|

کاروبار

'میڈ ان خیبرپختونخوا' سرمایہ کاری کو فروغ اور امن بحال کر رہا ہے

دہشت گردی نے خطے کی معیشت کو تباہ و برباد کر دیا تھا، جس کے بارے میں کاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انہیں اس کی بحالی اور بہتری کی امید ہے۔

از عدیل سعید


'میڈ ان خیبرپختونخوا' نمائش کے مہمان 6 مئی کو اسلام آباد میں ہاتھ سے بنے زیورات اور دیگر مقامی مصنوعات کی نمائش کرنے والے سٹال دیکھتے ہوئے۔ [تصویر بشکریہ کے پی سی سی آئی]

'میڈ ان خیبرپختونخوا' نمائش کے مہمان 6 مئی کو اسلام آباد میں ہاتھ سے بنے زیورات اور دیگر مقامی مصنوعات کی نمائش کرنے والے سٹال دیکھتے ہوئے۔ [تصویر بشکریہ کے پی سی سی آئی]

پشاور -- مقامی تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 7-6 مئی کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی، 'میڈ ان خیبرپختونخوا' نمائش ایک ثبوت ہے کہ امن واپس لوٹ آیا ہے اور یہ کہ ایک دہائی کی دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے بعد معیشت بحال ہو رہی ہے۔

کے پی ایوانِ صنعت و تجارت (کے پی سی سی آئی) کے صدر حاجی محمد افضل، جنہوں نے تقریب کا اہتمام کیا تھا، نے کہا، "نمائش کے انعقاد کا مقصد [کے پی] کے نرم تشخص کو بہتر بنانا ہے تاکہ عالمی برادری کو پیغام دیا جائے کہ ہمارے خطے نے دہشت گردی سے نجات پا لی ہے اور یہ کہ مقامی اور غیر ملکی، دونوں قسم کی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اسلام آباد کو نمائش کے انعقاد کے لیے اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ کے پی "غیر ملکیوں اور سفارتکاروں تک پہنچنا چاہتا ہے جن کے ذریعے ہم اپنے صوبے کے تشخص کو بحال کرنا چاہتے ہیں، جسے بیرونی دنیا دہشت گردی کا مرکز تصور کرتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "کے پی کی تاجر برادری نے عسکریت پسندی، اغواء کاری اور بھتہ خوری کی وجہ سے بہت مسائل کا سامنا کیا ہے، لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور ہمارے خطے میں امن بحال ہو گیا ہے۔"

آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد جیسی عسکری کارروائیوں نے ہزاروں دہشت گردوں کو ہلاک اور باقیوں کو ان کی سابقہ پناہ گاہوں سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے پی سی سی آئی کے ذریعے، تاجر برادری ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مدعو کرنا چاہتی ہے کہ وہ ہائیڈرو الیکٹرک پاور، تیل و گیس کی دریافت، معدنی وسائل، دستکاریوں اور تازہ پھلوں میں کے پی کے وافر مواقع سے مستفید ہوں۔

کے پی 'سرمایہ کاری کے لیے محفوظ'

صدر ممنون حسین نے 6 مئی کو ہونے والی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا، "میڈ ان خیبرپختونخوا نمائش کا انعقاد ملک میں معاشی استحکام کی بحالی کی علامت ہے اور بدمعاشوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ کے پی کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ بنا دیا گیا ہے۔"

صدر نے سخت دشواریوں اور ناموافق حالات میں سے گزرنے پر کے پی کے تاجر رہنماؤں کے صبر اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ تاجر برادری بہادری سے یہ ثابت کرنے پر تعریف کی مستحق ہے کہ پاکستان مٹھی بھر دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکے گا۔

کے پی سی سی آئی کے سابق صدر، ذوالفقار علی خان نے میڈ ان خیبرپختونخوا نمائش کے انعقاد کا مشورہ دیا تھا۔

خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایسی تقریبات کے انعقاد کی وجہ صوبے کے تشخص کو بہتر بنانا ہے۔"

انہوں نے کہا، "کے پی میں تجارتی نمو سست ہے کیونکہ دوسرے خطوں اور ممالک سے تعلق رکھنے والے کاروباری حضرات یہاں سرمایہ کاری کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔"

جواب کو "حوصلہ افزا" قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہم نے نہ صرف اپنی مصنوعات غیر ملکیوں کو دکھانے کے لیے، بلکہ اپنے تشخص کو بھی بہتر بنانے کے لیے ایسی نمائشیں لگانے کا فیصلہ کیا۔"

انہوں نے کہا گزشتہ برس، کاروباری اداروں نے نمائش کے لیے 60 سٹال بُک کروائے تھے، اس کے مقابلے میں اس سال 120 سٹال بک کروائے گئے ہیں۔

کے پی کی مصنوعات، کاروباری مواقع کی نمائش

کے پی سی سی آئی کے سینیئر نائب صد محمد اقبال نے کہا، "ہزاروں لوگ نمائش میں آئے۔"

کاروباری سرمایہ کار اور خاندان بھی آئے اور انہوں نے مختلف سٹالوں پر دلچسپی کا مظاہرہ کیا، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم توقع نہیں کر رہے تھے کہ لوگ کے پی کی مصنوعات میں اتنی دلچسپی کا اظہار کریں گے۔"

انہوں نے کہا کہ برطانوی ہائی کمشنر، سپین کے سفارت خانے اور کچھ وسط ایشیائی ممالک کے سفارت خانوں کے نمائندوں نے اسلام آباد میں کچھ دیگر سفارتی مشنوں کے ساتھ نمائش میں شرکت کی۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیٹر الیاس بلور نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی سے متاثرہ خطے میں تاجر برادری کی مدد کے لیے نئے مالی امدادی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں کے پی کے کاروباری اداروں کی جانب سے پیش کی گئی قربانیاں مثالی ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کے پی کے کاروباروں نے دہشت گردی کی وجہ سے نقصان کی صورت میں جو قربانیاں دی ہیں انہیں نظر میں رکھتے ہوئے، یہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ خطے میں معیشت کو سہارا دے۔"

بلور، جو کہ پاکستان بزنس مین فورم کے صدر بھی ہیں، نے کہا کہ میڈ ان خیبرپختونخوا نمائش خطے کی مصنوعات کی نمائش کرنے، اور یہ تصور دینے کا مناسب پلیٹ فارم ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا خاتمہ کر رہا ہے۔

ترقی کے لیے امن ناگزیر ہے

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سابق صد، سینیٹر حاجی غلام علی نے کہا، "دہشت گردی نے پاکستان کی معیشت کو باالعموم اور کے پی میں باالخصوص بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردی کی وجہ سے کے پی میں معاشی بدحالی کی وجہ سے، صوبے کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان ۔۔۔ روزگار کے لیے دوسرے ممالک میں ہجرت کر گئے۔"

انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے امن ناگزیر ہے۔

انہوں نے پیشین گوئی کی، "میڈ ان خیبرپختونخوا نمائش کے پی کے ماتھے سے کلنک کا ٹیکا مٹانے میں بہت زیادہ مدد کرے گی۔"

کے پی اکنامک زون ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (کے پی ای زیڈ ڈی ایم سی) کے چیئرمین، غلام دستگیر نے کہا، "ایسی تقریبات ہمارے خطے میں امن کی بحالی اور ترقی کے متعلق عالمی برادری کو پیغام دینے کے لیے ضروری ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ کے پی ای زیڈ ڈی ایم سی ایبٹ آباد میں ایک سرمایہ کاری فورم منعقد کروانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جہاں یہ 25 ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں کو کے پی کا دورہ کرنے کی دعوت دے گی۔

انہوں نے کہا، "کے پی تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے، اور اب دہشت گردی کی کلنک کا ٹیکا مٹانے کے لیے یہ ضروری ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج