|

دہشتگردی

پاکستان کی جانب سے دہشت گردی میں معاونت کی 'گرے لسٹ' سے نکلنے کے لیے عملی منصوبے کا عہد

26 نکاتی عملی منصوبہ جون 2018 سے ستمبر 2019 تک کے 15 ماہ کے عرصے کا احاطہ کرتا ہے، جو وہ وقت ہے جب ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کوششوں کا جائزہ لے گا۔

از جاوید محمود


حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں سرمایہ کاری کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اس تصویر میں، پیسے کا لین دین کرنے والے 12 مارچ 2014 کو اسلام آباد میں ایک کرنسی ایکسچینج پر پاکستانی روپے اور امریکی ڈالر گنتے ہوئے۔ [عامر قریشی/ اے ایف پی]

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں سرمایہ کاری کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اس تصویر میں، پیسے کا لین دین کرنے والے 12 مارچ 2014 کو اسلام آباد میں ایک کرنسی ایکسچینج پر پاکستانی روپے اور امریکی ڈالر گنتے ہوئے۔ [عامر قریشی/ اے ایف پی]

کراچی -- پاکستانی حکومت ایک منصوبے سے عہد بستہ ہے جس کا مقصد ایک عالمی اینٹی منی لانڈرنگ واچ ڈاگ، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے ملک کو بلیک لسٹ کرنے سے بچانا ہے۔

قومی انتظامی کمیٹی کے ایک اجلاس کے دوران 2 اگست کو نگران وزیرِ خزانہ شمشاد اختر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور منی لانڈرنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے اداروں کے مابین تعاون کو بہتر بناتے ہوئے، ایف اے ٹی ایف کے عملی منصوبے کی تعمیل میں تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔

جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ اس کام میں ملوث زیادہ تر محکموں نے منصوبے کے مؤثر اطلاق کو یقینی بنانے کے لیے وقف شدہ یونٹ تشکیل دیئے ہیں۔

ادارہ برائے تزویراتی مطالعات اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کی جانب سے ایک رپورٹ کے مطابق، 26 نکاتی عملی منصوبہ جون 2018 سے ستمبر 2019 تک کے 15 ماہ کے عرصے کا احاطہ کرتا ہے، جو وہ وقت ہے جب ایف اے ٹی ایف پاکستان کی کوششوں کا جائزہ لے گا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق، منصوبے کو ابھی عام نہیں کیا گیا ہے۔

دہشت گردی میں سرمایہ کاری کا مقابلہ کرنا

27 جون کو ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا تھا، یہ تصور کرتے ہوئے ملک کی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں سرمایہ کاری کو روکنے کی اہلیت میں "تزویراتی خامیوں" کی وجہ سے اس کا مالیاتی نظام بین الاقوامی مالیاتی نظام کے لیے ایک خطرہ ہے۔

گرے لسٹ میں شامل دیگر ممالک میں ایران، شمالی کوریا، ایتھوپیا، سربیا، سری لنکا، ترینیداد، ٹوباگو، شام، یمن اور تیونس شامل ہیں۔

آئی ایس ایس آئی کے ریسرچ فیلو اسد اللہ خان جنہوں نے یہ رپورٹ تحریر کی ہے، کے مطابق، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ترغیب دی ہے کہ وہ دہشت گردی میں سرمایہ کاری کے خطرے کی شناخت، تشخیص اور نگرانی کرے؛ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں سرمایہ کاری کے مقدمات کے خلاف بحالی کے اقدامات کا مظاہرہ کرے؛ پیسے کے غیر قانونی تبادلوں کے خلافقانون کا اطلاق کرے؛ اور دہشت گردی میں سرمایہ کاری کے لیے پیسہ لے کر جانے والے افراد کی نقل و حرکت پر قابو پانے کے لیے اقدامات کا اطلاق کرے۔

دیگر سفارشات میں شامل ہیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان محکموں کے درمیان تعاون کو بہتر بنانا؛ استغاثوں اور عدلیہ کی معاونت میں اضافہ کرنا؛ اور نامزد کردہ عسکریت پسندوں کے خلاف مالی پابندیوں کا اطلاق کرنا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کی تشویشوں کو ختم کرنے کے لیے مصروفِ عمل ہے۔

مارچ میں پاکستان کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی جانب سے ایک اعلانکا حوالہ دیتے ہوئے، رپورٹ میں کہا گیا، حتیٰ کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیے جانے سے پہلے ہی، پاکستانی تفتیش کاروں نےغیر قانونی حوالہ اور منی لانڈرنگکے 1،300 سے زائد مقدمات درج کروائے تھے۔

پاکستان نے صوبائی انسدادِ دہشت گردی محکموں میں دہشت گردی میں سرمایہ کاری کا مقابلہ کرنے کے لیے تحقیقاتی شعبے بھی قائم کیے تھے اورخیراتی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور بلامنافع کام کرنے والی تنظیموں کو منضبطکرنے کے لیے ایک نئے قانون پر کام کر رہا تھا۔

دہشت گردی میں سرمایہ کاری کو سنجیدگی سے لینا

اردو زبان کے روزنامہ پاکستان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور کراچی ایڈیٹرز کلب کے صدر، مبشر میر نے کہا کہ پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کرنے سے پہلے، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان سے ایسے اقدامات کا اطلاق کرنے کو کہا تھا جن سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان نے اس تنبیہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ لگ بھگ ہر مہینے پاکستان سے متعلقہ منی لانڈرنگ کا کوئی نہ کوئی نیا بڑا واقعہ منظرِ عام پر آتا ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف ملک کے تشخص کو مسخ کرتے ہیں بلکہ دہشت گردوں کو سرمائے کی فراہمی کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے اٹھائے جا رہے اقدامات کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔

میر نے کہا کہ ماضی میں بھی پاکستان سنہ 2012 سے 2015 تک گرے لسٹ میں رہا تھا لیکن حکومت اور دفاعی اداروں کی جانب سے ایف اے ٹی ایف کے مجوزہ اقدامات کرنے پر اسے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا، تاہم، سابقہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کا مناسب طریقے سے اطلاق نہیں کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل ہو گیا۔

بینکوں کے ساتھ کام کرنا

کراچی میں سیکیورٹی انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ کے صدر اور سی ای او اور وزارتِ خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کے سابق ڈائریکٹر جنرل ظفر شیخ نے کہا، "مشکوک لین دین پر نظر رکھنے کے لیے بینکوں پر لازم ہے کہ وہ سخت نگرانی کریں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ بینکوں پر لازم ہے کہ "اپنے کھاتہ داروں کو جانیں" کی پالیسی کا اطلاق کریں اور ایسے کسی بھی افراد یا کمپنیوں کی اطلاع وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کو دیں جن کے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں سرمایہ کاری کرنے میں ملوث ہونے کا یقین ہو۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فرد یا کمپنی ایک کھاتے میں کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں، تو بینکاروں پر لازم ہے کہ اس منتقلی کے ذریعہ آمدن کے متعلق جانیں اور اگر یہ غیر قانونی طور پر منتقل ہوا ہو تو اس کے خلاف کارروائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ جعلی درآمدی آرڈرز کے ذریعے 10 بلین ڈالر (1.2 ٹریلین پاکستانی روپے) پاکستان سے دیگر ممالک منتقل ہونے کی لازمی تحقیقات ہونی چاہیئیں۔

شیخ نے سمٹ بینک لمیٹڈ کے نائب چیئرمین اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے چیئرمین، حسین لوائی کے مقدمے کی طرف اشارہ کیا، جنہیں پولیس نے 6 جولائی کو ان کے بینک اور دیگر بینکوں کے ذریعے مبینہ طور پر 12 ملین ڈالر (1.4 بلین روپے) لانڈرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سفارش پر، پی ایس ایکس نے 10 جولائی کو لوائی کو بطور چیئرمین ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ لوائی اپنی بے گناہی کے مؤقف پر قائم ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج