2017-12-06 | مذہب

کے پی حکام پُرامید ہیں کہ بدھ کے مجسمے کی دریافت مذہبی سیاحت کو فروغ دے گی

از عدیل سعید

کنجور پتھر پر کھدے ہوئے تقریباً 1،700 سال پرانے مجسمے کی دریافت کا اعلان نومبر میں کیا گیا تھا۔


خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں دریافت شدہ دنیا میں بدھ کے قدیم ترین مجسمے کے ٹوٹے ہوئے سر کی ایک تصویر۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ سر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اسے مجسمے کے ساتھ دوبارہ جوڑ دیا جائے گا۔ [کے پی محکمۂ آثارِ قدیمہ]
خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں دریافت شدہ دنیا میں بدھ کے قدیم ترین مجسمے کے ٹوٹے ہوئے سر کی ایک تصویر۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ سر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اسے مجسمے کے ساتھ دوبارہ جوڑ دیا جائے گا۔ [کے پی محکمۂ آثارِ قدیمہ]
خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں دریافت شدہ دنیا میں بدھ کے قدیم ترین مجسمے کے ٹوٹے ہوئے سر کی ایک تصویر۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ سر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اسے مجسمے کے ساتھ دوبارہ جوڑ دیا جائے گا۔ [کے پی محکمۂ آثارِ قدیمہ]

کنجور پتھر پر کھدے ہوئے تقریباً 1،700 سال پرانے مجسمے کی دریافت کا اعلان نومبر میں کیا گیا تھا۔

پشاور -- خیبرپختونخوا میں دنیا میں بدھ کے قدیم ترین مجسمے کی دریافت نے خطے میں مذہبی سیاحت -- اور متعلقہ معاشی فوائد -- کے فروغ کی امیدوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

کے محکمۂ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر اور ہزارہ یونیورسٹی کے شعبۂ آثارِ قدیمہ کو حال ہی میں ضلع ہری پور کے گاؤں بھامالا میں 14 میٹر طویل افقی سمت میں لیٹے ہوئے بدھ کی باقیات ملی ہیں۔ ایسے مجسمے، جو سوتا ہوا بدھ یا بدھ کی موت کا منظر کے طور پر بھی معروف ہیں، ان کی وفات سے قبل آخری بیماری کی عکاسی کرتے ہیں۔

حکام نے کنجور پتھر سے تراشے گئے، تقریباً 1،700 سال پرانے مجسمے کی دریافت کا اعلان 15 نومبر کو کیا تھا۔

کے پی کے ڈائریکٹر آثارِ قدیمہ و عجائب گھر عبدالصمد نے کہا، "یہ [مجسمہ] تیسری صدی عیسوی کا ہے، جو اسے دنیا کا سوتے ہوئے بدھ کا قدیم ترین مجسمہ بناتا ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سوتا ہوا بدھ ۔۔۔ کی تلاش کے علاوہ، ہم نے اس مقام سے بدھ مت کی 500 اشیاء دریافت کی ہیں۔"

بھامالا گاؤں میں موجود گنبد ایک آثارِ قدیمہ کا مقام ہے جو بھامالا بدھا کمپلیکس کے نام سے بھی مشہور ہے۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے یہ مقام سنہ 1929 میں دریافت کیا تھا، کھدائی کا عمل تقریباً 88 برس بعد دوبارہ شروع ہوا تھا، جس کے نتیجے میں حالیہ دریافت ہوئی ہے۔

کثیر ثقافتی کا ایک مرکز

کے پی محکمۂ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر کے تحقیقی افسر اور ترجمان، نواز الدین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ ابھی تک دریافت ہونے والا بدھ کا سب سے بڑا مجسمہ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ یہ مجسمہ کے پی کی نوادراتی اہمیت کو نمایاں کرے گا اور بین الاقوامی سیاحوں، خصوصاً بدھ مت کے لوگوں کی توجہ اپنی طرف راغب کرے گا۔

انہوں نے کہا، "بدھ مت اور ہندومت سے متعلقہ بہت سے آثارِ قدیمہ اور مقدس مقامات کی موجودگی کی وجہ سے کے پی کثیر ثقافتی کا ایک مرکز رہا ہے۔"

نواز الدین نے کہا، "آثارِ قدیمہ کے کثیر مقامات کی وجہ سے صوبے میں مذہبی سیاحت کا امکان بہت زیادہ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ پشاور کا عجائب گھر بھی نوادرات اور مجسموں کی نمائش کے لیے منفرد ہے جو بدھ کی پیدائش سے لے کر وفات تک کی زندگی کی کہانیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

نواز الدین نے کہا کہ بہتر امن و امان اور عسکریت پسندی میں کمی کی مہربانی سے، کے پی میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت کے اس شعبے کی بہتر تشہیر کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا، "پچھلے چند سالوں سے، سری لنکا سے بدھ راہبوں کے وفود باقاعدگی سے مردان میں تخت بھائی بدھ مت کی باقیات پر مئی میں اپنے سالانہ ویساکھ میلے [بدھ کا یومِ پیدائش منانا] پر دینی رسومات کی ادائیگی کے لیے آتے رہے ہیں۔"

سیاحوں کو راغب کرنا

بھامالا میں 15 نومبر کو ایک نیوز کانفرنس میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین، عمران خان نے کہا امن بحال ہو چکا ہے اور بین الاقوامی سیاحوں کو پاکستان کے قدرتی مناظر کے مقامات اور آثارِ قدیمہ دیکھنے کے لیے آنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا، "آثارِ قدیمہ اور ورثہ کے مقامات کی بحالی اور تزئینِ نو سیاحت کے فروغ میں مدد کر سکتی ہے اور غیر ملکی سیاحوں کو راغب کر سکتی ہے۔"

خان نے کہا، امن کی بحالی کے صدقے سیاحت ترقی کر گئی ہے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سیاح پاکستان، خصوصاً کے پی میں، قدرتی مناظر کے مقامات اور ورثہ کے مقامات دیکھنے آ رہے ہیں۔"

15 نومبر کو ہری پور میں مہمانوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کے پی کے چیف سیکریٹری محمد اعظم خان نے کہا کہ کے پی حکومت نے صوبے میں آثارِ قدریمہ کو محفوظ کرنے اور بچانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ بریفنگ میں سری لنکا، آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور موریطانیہ کے سفارتی نمائندے موجود تھے۔

خان نے کہا کہ آثارِ قدیمہ کی سیاحت کو ترقی دینے اور سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے صوابی، مردان، بنوں اور پشاور سمیت کئی اضلاع میں کھدائی کا کام جاری ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج