|

سفارتکاری

دورہٴ پاکستان کے آغاز پر ایرانی وزیرِ خارجہ کا دفاعی انداز

پاکستانی مفادات کے خلاف طالبان حملوں کو مربوط کرنے سے لے کر معصوم پاکستانی شعیوں کو بنیاد پرست بنانے تک، ایرانی وزیرِ خارجہ ظریف کو ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت سے متعلق کافی چیزوں کی وضاحت کرنا ہے۔

پاکستان فارورڈ


پاکستانی مفادات کے خلاف طالبان حملوں کو مربوط کرنے سے لے کر معصوم پاکستانی شعیوں کو بنیاد پرست بنانے تک، ایرانی وزیرِ خارجہ ظریف کو رواں ہفتے اپنے دورہٴ پاکستان کے دوران ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت سے متعلق کافی چیزوں کی وضاحت کرنا ہے۔ ]حمید مالکپور/تسنیم[

پاکستانی مفادات کے خلاف طالبان حملوں کو مربوط کرنے سے لے کر معصوم پاکستانی شعیوں کو بنیاد پرست بنانے تک، ایرانی وزیرِ خارجہ ظریف کو رواں ہفتے اپنے دورہٴ پاکستان کے دوران ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت سے متعلق کافی چیزوں کی وضاحت کرنا ہے۔ ]حمید مالکپور/تسنیم[

اسلام آباد – جیسا کہ خطے میں تہران کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے ساتھ دونوں ممالک کے مابین تناوٴ میں اضافہ ہوا ہے، ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف نے اپنے تین روٍہ دورہٴ پاکستان کے آغاز میں دفاعی انداز اپنائے رکھا۔

ظریف نے پاکستانیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کرنے سے اتوار- منگل (11-13 مارچ) کے اپنے دورہٴ اسلام آباد کا آغاز کیا کہ ایران اور اس کے اسلامی انقلابی محافظ افواج (آئی آر جی سی)پاکستان کی آزادی اور سلامتی کو سبوتاژ نہیں کر رہے۔

پاکستانی میڈیا نے پیر (12 مارچ) کو خبر دی کہ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کیے جانے کی اجازت نہیں دے گا۔

ایسے بیانات حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے خلاف ایران کی کاروائیوں سے سرا سر متضاد ہیں۔

اس کی تازہ ترین مثالوں میں افغانستان میں ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت (تاپی) قدرتی گیس پائپ لائن—ایک منصوبہ جس کی ایران شدید مخالفت کرتا ہے— کی فروری میں ہونے والی افتتاحی تقریب پر حملہ کرنے کے احکام کے حامل طالبان کے ایک گروہ کی ایران کی جانب سے تربیت اور انہیں فراہمیٴ مالیات شامل ہیں۔

اس تقریب میں شریک معززین میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عبّاسی اور افغان صدر اشرف غنی شامل تھے۔

اس بہیمانہ چال کے پس منظر میں آئی آر جی سی کی پشت پناہی کی حامل ضمنی جنگیں لڑنے والی ملیشیا ہزاروں پاکستانی اور افغان نوجوانوں کو ان جنگوں میں لڑنے کے لیے ورغلاتے ہیں جو محض ایران کے فرقہ ورانہ مقاصد کو مستحکم کرنے کا مقصد انجام دیتی ہیں ۔

پاکستانی عہدیداران اور تجزیہ کاروں کے ساتھ ساتھ افغانستان میں ان کے ہم منصبوں نے حال ہی میں اپنی حکومتوں سے خطے میں ایران کے تخریبی رسوخ کے خلاف ایک مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کا مطالبہ کیا ۔

پاکستانی ’دہشتگردوں‘ پر الزامات

ایرانی میڈیا کے مطابق، ظریف نے کہا کہ ایران "پاکستان کے ساتھ باضابطہ تعلقات" رکھنا چاہتا ہے، مزید کہا گیا کہ وہ پاکستان کے ردِّ عمل کا منتظر ہے۔

پیر کو اسلام آباد میں پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف کے ساتھ ان کی ملاقات میں ان کے حوالہ سے کہا گیا، "]ایک[ مشترکہ سرحد رکھنے والے دو دوست ہمسایہ ممالک کے طور پر ایران اور پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں ممالک کی سرحدوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور دہشتگردوں کی سرگرمیوں کی انسداد کے لیے مستحکم تعاون رکھیں۔"

لیکن پیر کو پاکستان سے تعلق رکھنے والے "دہشتگردوں" کے مبینہ طور پر سرحد پار کر کے ایران جانے اور اتوار (11 مارچ) کو ساراوان، ایران میں ایک عسکری چوکی پر حملہ کرنے کی خبروں نے ظریف کے دورہ کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

ان اطلاعات کا ماخذ طالبان عسکریت پسندوں کو تربیت دینے اور پاکستانی شعیوں کو بھرتی کرنے والی وہی تنظیم، آئی آر جی سی ہے۔

اے ایف پی نے خبر دی کہ ماضی میں ایران نے پاکستان پر جیش العدل کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے، جو کہ ایک شورشی گروہ ہے جس پر تہران نے القاعدہ کے ساتھ روابط کا الزام لگایا تھا اور جس نے سیستان-بلوچستان میں متعدد حملے کیے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 34

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
abdullah | 03-15-2018

بالکل درست \n

جواب

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج