|

نوجوان

بین الاقوامی تھیئیٹر فیسٹیول سے پاکستانی نوجوان محظوظ

7 تا 9 اپریل پاکستان میں نوجوانوں کے لیے پہلا بین الاقوامی تھیئیٹر فیسٹیول، تماشا فیسٹیول 2017 منعقد ہوا۔

آمنہ ناصر جمال


7 اپریل کو لاہور میں نوجوان اداکار "گوگی اور جکنو کا تماشا" میں اداکاری کر رہے ہیں۔ [آمنہ ناصر جمال]

7 اپریل کو لاہور میں نوجوان اداکار "گوگی اور جکنو کا تماشا" میں اداکاری کر رہے ہیں۔ [آمنہ ناصر جمال]

لاہور – تماشا فیسٹیول 2017 میں پاکستانی نوجوان اور ہر عمر کے "نوجوان روح" کے حامل افراد تھیئیٹر، تفریح اور ورکشاپس کے تین روز سے محظوظ ہوئے۔

7-9 اپریل کو لاہور میں منعقد ہونے والا یہ میلہ نوجوان افراد اور بچوں کے لیے بین الاقوامی تھیئیٹر فیسٹیول (اے ایس ایس آئی ٹی ای جے) کی پاکستانی شاخ کے زیرِ انتظام اپنی طرز کا پہلا میلہ تھا۔

اے ایس ایس آئی ٹی ای جے پاکستان اے ایس ایس آئی ٹی ای جے انٹرنیشنل کا ایک باب ہے، جو دنیا بھر سے ایسے تھیئیٹرز، تنظیموں اور افراد کو متحد کرتا ہے جو بچوں اور نوجوان افراد کے لیے تھیئیٹر تشکیل دیتے ہیں۔

اے ایس ایس آئی ٹی ای جے پاکستان کے ارکان دی لٹل آرٹ، چھوٹا موٹا تھیئیٹر، ہرسکھ، ایم اے اے ایس فاؤنڈیشن اور انڈِپنڈنٹ تھیئیٹر پاکستان نے اس تقریب کی میزبانی کی اور میلہ کے دوران مظاہرہ ہائے فن پیش کیے۔

تھیئیٹر ایسوسی ایشنز سے نمائندگان اور آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے پیشہ وران نے بھی شرکت کی۔

بچوں کی تھیئیٹر پرفارمنس کے ساتھ ساتھ اس میلہ میں عوام الناس کے لیے تربیتی ورکشاپس اور گفت و شنید کی نشستیں بھی عام منعقد کی گئیں۔

تھیئیٹر کے ذریعہ ذہنوں کی کشادگی

دی لٹل آرٹ کے فیسٹیول ڈائیرکٹر اور بانی، شعیب اقبال نے کہا، "اس ثقافتی تقریب نے بچوں اور نوجوانوں سے لے کر بڑوں اور کشادہ ذہنوں اور نوجوان روح کے حامل بزرگوں تک بڑی تعداد میں حاضرین کی وجہ سے بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس پہچان کے ساتھ یہ پاکستان کا واحد میلہ اور خطہ میں بین الاقوامی طرز کی واحد تقریب ہے۔"

انہوں نے کہا، "اس میلہ کا تصور نوجوانوں کے ارتقا کے لیے لوگوں کو جمع کر کے ایک ایسے پلیٹ فارم پر لانا تھا جہاں وہ اپنے تصورات ایک دوسرے تک پہنچا سکیں تاکہ وہ لاہور میں ناپید ہوتے تھیئٹر اور پرفارمنگ آرٹس کو فروغ دیتے ہوئےمستقبل میں ایسے ہی اقدامات کر سکیں۔"

انہوں نے کہا کہ نوجوان افراد ایسی کہانیاں سننا پسند کرتے ہیں جو ان کی زندگیوں پر واقعی اثر انداز ہوں اور جن سے متعلق وہ اپنے ساتھیوں سے بات بھی کر سکیں۔

اقبال نے ایک بیان میں کہا، "ایسی کہانیاں ان دانشمندانہ، تفریحی اور متنوع تھیئیٹر پرفارمنس کے ذریعے سنائی جاتی ہیں اور جو اس میلہ میں دنیا بھر سے پیش کی جاتی ہیں اور جو ان کے عالمی ادراک کے ارتقا کے لیے ایک راستہ کھول دیتی ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ میلہ ایک پرامن پاکستان کی جانب ایک معاونت اور امن، رواداری اور ہمارے معاشرے میں شمولیت کے احساس کے اس فروغ کی کوشش کا ایک جزو ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہمیں امید ہے کہ بچے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ لطف اندوز ہونے اور اپنی تخلیقی قوتِ اختراع کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے اسے ایک ترغیب آموز موقع پائیں گے۔"

میلے کی جھلکیاں

اس میلہ میں مکمل دورانییئے کے 8 ڈرامے، سکول گروپس کی جانب سے 21 مظاہرہ ہائے فن اور بچوں، خاندانوں اور معلّمین کے لیے 10 متعامل ورکشاپس پیش کی گئیں۔

دی لٹل آرٹ کی جانب سے پہلے مظاہرۂ فن ”گوگی اور جگنو کا تماشا“ کے لیے پردہ اٹھّا۔ اپنے رنگارنگ مناظر اور مسرورکن موسیقی کے ساتھ ، لاہور میں صرف تیسری مرتبہ دکھایا جانے والا یہ تماشا بچوں کا پسندیدہ بن گیا ہے۔

اس کے بعد لوک پنجابی شاعری کا ایک طائفہ پیش کیا گیا، جس میں ستار پر راکئے جمیل، بانسری پر اکمل قادری، گٹار پر مزمّل احمد اور سارہ کاظمی کی جانب سے پنجابی ادب سے منتخب نظموں کی قرأت شامل تھی۔

شرکت کرنے والی ایک ماں عائشہ نے کہا، ”ہم بطورِ خاص ایک مرتبہ پھر 'گوری اور جگنو کا تماشا' دیکھنے آئے ہیں۔ میرے بچے اس کھیل کو پسند کرتے ہیں اور وہ پرجوش تھے کہ یہ دوبارہ دکھایا جا رہا ہے۔“

میلے کے پہلے روز کی ایک اور خاص بات نادیکا تھرنگنی اور گیانی اتھپلا کی آمد تھی، جو دونوں سری لنکا سے ہیں، اور جنہوں نے تھالا کی روایتی شکل میں ایک ڈرامائی رقص کا مظاہرہ کیا۔

امن، خیر سگالی کا پھیلاؤ

جنوبی کوریا کے فنکار سیوک ہونگ کم نے بتایا، "پاکستان کے لوگوں کی جانب سے امن اور خیرسگالی کا پیغام ملنے پر خوش ہوں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا "یہ ایک پرامن دنیا کی جانب بڑھنے والا قدم ہے۔ ایک جشن میں جہاں لوگ قومیت،ثقافت، زبانوں، معذوری وغیرہ جیسے متنوع اختلافات کے ساتھ اکٹھے ہوں گے جہاں ایک محفوظ ماحول کا قیام عمل لایا جائے گا جس میں ایک دوسرے کو تسلیم کرنے، قبول کرنے، مکالمہ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔"

لاہور کے رہنے والے 25 سالہ فاخر علی نے بتایا، جشن لوگوں کو قریب لاتا ہے تاکہ وہ علم و عمل کے اشتراک سے تھیٹر کے میدان میں بچوں اور نوجوانوں میں فکر کی گہرائی، نئی سوچ کو فروغ دیں اور نئے مواقع تخلیق کرسکیں تمام جگہوں کے سارے بچوں کے لئے۔

فاخر نے مزید بتایا، "جشن بہت کامیاب رہا اور امن عمل کے بڑی تقویت کا باعث ہے۔"

جشن کی ایک نوجوان شریک ماہ رخ نے بتایا، "جشن کے انتظام کے لئے بہت سے شرکا اکٹھے ہوئے، طویل دورانیے کی پروڈکشنز اور مختصر پرفارمنسز پیش کیں، ورک شاپس میں شامل ہوئے، مختلف مکتبہ فکر کے تھیئٹر کے درمیان رابطے استوار ہوئے، ہزاروں میل دور دوستیاں قائم ہوئیں، اور تھیئٹر کے بارے میں علم حاصل کیا اور ایک زندہ، متحرک اور ہم خیال نوجوانوں کی برادری تشکیل دی۔

پرفارمنسز کے علاوہ، جشن میں، اسکول کے نصاب میں پرفارمنگ آرٹ اور تھیئٹر کی شمولیت سے متعلق معلوماتی اور جدید ورک شاپس بھی شامل تھیں۔

ایک پاکستانی ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، بچوں اور نوجوانوں کو اعلٰی درجے کا تھیٹر دکھانے کے لئے ہمیں اس طرح کے جشن ہر سال منعقد کرنے چاہیئں اورایک جگہ فراہم کرنی چاہیئے جہاں وہ خاندان اور دوستوں کے ساتھ اپنے مختلف تجربات بانٹ سکیں۔

انہوں نے بتایا، ایسے مواقع تخلیقی لوگوں کو جنم دیتے ہیں جن کے پاس مختلف فیسٹیول [کے شرکا] سے روابط کی بنا پر وسیع پیمانے کا علاقائی اور بین الاقوامی نکتہ نظر ہوتا ہے اور جانفشانی سے دوسروں سے مل کر کام کر سکتے ہیں۔

ساتویں سالانہ ایشیا ملاقات

اے ایس ایس آئی ٹی ای جے نے بھی 6 اپریل کو ساتویں سالانہ ایشیائی ملن کی میزبانی کی، جرمنی، آسٹریلیا، سری لنکا، نیپال اور یواے ای سے پیشہ ور تھیئٹر والوں کو مستقبل میں پاکستان میں پرفارمنگ آرٹ سے متعلق ممکنہ اشتراک پر بات چیت کے لئے اکٹھا کیا۔

اقبال نے بتایا، "میٹنگ کی توجہ نیشنل سینٹرز کے مابین علاقائی تعاون اور جوئینٹ وینچرز اور اے ایس ایس آئی ٹی ای جے کے اراکین کے درمیان تربیت پر مرکوز رہی۔"

آرٹسٹک ڈائریکٹر/ شریک سی ای او، پولی گلوٹ تھیئٹر فرام آسٹریلیا سو جائلز نے بتایا، یہ ایک نیا نیٹ ورک ہے اور اے ایس ایس آئی ٹی ای جے پاکستان جس کا ایک عظیم نیا باب ہے۔ اور اے ایس ایس آئی ٹی ای جے کی عالمی ایگزیکٹیو کمیٹی کا حصہ ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ ایشیا کے خطے میں تھیئٹر میں کام کرنے والوں کو یکجا کرتا ہے، یہ ذہنوں اور بہترین گفتگو کا حیرت انگیز ملاپ ثابت ہو کہ کس طرح ہر وہ شخص جو اس میدان میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے رابطہ میں ہو اور کس طرح ایشیا کے بچوں کے لئے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج