| تفریح

کراچی کا تھیٹر تماشائیوں کو شدّت پسندی سے بچنے کی تحریک دے رہا ہے

جاوید محمود


28 نومبر کو تھیسپیانز تھیٹر میں تماشا کے دوران دو پتلیاں دکھائی گئی ہیں۔ یہ تماشا کراچی یوتھ انیشیٹیو کا جزُ تھا، جس کا مقصد پاکستانیوں کو دہشتگردی سے دور کرنا ہے۔ [جاوید محمود]

28 نومبر کو تھیسپیانز تھیٹر میں تماشا کے دوران دو پتلیاں دکھائی گئی ہیں۔ یہ تماشا کراچی یوتھ انیشیٹیو کا جزُ تھا، جس کا مقصد پاکستانیوں کو دہشتگردی سے دور کرنا ہے۔ [جاوید محمود]

کراچی — کراچی میں جاری ڈوریوں والی پتلیوں کا ایک میلہ — جو بچوں سے بڑوں تک کے لیے ہے — تماشائیوں کو شدت پسندی،عسکریت پسندی اور تشدد کے خاتمہ کی ترغیب دے رہا ہے۔

تھیسپیانز تھیٹر نے اکتوبر میں متعدد مقامات پر منعقد ہونے والے اس میلے کا آغاز کیا اور یہ 2 دسمبر تک جاری رہے گا۔

تھیٹر کے آرٹسٹک ڈائریکٹر ملک نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”بچوں، طالبِ علموں اور عوام کی حاضری کی تعداد ۔۔۔ ہماری توقعات سے کہیں زیادہ رہی۔“

انہوں نے کہا، ”ہم تقریباً 20,000 افراد کی اصلاح کا ارادہ رکھتے تھے۔ لیکن اب تک 30,000 سے زائد افراد براہِ راست ہمارا پتلی تماشا دیکھ چکے ہیں۔“

2 دسمبر تک یہ تھیٹر کراچی میں 79 مقامات پر 300 مزید تماشے رچانے کی توقع رکھتا ہے۔

روزانہ کے پتلی تماشے

ملک نے کہا، ”ہم نے اکتوبر میں کراچی یوتھ انیشیٹیو کے پرچم تلے ۔۔۔ اس میلے کا آغاز کیا۔ ہم روزانہ دو یا تین پتلی تماشے منعقد کرتے تھے۔“

انہوں نے 300 پتلی تماشوں کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے تیز تر رفتار کی ضرورت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا، ”اب ہم روزانہ 8 سے 10 براہِ راست پرفارمنس منعقد کرتے ہیں۔“

تھیٹر کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر نعمان محمود نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میلے میں ”تین مختلف شو شامل ہیں۔“

پتلی تماشوں میں سے ایک میں چاروں صوبوں کے لوک رقص نمایاں کیے جاتے ہیں، سندباد (ایک عرب لوک داستان) اور سیف الملوک (ایک پاکستانی لوک داستان) شامل ہیں۔

نعمان نے کہا، ”ہمارے براہِ راست تماشے بچوں اور عوام کے بڑے ہجوموں کو کھینچ لاتے ہیں۔ ہم انہیں رنگارنگ پتلیوں سے محظوظ کرتے ہیں اور امن، رواداری، قومی اتحاد اور عسکریت پسندی اور تشدد سے پاک معاشرے کا پیغام دیتے ہیں۔“

چند این جی اوز ان پتلی تماشوں کے لیے مالیات فراہم کرنے میں مدد کر رہی ہیں تاکہ داخلہ مفت رہے، انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ این جی اوز تھیسپیانز کے دہشتگردی اور تشدد کے خلاف پیغام کی حمایت کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشتگردی کی کاوش کے جزُ کے طور پر، تھیسپیانز تھیٹر کم آمدنی والے ایسے علاقوں کی گلیوں میں براہِ راست پرفارمنس منعقد کر رہا ہے جن کے رہائشی شدّت پسندوں کے پیغام کی زد میں ہو سکتے ہیں۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی بلند شرحِ پیدائش دہشتگردی کے خلاف جنگ کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔

اردو زبان کے روزنامہ پاکستان کے کراچی کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر مبشر میر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”پاکستان کی 70 فیصد آبادی نوجوانوں اور بچوں پر مشتمل ہے۔ اگر آبادی کا یہ حصّہ زد پذیر ہو جاتا ہے تو انہیں سنبھالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔“

انہوں نے نشاندہی کی کہ ماضی میں طالبان اور دیگر دہشتگرد گروہوں نے خودکش بم حملوں اور دہشتگردی کی دیگر کاروائیوں کے لیے باقاعدگی سے نوجوانوں کا استعمال کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بچوں کے امور کے لیے کوئی ایک ٹی وی چینل بھی مختص نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد پیغام کے اس خلا میں کودنے کے لیے بے تاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور این جی اوز کو چاہیے کہ بچوں اور نوجوانوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے اقدامات کرنے میں تھیٹر کی مدد کریں۔

نیا آڈیٹوریم

درایں اثناء، تھیسپیانز شہر میں سب سے بڑا نجی ملکیتی آڈیٹوریم قائم کرنے میں مصروف ہے۔

ملک نے کہا کہ آئی آئی چندریگر روڈ پر تھیسپیانز تھیٹر آرٹ سنٹر کا شاندار افتتاح یکم مارچ کو متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ کارکنان موقع پر ایک عمارت کی تجدید کر رہے ہیں اور ایک آڈیٹوریم اور کانفرنس روم تعمیر کر رہے ہیں۔

مکمل ہو جانے پر یہ مرکز پاکستان میں دوسرا اور کراچی کا سب سے بڑا نجی ملکیتی آرٹ سنٹر بن جائے گا۔ لاہور کا رفیع پیر تھیٹر سب سے بڑا ہے۔

ملک نے کہا کہ یہ مرکز پرفارمنسز کی میزبانی کرنے سے اداکاروں کو نئے آنے والوں کو تربیت دینے کے قابل بنانے تک متعدد مقاصد پورے کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ضرورت پڑنے پر تھیسپیانز اس مرکز کو ایک پرفارمنگ آرٹس کالج میں تبدیل کر سکتا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

9
5
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha