکستان میں ضلع ہیروشاہ میں درختوں کے ایک ذخیرہ کو دیکھ رہے ہیں۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

خیبر پختونخوا (کے پی)، ضلع ہری پور میں ایک تقریب کے دوران خان نے کہا، "اگر ہم ابھی درخت لگانے کا آغاز نہیں کرتے تو پورا ملک ایک صحرا بن سکتا ہے۔"

میڈیا نے خبر دی کہ اس منصوبے کے افتتاحی روز ملک بھر میں تقریباً 1.5 ملین درخت لگائے گئے۔ توقع ہے کہ جنوری 2019 سے یہ منصوبہ تیزی پکڑ لے گا۔

ماحولیاتی تبدیلی پر وزیرِ اعظم کے ایک مشیر ملک امین اسلم نے کہا، "فی الحال صوبوں کے ساتھ مشاورت سے اس منصوبے کی میکانیات پر کام کیا جا رہا ہے، اور جلد ہی نفاذ کا ایک بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔"

اسلم نے تقریب میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہمارا ارادہ ہے کہ موسمِ سرما کے شجرکاری کے موسم سے قبل اس منصوبے کو مالی اخراجات کے ساتھ ساتھ نفاذ کے خاکہ سمیت تیار رکھا جائے۔"

بلین ٹری سونامی افورسٹیشن پراجیکٹ (بی ٹی اے پی)،جس کے تحت کارکنان نے 2015 سے 2018 کے درمیان کے پی میں 1.18 بلین درخت لگائے،کے معمار اسلم نے کہا کہ بی ٹی اے پی کو پورے ملک میں توسیع دی جائے گی۔

کے پی کے نقشِ قدم پر

بی ٹی اے پی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر تہماسب خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے بی ٹی اے پی ماڈل اور پاکستان کو سبز بنانے کی خان کی پالیسی کے "بے تہاشا فوائد" کو مدِ نظر رکھتے ہوئے "پلانٹ فار پاکستان" منصوبے کا آغاز کیا۔

تہماسب نے 5 نومبر کو کہا کہ کارکنان نے گزشتہ چار برس کے دوران بی ٹی اے پی کے تحت 600,000 ہیکٹرز زمین پر شجرکاری کی جس سے 0.04 گیگا ٹن کاربن جذب کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی کا اثر کم کرنے میں مدد ملی۔

انہوں نے کہا، "ایک بلین درخت لگانے کے پرچوش منصوبے نے کے پی کے میں جگلات کی چادر کو 6.3 فیصد وسعت دی۔ اس سے نہ صرف کے پی کے جنوبی اضلاع میں بلند درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی بلکہ صوبے میں پانچ لاکھ سے زائد ملازمتیں بھی فراہم ہوئیں۔"

تہماسب نے مزید کہا، "ہم تمام صوبائی حکومتوں کو اربوں درخت لگانے میں مدد کرنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے اور بی ٹی اے پی ماڈل کے اپنے تجربات ان تک پہنچانے کو تیار ہیں۔"

کے پی کے ایک فاریسٹ آفیسر محمّد طارق نے 5 نومبر کو پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "کے پی کے محکمہٴ ترقی و منصوبہ بندی نے صوبے میں ’پلانٹ فار پاکستان‘ کے ابتدائی کام کے لیے 890 ملین روپے [6.6 ملین ڈالر] مختص کیے ہیں۔"

یہ مالیات پودوں کی خریداری، پودوں کی تقسیم کے لیے نرسریاں تشکیل دینے، زمین ہموار کرنے، زخائر تعمیر کرنے اور نوجوانوں کو شجرکاری سے متعلق تربیت دینے کے لیے صرف ہوں گے۔

انہوں نے کہا، "اس پرجوش منصوبے کے آغاز کے لیے بنیادی کام کا آغاز ہو چکا ہے، اور امّید ہے کہ آئندہ فروری 2019 کے وسط میں موسمِ شجرکاری سے عملی کام کا آغاز ہو جائے گا۔"

ایک ولولہ انگیز منصوبہ

ویلز میں کارڈِف یونیورسٹی میں ماسٹرز ڈگری کے لیے زیرِ تعلیم ایک ماحولیاتی صحافی محمّد ابوبکر نے 10 نومبر کو پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے گرینیچ کے عالمی ماحولیاتی خدشہ کے 2018 کے اعشاریہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "پاکستان دنیا میں عالمی حرارت سے سب سے زیادہ متاثرہ سات ممالک میں سے ایک ہے، اور ’پلانٹ فار پاکستان‘ جیسے منصوبے ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل بچانے کے لیے ضروری ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے علاقہٴ عملداری کا صرف 1.9 فیصد جنگلات پر مشتمل ہے جو جنوبی ایشیا میں کم ترین شرحِ فیصد ہے۔

بکر نے کہا، "یہ منصوبہ نہایت ولولہ انگیز ہے تاہم قابلِ عمل معلوم ہوتا ہے۔"

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پانچ برس میں ایک ارب درختوں کا مطلب ہر برس دو ارب درخت ہیں، یا اندازاً ہر روز 54 لاکھ درخت۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیات دانوں، عوام، سول سوسائٹی، طالبِ علموں اور متعلقہ حکومتی محکموں کے شامل ہونے سے یہ ہدف قابلِ عمل ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 5
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 08-23-2019

میں نے اپنے ACP پراجیکٹ کے لیے سوچا ہے کہ میں "ارتھ بالز" اور "گرین بالز" متعارف کرانا چاہتی ہوں جو دراصل پاکستان میں "بیج پر لپٹی خشک مٹی کی گیندیں" ہیں۔ یہ خود-شجرکاری کے لیے نہایت کم خرچ حکمتِ عملی ہے کیوں کہ کسی شخص کو محض ان گیندوں کو زمین پر چھڑکنا ہوتا ہے، جو کہ پانی، مثال کے طور پر بارش، سے رابطہ میں آنے پر اگتے ہیں۔ میں حکومتی تعاون کی درخواست کرتی ہوں تاکہ میں 10 ارب درختوں کے منصوبے میں کردار ادا کر سکوں۔

آداب: حوریہ عامر

جواب
| 05-15-2019

بلین پراجیکٹ کا آغاز کب ہو گا؟ ابھی تک کے پی کے کو مالیات منتقل نہیں کیے گئے۔

جواب
| 02-08-2019

مجھے اپنے 40 کنال رقبہ کی شجرکاری کے لیے درخت چاہیئں، لیکن اس کے لیے خریداری کا خرچہ کتنا ہے۔

جواب
| 02-18-2019

ضلعی فارسٹ آفس سے رابطہ کریں وہ بلاقیمت شجر کاری کریں گے

جواب
| 12-02-2018

ہم عمران خان کے لیے اپنی جان قربان کر سکتے ہیں

جواب