| جرم و انصاف

غیر قانونی مالیات سے نمٹنے کے لیے پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ

جاوید محمود


9 اکتوبر کو ایک پاکستانی گاہک کرنسی ایکسچینج شاپ میں پہنچ رہا ہے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

9 اکتوبر کو ایک پاکستانی گاہک کرنسی ایکسچینج شاپ میں پہنچ رہا ہے۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

اسلام آباد – بین الاقوامی تنظیمیں اور واچ ڈاگ مسلسل پاکستان پر غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے خلاف کاوشوں کو مستحکم کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں جبکہ پاکستانی حکام نے نئے واقعات پر کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میںغیر قانونی ترسیلِ زر پر ایشیا/پیسیفک گروپ (اے پی جی)سے ایک وفد نے ملک کی انسدادِ غیر قانونی ترسیلِ زر اور انسدادِ فراہمیٴ مالیات برائے دہشتگردی (اے ایم ایل/سی ایف ٹی) مہمات کی تاثیر کو جانچنے کے لیے دارالخلافہ اسلام آباد کا دورہ کیا۔

پاکستان دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے ایک عالمی واچ ڈاگ،فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کی ضروریات پر پورا اترنے کے لیے کام کر رہا ہے جس نے پاکستان کو جون میں اپنی گرے لسٹ میں داخل کیا تھا۔ اے پی جی ایف اے ٹی ایف کا ایک رکن ہے۔

اے پی جی کے وفد نے کہا کہ وہ پاکستان کی پیش رفت سے متاثر نہیں ہے، مزید کہا گیا کہ ملک کے پاس کمزور اداریاتی انتظامات اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات سے لڑنے کے لیے ناکافی قانونی بنیادی ڈھانچہ ہے۔

غیر قانونی ترسیلِ زر کے واقعات سامنے آئے

اے پی جی وفد کا دورہ پاکستان میں غیر قانونی ترسیلِ زر کے واقعات کی خبروں کے دوران ہوا، جن میں بڑی رقوم شامل تھیں۔

اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک ڈین ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران، مقامی حکام نے کراچی اور حیدرآباد میں متعدد ایسے بینک کھاتے دریافت کیے ہیں جو غیر قانونی نقد رقوم کی فراڈ پر مبنی منتقلی کے لیے استعمال ہوتے تھے۔

خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات بنکوں کی "اپنے گاہک کو جانیئے" پالیسیوں کی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں، جو کئی برس قبل مالیاتی نظام کے غلط استعمال کو کچلنے اور گاہکوں اور ان کے ذرائع آمدنی کی نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرائے گئے تھے۔

ایک ٹی وی تجزیہ کار اور کراچی میں محمّد علی جناح یونیورسٹی میں شعبہٴ کاروباری علوم کے ڈین ڈاکٹر شجاعت مبارک نے کہا کہ دیگر حالیہ واقعات میں لوگوں نے زیادہ تر غریب شہریوں کے ترک شدہ کھاتوں کو استعمال کرتے ہوئے روپے کی غیر قانونی ترسیل کی۔

مبارک نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بینک دولتِ پاکستان (ایس بی پی) اور تجارتی بینکوں کو ڈارمنٹ کھاتوں کی شناخت اور کھاتہ داروں کی جانب سے استعمال کرنے اور باقایدہ طور پر چلانے میں عدم دلچسپی کی صورت میں انہیں بند کر دینے کی ایک ملک گیر مہم چلانی چاہیئے۔

مزید کام کی ضرورت

مبارک نے کہا، "حکومت کو چاہیئے کہ غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کی نگرانی اور تعاقب میں ملوث ٹیموں کی تشکیلِ نو کرے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ چیلنج یہ ہے کہ بینک دولتِ پاکستان، سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کیمیشن آف پاکستان کے ساتھ ساتھ مقامی بینکوں کے اہلکاروں میں غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات سمیت مشتبہ لین دین کا مؤثر تعاقب کرنے کی تکنیکی مہارتوں یا تربیت کا فقدان ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان ادارہ برائے علومِ تنازعات و سلامتی کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "نئی حکومت کی اولین ترجیح غیر قانونی ترسیلِ زر، دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات، اور بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔"

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انسدادِ غیر قانونی ترسیلِ زر ایکٹ 2010، جس میں 2016 میں ترمیم کی گئی، غیر قانونی ترسیلِ زر اور دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کے تمام پہلوؤں سے نمٹتا ہے، تاہم اس کا نفاذ اصل مسئلہ ہے۔

خان نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پہلے ہی عسکریت پسندوں کو مالیاتی رسائی کے خاتمہ اورغیر قانونی ترسیلِ زر کو کچلنے کے لیے متعدد اقداماتکیے ہیں۔ اب وقت ہے کہ نظام میں موجود کمزوریوں پر قابو پایا جائے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

18
3
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 11-13-2018

میرا خیال ہے کہ حکومتِ پاکستان مساوی ہے

جواب