|

سلامتی

انسداد دہشت گردی کی مشترکہ مشقوں میں پاکستان کی شراکت داری

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اتحادیوں کے ساتھ انسداد دہشت گردی مشقیں افواج کی علاقائی عسکریت پسندی کو ختم کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کریں گی۔

محمد شکیل


پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف [دائیں] 16 نومبر کو بہاول پور میں فوجی مشقوں کے دوران اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے برابر میں بیٹھے ہیں. بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر ملکی افواج کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے۔  [ایس ایس مرزا/ اے ایف پی]

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف [دائیں] 16 نومبر کو بہاول پور میں فوجی مشقوں کے دوران اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے برابر میں بیٹھے ہیں. بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر ملکی افواج کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے۔ [ایس ایس مرزا/ اے ایف پی]

پشاور-- حکام نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نےخطے میں دیگر افواج کے ساتھ مل کر انسداد دہشت گردی کی مشترکہ فوجی مشقوں کے سلسلے کا انتظام کیا ہے تاکہ عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے کوششوں کا بڑھایا اور تیز کیا جا سکے۔

کوششوں کا مقصد مہارتوں اور تجربات کا اشتراک کرنا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والی افواج کی حکمت عملی کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے۔

دسمبر میں پاکستان اور اردن کی افواج نے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں دو ہفتوں پر مشتمل مشترکہ تربیتی مشقوں میں حصہ لیا۔

"فجر الشّرق 1" کے نام سے جانی جانے والی انسداد دہشت گردی مشق افواج کے باہمی تجربے اور پیشہ ورانہ مہارت کے اشتراک کے لیے منعقد کی گئی، انٹر سروسز پبلک ریلیشنز [آئی ایس پی آر] نے 29 دسمبر کو بیان میں کہا۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مشق میں حصہ لینے والی افواج کا دورہ کیا اور اردن کی فوج کا اس کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انھوں نے کہا، "ایسے انعقاد دو طرفہ اشتراک کرنے، سیکھنے اور فائدے کا ذریعہ ہیں"۔

پاکستان آرمی کی افواج نےسعودی عرب، ترکی، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور دیگر اتحادیوں کی مسلح افواج کے ساتھ بھی مشترکہ انسداد دہشت گردی مشقوں میں حصہ لیا ہے۔

پالیسی میں تبدیلی

اسلام آباد میں سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈیئر [ریٹائرڈ] سعد محمد نے کہا ہے، "غیر ملکی افواج کو مشترکہ مشق میں حصہ لینے کی دعوت دینا انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف حکومت کی پالیسی میں بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے"۔

پاکستان فارورڈ سے گفتگو میں انھوں نے کہا، "پالیسی میں نظر آنے والی تبدیلی یہ طریقہ کار ظاہر کرتی ہے کہ حکمت عملی کی تیاری اور عمل درآمد، دنیا کا اتفاق دیکھتے ہوئے، دہشت گردی کو تنہا کرنے اور اس کے خاتمے کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو گا"۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران دہشت گردی ایک خوف ناک جہت بن چکی ہے، جو کہ معاشرے کی بنیاد کے لیے خطرہ ہے۔ اس شر انگیز پیش رفت نے حکام کو مجبور کیا کہ وہ اپنا ایجنڈا دوبارہ ترتیب دیں اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے نئی پالیسیاں بنائیں۔

"گو کہ پاکستان نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں [دہشت گردی سے لڑنے کے لیے]، بشمول فوجی آپریشنز اور نیشنل ایکشن پلان [این اے پی]، ان مشقوں نے پاکستان کو ایک ایسی قوم کے طور پر پیش کیا ہے جو کہ عسکریت پسندی کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے"، انھوں نے کہا۔

حکومت نے دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور میں 140 بچوں اور اساتذہ پر دہشت گرد خون ریزی کے چند ہفتوں بعد نیشنل ایکشن پلان [این اے پی] کا آغاز کیا تھا۔

انھوں نے کہا، "یہ مشقیں شورش پسندی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی سنجیدگی اور مزید جارحانہ پالیسی کو ظاہر کرتی ہیں اور سول قیادت اور فوجی قیادت کے مابین اس معاملے پر اتفاق رائے ہوا"۔

پچھلے بے ہنگم طریقہ کار کی جگہ "ایک زیادہ پر اعتماد اور غیر متزلزل پالیسی جگہ لے چکی ہے جو کہ غور و خوص کے بعد تیار کی گئی ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے عالمی حصے داری کی ضرورت ہے"، انھو ں نے کہا۔

امن کے لیے ذمہ داری

محمد نے کہا کہ ایک دہائی کی غیر واضح انسداد دہشت گردی پالیسیوں کے بعد، پاکستان کو "روشنی کا مرکز" ملا جب نومبر 2013 میں جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف کے طور پر کمان سنبھالی۔

انھوں نے کہا، "ان کے حوصلہ مند مؤقف کے تحت دھندلی اور غیر واضح پالیسی نئی راہ پر گامزن ہوئی، جبکہ دور دراز عسکریت پسندی سے بھر پور علاقوں میں سیکیورٹی آپریشنز کا آغاز ہوا ۔۔۔ اور اس کے بعد بے مثال کامیابیاں ملیں۔

انھو ں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کے جارحانہ انداز نے پاکستان کو اس قابل بنایا کہ وہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فاتح کے طور پر ابھرے"۔ اس عزم و ہمت نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی "اور ریاست مخالف عناصر کو خوف زدہ کر دیا"۔

27 اکتوبر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر، پبی میں مشترکہ مشق میں حصہ لینے والی افواج سے خطاب میں نواز شریف نے کہا، "انسانیت کی بھلائی کے لیے اور بین الاقوامی امن قائم کرنے کی ذمہ داری کے طور پر ہم دنیا کے ساتھ اپنے تجربات کا اشتراک کر رہے ہیں"۔

مضبوط فوجی قیادت

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کے اس تصور نے وسیع انسداد دہشت گردی پالیسی اور حالیہ مشترکہ فوجی مشقوں کا راستہ ہموار کیا اور باجوہ کے تحت اس کے جاری رہنے کا امکان ہے، جنھوں نے نومبر میں فوج کی کمان سنبھالی۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے بریگیڈیئر[ریٹائرڈ] محمود شاہ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں [فاٹا] کے لیے سابق سیکیورٹی سیکریٹری، کہتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی کی مشقوں میں علاقائی شراکت داروں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ممالک پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے سیکھنا چاہتے ہیں جنھوں نے عسکریت پسندی پر قابو پایا ہے۔

انھوں نے پاکستان فارورڈ سے کہا کہ پاکستان کی انتہا پسندی کے خلاف کامیابی کی کہانی نے دیگر علاقائی قوموں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملیوں میں پہلے سے ہی تربیت کریں۔

انھوں نے کہا، "مزید یہ کہ یہ بات سمجھی جاچکی ہے کہ جنگ کو آخری مرحلے تک لے جانا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ایک دوسرے تک دوطرفہ مدد اور تعاون کو بڑھایا جائے"۔

انھوں نے کہا، "دہشت گردی کے خلاف ہماری کوششوں کو دنیا بھر سے سراہا گیا ہے کیونکہ ملک نے اپنی افواج اور عوام کے بھرپور عزم و حوصلے سے انتہا پسندی کو شکست دی ہےاور قریباً نیست و نابود کردیا ہے"۔

انھوں نے کہا، "جبکہ مشترکہ مشقیں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی مہارت کی نشان دہی کرتی ہیں، بین الاقوامی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ خطے سے خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے"۔

دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا قلع قمع کرنا

اسلام آباد کے فری لانس کالم نگار ملک محمد اشرف جو سیکیورٹی سے متعلق معاملات پر لکھتے ہیں، کہتے ہیں "انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بنیادہ وجوہات پیچیدہ اور ہمہ جہت ہیں"۔

انھوں نے پاکستان فارورڈ سے کہا، "مزید یہ کہ صورت حال کا تقاضا ہے کہ مزید عملی طریقہ کار اختیار کیا جائے، جس سے پاکستان نتائج حاصل ہونے والی حکمت عملی تیار کرے جس میں علاقائی اور تزویراتی شراکت داروں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے میں شامل کیا جائے"۔

انھوں نے کہا، "موجودہ مشقوں کا مقصد دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے حقیقت پسند منصوبہ بنانا ہے تاکہ ہمہ جہت حکمت عملی طویل المیعاد بنیادوں پر تیار ہو۔ "

انھوں نے کہا "مشقیں لوگوں میں یہ اعتماد پیدا کریں گی کہ حکومت امن کے ایجنڈے کو ترجیح دے رہی ہے جس کے لیے وہ سیکیورٹی فورسز کی جنگجوئی کی مہارتوں کو بہتر بنا رہی ہے اور علاقائی شراکت داروں کو دعوت دے کر وہ وسیع حکمت عملی بنا رہی ہے تاکہ خطرے سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

2 تبصرے 💬

💬

Muhammad ismail jarwar | 12-09-2017

میرا دل ہر وقت کہتا ہے کہ مسلمان فوج میں شامل ہوں اس لیے برائے مہربانی ایک موقع دیں۔ 2007 سے اب تک سندھ پولیس میں ملازمت کر رہا ہوں میری تاریخ پیدائش 27.11.1989 2007 میں سندھ پولیس میں شامل ہوا


💬

malik abbas | 01-17-2017

آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ پاک فوج بہت اچھی ہے، میری دعائیں پاک فوج کے ساتھ ہیں۔ نہایت عمدہ کام، بہت اچھے۔


انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج