| دہشتگردی

عسکریت پسندی کی حوصلہ شکنی کے لیے پاکستان نے آن لائن شر انگیز مواد بلاک کر دیا

از جاوید محمود


ایک پاکستانی مرد یکم نومبر کو اسلام آباد میں عسکریت پسندوں کا آن لائن پراپیگنڈہ دیکھتے ہوئے۔ حکومت نے ایسی ویب سائٹوں اور سوشل میڈیا روابط کو روکنا شروع کر دیا ہے جو عسکریت پسندی کو فروغ دیتے ہیں، نفرت پھیلاتے ہیں اور نوجوانوں کو پاکستان میں مصروفِ عمل عسکری گروہوں میں شامل ہونے پر اکساتے ہیں۔ [جاوید محمود]

ایک پاکستانی مرد یکم نومبر کو اسلام آباد میں عسکریت پسندوں کا آن لائن پراپیگنڈہ دیکھتے ہوئے۔ حکومت نے ایسی ویب سائٹوں اور سوشل میڈیا روابط کو روکنا شروع کر دیا ہے جو عسکریت پسندی کو فروغ دیتے ہیں، نفرت پھیلاتے ہیں اور نوجوانوں کو پاکستان میں مصروفِ عمل عسکری گروہوں میں شامل ہونے پر اکساتے ہیں۔ [جاوید محمود]

اسلام آباد -- حکام نے کہا ہے کہ پاکستان ایسی ویب سائٹیں اور سوشل میڈیا روابط کو بلاک کر رہا ہے جو ایسے مواد کی تشہیر کرتے ہیں جس کا مقصد مذہبی نفاق، انتہاپسندی اور عسکریت پسندی پر ابھارنا ہے۔

پی ٹی اے میڈیا امور کے ڈائریکٹر خرم مہران نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان سائبر کرائمز بل 2016 کے اعلان کے بعد، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سوشل میڈیا پر ایسا تمام اقسام کا مواد بلاک کرنا شروع کر دیا ہے جو مذہبی جنون کو بڑھاتا ہے، مذہبی نفرت کو بھڑکاتا ہے اور انتہاپسندی اور عسکریت پسندی پر اکساتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے نے ایک سیل قائم کیا ہے جو عسکریت پسندوں اور دیگر افراد کی جانب سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے نفرت انگیز مواد کے بارے میں شکایات پر فوری کارروائی کرتا ہے۔

مہران نے کہا کہ پی ٹی اے نے ایک نظام بھی نصب کیا ہے جو نفاق، عسکریت پسندی یا فحاشی سے متعلق مضامین اور تصاویر کے روابط کو بلاک کرتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ نفرت اور انتہاپسندی پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے ہر قدم اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو کوئی بھی سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد یا انتہاپسندوں کا پراپیگنڈہ دیکھتا ہے اس کی اطلاع فوری کارروائی کے لیے پی ٹی اے کو دے سکتا ہے۔

کسی بھی مذہب کے خلاف یا فرقہ وارانہ بنیادوں پر نفرت پھیلانا قانوناً قابلِ سزا جرم ہے جس کی سزا قید اور/یا جرمانہ ہے، اسے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا بل 2016 بھی کہا جاتا ہے، جسے قومی اسمبلی نے اگست میں منظور کیا تھا۔

داعش کا سوشل میڈیا ایجنڈا

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آن لائن مواد جو نفرت، انتہاپسندی اور فساد پر اکساتا ہے کے خلاف قانون کا نفاذ "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کے پراپیگنڈہ کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصاً اہمیت کا حامل ہے۔

ادارہ برائے تزویراتی مطالعات اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے مطابق، داعش ایک سفاک، ٹیکنالوجی کا ماہر دہشت گرد گروہ ہے جو ذرائع ابلاغ کو استعمال کرتا ہے تاکہ اپنے آپ کو ایک جائز سیاسی اور مذہبی ادارہ ظاہر کرے۔

داعش کی میڈیا حکمتِ عملی کا تجزیہ کرنے والی آئی ایس ایس آئی کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گروہ اپنے نظریات کو پھیلانے، بین الاقوامی نوجوانوں کو بھرتی کرنے، اپنے مخالفین کو دھمکانے اور اپنی مبینہ جنگی فتوحات کی تشہیر کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ معاصر تزویراتی امور میں میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ نے داعش کو ایک میڈیا پالیسی ترتیب دینے کی تحریک دی جو اسے کم سے کم خرچ اور وقت میں وسیع تر سامعین تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا، "جب سے میڈیا حکومت اور عوام کے درمیان ایک پُل بنا ہے اس کے بعد سے میڈیا کو جنگ اور سفارتکاری میں ایک اہم ترین ہتھیار سمجھا جانے لگا ہے۔ مزید برآں، معاصر میڈیا جغرافیائی میدانِ جنگ سے آگے تک وسیع ہے، جو روایتی جنگی حربوں کو آن لائن سفاکیت پھیلانے کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔"

رپورٹ نے کہا کہ داعش نے اس ذریعے پر سرمایہ کاری کی ہے اور "اپنے عسکری اور سیاسی مقاصد میں پیشرفت کے لیے ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے قابل ہے"۔ یہ روایتی اور سوشل میڈیا کو نام نہاد خلافت "کے ساتھ اور اس کے تحت زندگی کی عظمت بیان کرنے اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے" کے لیے استعمال کرتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، داعش کی میڈیا حکمتِ عملی میں دنیا کا تصور بطور "غیر اخلاقی اور تقسیم شدہ" بنانا، ایسے مسلمانوں جو کہ داعش کے خلاف ہیں، پر "غدار" کا ٹھپہ لگانا، اس کے اختیار کو قانونی جواز دینا اور پوری دنیا میں اپنے سامعین کے ساتھ براہِ راست مخاطب ہوتے ہوئے اپنے دشمنوں کو دھمکیاں دینا شامل ہے۔

تحقیق میں دلیل دی گئی ہے کہ داعش کا مقصد "[اپنے] مخالفین اور حریفوں کے دلوں اور دماغوں میں خوف بٹھانا"، "اپنے خیالات کی تعلیم کو نوجوانوں کے دماغوں میں راسخ کرنا"، "نئے جنگجو بھرتی کرنا، اپنی فوج اور حلقۂ اثر کو مجتمع کرنا" اور "دیگر جنگجوؤں، حمایتیوں یا ہمدردوں کے ساتھ آشنائی کرنا اور انہیں غیر ملکی ممالک میں داعش طرز کے حملے کرنے پر قائل کرنا" ہے۔

رپورٹ نے کہا، "سوشل میڈیا نیٹ ورکس جیسے کہ فیس بُک، ٹوئٹر، موبائل ایپلیکیشنز، چیٹنگ اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس وغیرہ، داعش کو نوجوانوں، زیادہ سادہ مزاج عمر کے گروہوں تک رسائی کرنے کی وسیع شکلیں مہیا کرتے ہیں، جو پُرتشدد سماجی و سیاسی ڈھانچے اور امن کی تعلیم کی کمی کی وجہ سے تشدد اختیار کرنے کے لیے زیادہ حساس ہے۔"

داعش کے نظریات، انتہاپسندی کا مقابلہ

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داعش کے انتہاپسند نظریات اور اس کے جھوٹوں اور دھوکے کو پھیلانے کے لیے اس کے میڈیا اور سوشل میڈیا کے استعمال کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان پر ہر ممکن کوشش کرنا لازم ہے۔

ایک دفاعی تجزیہ کار اور روزنامہ پاکستان کے کراچی کے مقامی مدیر، مبشر میر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستانی حکومت اور دفاعی اداروں پر لازم ہے کہ ایسے بروشرز، پمفلٹس اور کتب کی تقسیم کی حوصلہ شکنی کریں جو فرقہ وارانہ اور مذہبی نفرت کو ہوا دیتے ہیں، انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کی طرف لے کر جاتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ علاوہ ازیں، پاکستان کو لازماً ایسی تقاریر اور خطبات پر پابندی عائد کرنی چاہیئے جو انتہاپسندی اور عسکریت پسندوں کی بھرتی کی طرف لے کر جاتے ہیں اور سامعین کو عسکریت پسندی کی حمایت کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ملک میں درجنوں مدارس بروشرز، پوسٹرز اور پمفلٹس کی صورت میں مطبوعہ مواد تقسیم کر رہے ہیں جو عسکریت پسندی کو ابھارتا ہے اور لوگوں کو عسکری تنظیموں میں شامل ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔"

میر نے کہا کہ داعش کو پاکستان میں قدم جمانے سے روکنے کے لیے پاکستان میں داعش کی حامی عسکری تنظیموں کے رہنماء اور بھرتی کاروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیئے۔

کراچی کے مقامی تجزیہ کار، کرنل (ر) مختار احمد بٹ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "داعش پاکستان میں گھسنے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس عالمی دہشت گرد تنظیم کو پاکستان سے باہر رکھنے کے لیے کوششیں کرنا لازمی ہے۔"

انہوں نے کہا، "داعش ناصرف سوشل میڈیا کو استعمال کر رہی ہے بلکہ یہ اپنے ساتھ شامل ہونے والے عسکریت پسندوں کو پیسوں اور ہتھیاروں کی پیشکش بھی کر رہی ہے۔"

انہوں نے کہا، "جیسے انہوں نے القاعدہ اور طالبان کے خلاف کیا ہے، دفاعی تنظیموں کو [داعش کے] پاکستان میں نفوذ کا پیشگی اندازہ لگانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کرنی چاہیئے اور مقامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیئے جو اس دہشت گرد تنظیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

27
4
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی Captcha
Usman | 11-07-2016

bilhul teeek hi laken pakistan mi our tnaswwmiay bi istara ki koshish kar rahr hay oskay khilaf bi bila imtiaz karwaye honi chahiye kisi aik maslak ya firqay ko karwaye ka nishana banana khaternak hoga socila media per daikay sari ammm suhaba karam R.A ko chand monirity sharpasan galiya daitay kya koye Law is ki lie hi. isko bunyad bana ker pir dehshatgardo ko apnay kam karnay ka moqa milta..... jitnay forign fund tanseemay iswat pakistan mi hi is ko chahay iran si Q na ho sb ki khilaf bila imtiaz karwai ki jaye Pakistan Zinadabad Pak Army Zinadabad

جواب
Kashif Khan | 11-07-2016

برائے مہربانی پشتو کی طرح سندھی کو بھی اپنی فہرست میں شامل کریں، کیوں کہ سندھی پاک و ہند افغان خطے کی قیدیم تریم زبان ہے شکریہ

مجھے امّید ہے کہ آپ اس سمت میں اقدام کریں گے

کاشف خان

جواب