|

سلامتی

خیبرپختونخوا پولیس خوشی میں ہوائی فائرنگ ختم کرنے کے لیے پُرعزم

18 جون کو پاکستان کی کرکٹ میں فتح کی خوشی میں ہوائی فائرنگ میں کم از کم 33 افراد زخمی ہوئے تھے۔

از دانش یوسفزئی

خیبرپختونخوا پولیس کا کہنا ہے کہ خوشی کے موقع پر ہوائی فائرنگ عوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، اور حکام خطرات سے متنبہ کرنے کے لیے گرفتاریوں اور بیداریٔ شعور کی مہم کے ساتھ کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔ پشاور میں ایک منگنی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کی ویڈیو. [دانش یوسفزئی]

پشاور -- خیبرپختونخوا پولیس کا کہنا ہے کہ خوشی کے موقع پر ہوائی فائرنگ عوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، اور حکام خطرات سے متنبہ کرنے کے لیے گرفتاریوں اور بیداریٔ شعور کی مہم کے ساتھ کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔

نیوز انٹرنیشنل نے خبر دی کہ اتوار (18 جون) کے روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کی ہندوستان کے خلاف فتح کے بعد خوشی میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ سے پشاور میں کم از کم 25 افراد اور مردان میں 8 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

دی نیوز کے مطابق، خوشی سے سرشار شائقین نے کے پی پولیس کی جانب سے نافذ کردہ ہوائی فائرنگ پر پابندی کے باوجود ہزاروں گولیاں ہوا میں چلا دیں۔

پشاور پولیس نے اس خطرناک اور غیر قانونی فائرنگ کی وجہ سے 66 گرفتاریاں کرنے کی اطلاع دی۔

آگاہی پھیلانا

پشاور میں سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) برائے آپریشنز سجاد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستان میں عید اور نئے سال اور بیاہ شادیوں کے دوران ہوائی فائرنگ برسوں سے ایک عام روایت رہی ہے، لیکن یہ خطرناک ہے۔

انہوں نے کہا، "کے پی میں حکام نے عوام کو اس سماجی برائی کے اثرات کے متعلق تعلیم دیتے ہوئے، صوبے میں ہوائی فائرنگ کے خلاف ایک مؤثر مہم شروع کی ہے۔

سجاد نے کہا کہ پشاور میں پولیس کے اعلیٰ عہدیداران نے آگاہی پھیلانے کے لیے نمازِ جمعہ کے دوران پشاور کی بڑی مساجد میں جانے کے احکامات دیئے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "انہوں نے امام صاحبان کے خطابت کے بعد نمازیوں سے خطاب کیا۔ [سامعین] نے اس سماجی برائی کی وجہ سے بے گناہوں کو ہونے والے نقصانات کے متعلق سنا۔"

سجاد نے کہا کہ مساجد میں جانے کے علاوہ، کے پی پولیس نے شعور پھیلانے کی ایک اور مہم بھی شروع کی ہے جس میں کئی عوامی مقامات پر بینر آویزاں کرنا اور گاڑیوں پر پوسٹر لگانا، سماجی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنا اور مقامی ریڈیو اسٹیشنوں سے اعلانات کرنا شامل ہیں۔

معاشرے کی جانب سے معاونت ضروری ہے، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہمارا مقصد شہریوں کو تعلیم دینا اور بے گناہ لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانا ہے۔"

ہوائی فائرنگ کے نتائج

انہوں نے عمائدین اور سماجی رہنماؤں کو یہ یقینی بنانے کی ترغیب دی کہ ان کے علاقوں میں ہوائی فائرنگ نہ ہو، کا اضافہ کرتے ہوئے سجاد نے کہا کہ پولیس افسران نے عوام کو قانون کی خلاف ورزی کرنے کے نتائج سے متنبہ کیا۔

حکام کے مطابق، گزشتہ سال عید الفطر کے دوران پورے کے پی اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں ہوائی فائرنگ کے کئی واقعات میں تین پاکستانی جاں بحق اور 48 زخمی ہو گئے تھے۔

پشاور کا رہائشی اور ایک سیکیورٹی گارڈ، 56 سالہ انور خان زخمی ہونے والوں میں سے ایک تھا۔

ہوا سے آتی ہوئی ایک گولی ان کے کندھے میں اس وقت پیوست ہو گئی تھی جب وہ ایک مسجد کے صحن میں نماز ادا کر رہے تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میرا علاج پر 6،000 روپے (57 ڈالر) خرچ آیا جبکہ میری ماہانہ آمدن 8،000 (76 ڈالر) ہے۔ اس کے بعد اپنے اخراجات کا انتظام کرنا میرے لیے بہت مشکل تھا۔"

اماموں، مکینوں کی جانب سے مدد

پشتہ خارہ میں مسجد زبیر کے ایک امام، قاری خالد الرحمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "حکومت کی جانب سے دینی مراکز کو عوام کو تعلیم دینے اور بے گناہوں کی زندگیاں بچانے کے لیے استعمال کرنا ایک اچھا اقدام ہے۔"

انہوں نے کہا کہ بھٹکتی ہوئی گولیوں سے بہت سی اموات اور فالج کے واقعات ہوئے ہیں۔

اسلام بے گناہوں کو مارنے کی ممانعت کرتا ہے، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "مختلف تقریبات کے دوران بے گناہ جان سے جاتے ہیں، جس سے وہ تقریب ان کے لیے سوگ بن جاتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اگر یہ ممانعت لوگوں کو روکنے کے لیے معقول وجہ نہیں ہے تو ہوائی فائرنگ پیسے کا ضیاع ہے۔ اسلام غیر ضروری سرگرمیوں پر پیسے لٹانے سے منع کرتا ہے۔

چمکنی کے مکین اشفاق خان نے ہوائی فائرنگ کی بلند شرح پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "عید، شادی بیاہوں اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جانب سے کسی بھی بڑی جیت کے دوران ہزاروں گولیاں آسمان کی طرف چلائی جاتی ہیں۔"

انہوں نے کے پی پولیس کی انسدادِ ہوائی فائرنگ مہم کو سراہا اور بہتر نتائج کی امید کا اظہار کیا۔

پولیس کی جانب سے عیدالفطر کی تیاری

چکمنی کے ایس ایچ او اور سب انسپکٹر ہمایوں خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ عید کی تیاریوں میں عوامی تعلیم کی مہم اپنے پورے جوبن پر ہے۔

انہوں نے کہا، "پشاور پولیس پہلے ہی بیداریٔ شعور کی مہم شروع کر چکی ہے۔"

ہمایوں نے کہا کہ افسران شہریوں سے ایسے پیغامات کے ساتھ اس روایت کر ترک کرنے کی درخواست کرتے ہیں، "ہوائی فائرنگ ممنوع ہے" اور "آئیے مل کر اس غیر اخلاقی روایت کو اپنے معاشرے سے ختم کریں۔"

انہوں نے کہا کہ پچھلے جمعہ کو انہوں نے نمازِ جمعہ کے لیے جمع ہونے والے نمایوں سے ایک مقامی مسجد میں خطاب کیا تھا اور انہیں ہوائی فائرنگ ختم کرنے کی تلقین کی۔

انہوں نے پیشین گوئی کی، "دوستانہ رویہ [جو ہمارے ساتھ روا رکھا گیا] ہماری کامیابی کی نشاندہی کرتا ہے، اور اس عید پر ہم ہوائی فائرنگ میں بہت زیادہ کمی دیکھیں گے۔"

کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں پولیس جوابی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔

ہمایوں نے کہا، "ہمیں اعلیٰ حکام کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے متعلق بہت واضح احکامات ملے ہیں۔ ہم خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بہت سخت قانونی کارروائی کریں گے۔"

انہوں نے کہا کہ ایسی ہی مہمات مردان، کوہاٹ، صوابی، نوشہرہ اور دیگر اضلاع میں بھی چلائی گئی ہیں۔

ایس ایس پی سجاد نے کہا، "ہم نے تمام سب ڈویژنوں اور پولیس تھانوں کے سربراہوں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ اس بارے میں ہم کوئی کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج