|

دہشتگردی

بلوچستان کی داعش کے حمایتی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی

حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس داعش کے ساتھ الحاق شدہ جنگجو گروہوں کے ساتھ نمٹنے کی ایک جامع حکمتِ عملی ہے۔

از جاوید محمود


فرنٹیئر کور (ایف سی) اور انٹیلیجنس ایجنسی کے اہلکار یکم نومبر کو سرکی قلعہ، کوئٹہ کے قریب ایک دکان کی تلاشی لیتے ہوئے۔ [عبدالغنی کاکڑ]

فرنٹیئر کور (ایف سی) اور انٹیلیجنس ایجنسی کے اہلکار یکم نومبر کو سرکی قلعہ، کوئٹہ کے قریب ایک دکان کی تلاشی لیتے ہوئے۔ [عبدالغنی کاکڑ]

اسلام آباد -- حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت نے صوبے میں تمام عسکریت پسند گروہوں، بشمول وہ جو "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کے حمایتی ہیں، کے خاتمے کے لیے ایک حکمتِ عملی تیار کی ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان، انوارالحق کاکڑ نے کہا، "ہم نے ایک دوشاخہ حکمتِ عملی اختیار کی ہے -- دہشت گردی اور داعش کی حمایت کرنے والے عسکری گروہوں کو کچلنے کے لیے حکمت عملی اور عملی طریقہ ہائے کار۔"

انہوں نے کوئٹہ سے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ایک سال قبل، دفاعی اداروں نے کوئٹہ میں ان دہشت گردوں کا خاتمہ کیا تھا جو کثرت سے ہزارہ برادری کو نشانہ بناتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نتیجتاً، مایوسی کی حالت میں، الگ ہونے والے دھڑے داعش کے ساتھ وابستگی کا اظہار کر رہے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو ہدف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان گروہوں کو داعش کی جانب سے سرمایہ اور امداد ملتی ہے، کا اضافہ کرتے ہوئے، کاکڑ نے کہا، "لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) کے الگ ہونے والے دھڑے اور کچھ دیگر ہم خیال کالعدم عسکری تنظیمیں داعش کی ایماء پر دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، جبکہ داعش مادی طور پر صوبے میں موجود نہیں ہے، بلوچستان حکومت اور دفاعی تنظیموں نے داعش کے حمایتی گروہوں، جو صوبے میں خونریزی کر رہے ہیں، کے خاتمے کے لیے ایک حکمتِ عملی تیار کی ہے۔

کاکڑ نے کہا، "داعش بلوچستان میں صرف سوشل میڈیا پر موجود ہے، مادی طور پر نہیں اور یہ تنظیم کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری اپنا تشخص بنانے اور ملک میں اپنے نفوذ کا مظاہرہ کرنے کے لیے قبول کر رہی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہمارے دفاعی اہلکاروں نے ان عسکریت پسندوں کے خاتمے کا عہد کر رکھا ہے جو یا تو داعش کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں یا اس بدنامِ زمانہ دہشت گرد تنظیم کے لیے کام کر رہے ہیں۔"

داعش کا پاکستان میں پہلا حملہ؟

داعش نے 24 اکتوبر کو کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 65 کیڈٹ جاں بحق اور دیگر 120 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

تاہم، فرنٹیئر کور (ایف سی) کے انسپکٹر جنرل شیر افگن مُصر رہے کہ لشکرِ جھنگوی العالمی، جو کہ القاعدہ، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر ریاست مخالف گروہوں کے ساتھ وابستہ لشکرِ جھنگوی کا ایک الگ ہونے والا دھڑا ہے جس نے یہ حملہ کیا تھا۔

اسلام آباد کے ایک مقامی تھنک ٹینک، پاکستانی ادارہ برائے مطالعاتِ تنازعات و دفاع (پی آئی سی ایس ایس) کے مطابق، لشکرِ جھنگوی العالمی نے ایف سی کے انسپکٹر جنرل کے الزام کی تصدیق کی تھی لیکن ان الفاظ میں داعش کے دعوے کی توثیق بھی کی تھی کہ یہ حملہ ایک مشترکہ کارروائی تھی۔

پی آئی سی ایس ایس نے 29 اکتوبر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا، "اگر تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ پاکستانی سرزمین پر [داعش] کی جانب سے پہلا بڑا حملہ ہو گا۔"

رپورٹ میں کہا گیا کہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ عالمی دہشت گرد گروہ کو ایک مقامی ساتھی مل گیا ہے جو معاشرے میں خوب گھلا ملا ہے۔ اس میں کہا گیا، "لشکرِ جھنگوی کو معاشرے میں حمایت حاصل ہے اور یہ مشرقِ وسطیٰ کے گروہ کے لیے مزید مقامی بھرتیاں کرنے پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔"

رپورٹ میں، پی آئی سی ایس ایس نے کوئٹہ کے حالیہ حملے میں داعش کے مبینہ کردار اور سابقہ حملوں میں ملوث ہونے کے اس کے دعووں پر بحث کی تھی۔

پی آئی سی ایس ایس نے کہا اگرچہ داعش نے 8 اگست کو کوئٹہ سول ہسپتال میں وکلاء کو نشانہ بنانے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، "وہ دعویٰ حقیقت سے زیادہ ذرائع ابلاغ کی شعبدہ بازی تھی۔"

رپورٹ نے کہا، "تاہم اس بار، [داعش نے] تین حملہ آوروں کی ان کے ناموں کے ساتھ تصاویر جاری کی تھیں۔" تینوں جنگجو مارے گئے تھے -- ایک کو پاکستانی فوج نے گولی ماری تھی، جبکہ دیگر دو نے اپنی بارودی جیکٹیں پھاڑ لی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا، "حملے انداز سے، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لشکرِ جھنگوی العالمی نے حملہ کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کیا تھا کیونکہ [داعش] مختلف انداز سے کام کرتی ہے۔ داعش کا "طریقہ کار یہ ہے کہ یہ دہشت گرد پکڑتی ہے اور اسلام کی اپنی ہی متعصب تشریح کے مطابق سخت شرعی قوانین کے اطلاق کے ذریعے اپنی حاکمیت قائم کرتی ہے۔"

پی آئی سی ایس ایس کے انتظامی ڈائریکٹر اور رپورٹ کے مصنف، عبداللہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، " پی آئی سی ایس ایس نے پہلے ہی لشکرِ جھنگوی اور داعش کے درمیان تعلق کے امکان کو نمایاں کر دیا تھا جب مشرقِ وسطیٰ کے گروہ نے دنیا کے اس حصے میں ابھرنا شروع کیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ داعش اور لشکرِ جھنگوی دونوں فرقہ وارانہ خطوط پر کام کرتے ہیں؛ وہ انتہاپسندی کو ہوا دینے میں ہم خیال اور فطرتی اتحادی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کا ایک نقشہ لشکرِ جھنگوی کو مرکز میں رکھتا ہے، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ اسے القاعدہ، ٹی ٹی پی، لشکرِ جھنگوی ہی کے کئی مختلف دھڑوں اور دیگر عسکری گروہوں، بشمول وہ گروہ جو ایران سے کام کرتے ہیں، کی حمایت حاصل ہے اور ان کے ساتھ اس کا گٹھ جوڑ ہے۔

اس میں کہا گیا، "لہٰذا، گروہ کی بیخ کنی کرنا ایک آسان کام نہیں ہے، خصوصاً جب ایران شیعہ فرقہ واریت اور عسکری گروہوں کو فروغ دینے میں ایک منفی کردار ادا کر رہا ہے۔"

بلوچستان کے دفاعی نظام کو بہتر بنانا

خان نے کہا کہ حکومت اور دفاعی اداروں پر لازم ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کو روکنے کے لیے ایک بے عیب حکمتِ عملی وضع کریں۔

کراچی کے مقامی دفاعی تجزیہ کار کرنل (ر) مختار احمد بٹ نے بھی اس سے ملتے جلتے جذبات کا اظہار کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "صوبے میں کثرت سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کو روکنے کے لیے بلوچستان میں مخبری اور دفاع کے نظام کو مزید بہتر بنایا جانا چاہیئے۔"

کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ کالج پر پہلے بھی سنہ 2006 اور 2008 میں حملے ہو چکے ہیں۔

حکومت کے ترجمان، کاکڑ نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے جزو کے طور پر، حکومت ان پولیس افسران کی صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے جو عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے دیگر دفاعی اداروں کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔

کاکڑ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردی کو کچلنے کے لیے پولیس اہلکاروں کو تربیت دی جائے گی، مزید افسران کو بھرتی کیا جائے گا اور پولیس کے پاس مزید صوابدیدی وسائل دستیاب ہوں گے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج