2017-09-13 | سلامتی

سیکیورٹی فورسز نے انصار الشرعیہ پاکستان کو نشانے پر رکھ لیا

از ضیاء الرحمان

پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کم معروف عسکری گروہ کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے۔


2 ستمبر کو ایک پاکستانی تفتیش کار کراچی میں حزبِ اختلاف کے ایک سیاستدان پر حملے کی جائے وقوعہ کا معائنہ کرتے ہوئے۔ پولیس نے کہا کہ انصار الشرعیہ پاکستان کے مسلح افراد نے کراچی میں جب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماء خواجہ اظہار الحسن پر فائر کھولا تو اس میں ایک 10 سالہ لڑکا اور ایک محافظ جاں بحق ہو گئے تھے۔ [آصف حسین/اے ایف پی]
2 ستمبر کو ایک پاکستانی تفتیش کار کراچی میں حزبِ اختلاف کے ایک سیاستدان پر حملے کی جائے وقوعہ کا معائنہ کرتے ہوئے۔ پولیس نے کہا کہ انصار الشرعیہ پاکستان کے مسلح افراد نے کراچی میں جب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماء خواجہ اظہار الحسن پر فائر کھولا تو اس میں ایک 10 سالہ لڑکا اور ایک محافظ جاں بحق ہو گئے تھے۔ [آصف حسین/اے ایف پی]
2 ستمبر کو ایک پاکستانی تفتیش کار کراچی میں حزبِ اختلاف کے ایک سیاستدان پر حملے کی جائے وقوعہ کا معائنہ کرتے ہوئے۔ پولیس نے کہا کہ انصار الشرعیہ پاکستان کے مسلح افراد نے کراچی میں جب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنماء خواجہ اظہار الحسن پر فائر کھولا تو اس میں ایک 10 سالہ لڑکا اور ایک محافظ جاں بحق ہو گئے تھے۔ [آصف حسین/اے ایف پی]

پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کم معروف عسکری گروہ کا نیٹ ورک توڑ دیا ہے۔

کراچی -- کراچی میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے بعد، قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک نئی مشکل سے نمٹ رہے ہیں -- غیر معروف عسکریت پسند تنظیمیں جو چھوٹے سیلوں کی صورت میں مصروفِ عمل ہیں۔

ایسا ایک گروہ انصار الشرعیہ پاکستان (اے ایس پی) ہے، ایک عسکری تنظیم جو تقریباً درجن بھر ارکان پر مشتمل ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ شام کے مقامی القاعدہ سے منسلک گروہ، النصرہ فرنٹ کی چھتری تلے کام کرتی ہے۔ پاکستانی وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے بدھ (13 ستمبر) کے روز کہا کہ حکومت جلد ہی اے ایس پی پر پابندی لگا دے گی۔ انہوں نے کہا، "دہشت گرد گروہ کے دیگر ارکان کے خلاف کارروائی کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کسی بھی گروہ یا جماعت کو اشتعال انگیز کارروائیوں میں مشغول ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔"

گروہ کے قیام کی درست تاریخ نامعلوم ہے، لیکن یہ کراچی میں اپریل میں سامنے آیا تھا، جب اس نے بلوچ کالونی میں ایک ریٹائرڈ پاکستانی فوجی جنرل طاہر ضیاء ناگری کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

گزشتہ پانچ ماہ میں پولیس افسران کے قتلوں پر ہونے والی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ اے ایس پی کے عناصر کئی حملوں کی پشت پر تھے۔

21 مئی کو، دہشت گردوں نے دھوراجی کے مضافات کے قریب ایک مقابلے میں دو پولیس اہلکاروں کو شہید کر دیا تھا۔ 23 جون کو، مسلح افراد نے چار پولیس اہلکاروں کو سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائٹ) کے علاقے میں شہید کر دیا تھا۔

کراچی کے مقامی ایک اعلیٰ خفیہ اہلکار جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی کیونکہ وہ کھلے عام واقعات کے بارے میں بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں، کے مطابق، ان حملوں کی پشت پر اے ایس پی تھی۔

انہوں نے کہا کہ گروہ نے پولیس پر حملوں اور ناگری کے قتل کی ذمہ داری جائے وقوعہ پر پھینکے جانے والے پمفلٹوں میں قبول کی تھی۔

اے ایس پی نے اپنی تخریبی کارروائیاں 2 ستمبر، عیدالاضحیٰ کے پہلے روز تک جاری رکھیں، جس میں کراچی کے بفرزون علاقے کے مضافات میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماء خوابہ اظہار الحسن پر حملہ شامل ہے۔

سندھ اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے رہنماء، اظہار الحسن زخمی ہونے سے بچ گئے تھے، لیکن ان کی حفاظت پر مامور ایک پولیس افسر اور ایک 10 سالہ لڑکا جاں بحق ہو گئے تھے۔

تازہ ترین حملے نے پولیس، رینجرز اور خفیہ اداروں کو اس گروہ کو توڑنے کے لیے چھاپے مارنے کی تحریک دی۔

5 ستمبر کو علی الصبح، پولیس نے اے ایس پی کے ملزم سربراہ عبداللہ ہاشمی کو گرفتار کر لیا، جو یونیورسٹی آف کراچی کے عملی طبیعات کے شعبے سے فارغ التحصیل تھا اور این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے کمپیوٹر کے شعبے میں کام کرتا تھا۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اے ایس پی کے خلاف کارروائی کا آغاز

خفیہ کے اعلیٰ افسر نے کہا کہ مخبری پر مبنی جاری کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ابھی تک اے ایس پی کے کم از کم چھ مشتبہ ارکان کو کراچی کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "گرفتار شدہ تمام مشتبہ افراد ماضی میں کئی عالمگیر اور مقامی کالعدم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ منسلک تھے جن میں 'دولتِ اسلامیہ' (داعش) اور لشکرِ جھنگوی شامل ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اے ایس پی کے ارکان کی تعداد محض 10 اور 12 کے درمیان ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جلد ہی انہیں بھی گرفتار کر لیں گے جو ابھی تک مفرور ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروہ اے ایس پی جیسے نئے سیل بنا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گمراہ کرنے کا جواء کھیل رہے ہیں۔ سیل نئے اور مرتکز ہو سکتے ہیں، لیکن ان میں وہی انتہاپسندانہ نظریات مشترکہ ہیں۔

اسلام آباد میں پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر، محمد عامر رانا نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کچھ رہنماؤں نے اپنے گروہوں کو نئی تنظیمیں بنانے اور ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے ساتھ روابط بنانے کے لیے خیرباد کہہ دیا تھا۔ دیگر صورتوں میں، نئے اور بہت چھوٹے سیل ایک مخصوص جغرافیائی مقام پر کارروائیاں کرنے کے لیے تشکیل دیئے گئے ہیں۔"

نئے دہشت گرد سیل، وہی انتہاپسندانہ نظریات

کراچی کے ایک مقامی صحافی، نیامت خان، کو اے ایس پی اور داعش سے متاثر نوجوانوں کے نیٹ ورک جس نے مئی 2015 کو کراچی میں صفورا گوٹھ بس میں قتلِ عام کیا تھا کے درمیان ایک مماثلت لگی ہے۔

موٹرسائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے بس کو روکا اور اس میں سوار ہو گئے، اور اسماعیلی شیعہ مسلمان اقلیت سے تعلق رکھنے والے 46 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جن میں 16 خواتین بھی شامل تھیں۔

"دونوں تنظیموں میں شامل عسکریت پسندوں کا کوئی سابقہ مذہبی پس منظر نہیں تھا،" کا اضافہ کرتے ہوئے خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "داعش سے متاثر گروہوں کی طرح، اے ایس پی کے بھرتی ہونے والے افراد ممتاز یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔"

یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں میں عسکریت پسندی سے فکر مند، سندھ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یونیورسٹیوں کے حکام کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کر دیا ہے۔

کیمپسوں میں عسکریت پسندی کے ممکنہ پھیلاؤ اور اس کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے صوبے کی 40 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر صاحبان اور نمائندگان نے 12 جولائی کو شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کی۔

سی ٹی ڈی کے ایک اعلیٰ عہدیدار، عمر شاہد حامد نے جولائی میں پاکستان فارورڈ کو بتایا، "گرفتار شدہ عسکریت پسندوں سے ہونے والی تفتیش ظاہر کرتی ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں ملک کی ممتاز یونیورسٹیوں میں فعال ہیں۔"

UNTRANSLATED

UNTRANSLATED

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج