|

معاشرہ

پاکستانی معاشرے میں بنیاد پرستی کی انسداد کے لیے پی اے سی ای

مرکز برائے تحقیق و علومِ سلامتی نے پاکستان سنٹر آف ایکسیلنس (پی اے سی ای) پروگرام کا آغاز کیا ہے۔

جاوید محمود


1-4 جون کو اسلام آباد میں ایک تربیتی ورکشاپ میں شرکاء نے دہشتگردی سے لڑنے اور رواداری کو فروغ دینے کے طریقوں پر بات چیت کی۔ پی اے سی ای نے اس تقریب کا انعقاد کیا۔ [جاوید محمود]

1-4 جون کو اسلام آباد میں ایک تربیتی ورکشاپ میں شرکاء نے دہشتگردی سے لڑنے اور رواداری کو فروغ دینے کے طریقوں پر بات چیت کی۔ پی اے سی ای نے اس تقریب کا انعقاد کیا۔ [جاوید محمود]

اسلام آباد — مرکز برائے تحقیق و علومِ سلامتی (سی آر ایس ایس) نے انسدادِ بنیاد پرستی، قانون و مساوات کی عملداری اور تعصب، شدّت پسندی اور عسکریت پسندی کے خاتمہ کے لیے ایک نئے اقدام کا آغاز کیا ہے۔

اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک، سی آر ایس ایس کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، امتیاز گل نے کہا، ”ہم نے حال ہی میں اس 3 سالہ پروگرام کا آغاز کیا ہے جو مذہبی رواداری اور سب کے لیے یکساں انسانی حقوق کے فروغ اور مذہب کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی پر مرکوز ہو گا۔“

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مسلمان خود کو غیر مسلموں سے بہتر سمجھتے ہیں اور معاشرہ معاشی مساوات سے دور ہٹتا جا رہا ہے، جو ناانصافی، شدّت پسندی اور دیگر مسائل کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سنٹر آف ایکسیلنس (پی اے سی ای) پروگرام کے ذریعے معلّم، ٹیلیوژن اینکر، تجزیہ کار، پولیس افسران اور معاشرے کے دیگر بارسوخ ارکان پاکستان میں بنیاد پرستی کی انسداد کی تربیت حاصل کریں گے۔

گل نے کہا، ”پی اے سی ای پروگرام ان لوگوں کے لیے سیاسی آگاہ دانشمندی کے چیلنج پیدا کرے گا جو عقیدہ سے متعلق اپنی محدود توضیح کے ذریعے مذہب کا استعمال کرتے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ پی اے سی ای ایسی متبادل روایات تشکیل دینے میں مدد دے گا جو عالمی طور پر تسلیم شدہ جمہوری اقدار پر منظم مباحثہ سے برآمد ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مقصد آزادیٔ اظہار کے عالمگیر اصولوں، آزادیٔ مذہب اور پاکستان میں آراء کو پھیلانے والوں کے مابین مساوی حقوق کی آگاہ تعلیم کے ذریعے حاصل کیا جائے گا۔

ملک بھر میں پھیلتا ہوا

پی اے سی ای پروگرام کے سربراہ، اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ذیشان صلاح الدین نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہم نے حالیہ مہینوں میں اسلام آباد میں آٹھ تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا ہے اور اب ہم اس منصوبہ کو مزید سیر حاصل اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے سرکاری اور نجی جامعات کے اشتراک سے تربیت کے دائرۂ کار کو دیگر شہروں تک وسعت دے رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ پی اے سی ای عدم رواداری کی انسداد اور نوجوان پیشہ وران کے معاشی اور پیشہ ورانہ حلقوں میں پر امن تصفیۂ تنازعات کو فروغ دینے کے لیے انہیں `قوتِ فہم کے آلات سے لیس کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ان بارسوخ افراد کو بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرنے اور دوسروں کے عقیدہ، نظریہ، رنگ یا نسل کی بنیاد پر ان سے متعلق رائے قائم کرنے کے بجائے انہیں قبول کرنے کی ناگزیر ضرورت کے بارے میں حساس بنانا ہے۔

صلاح الدین نے کہا کہ پی اے سی ای معاشرہ میں انسدادِ بنیاد پرستی کی روایت کو بڑھانے کے لیے متنوع پس منظر سے لیے گئے پیشہ وروں کے لیے ماہانہ مشترکہ ورکشاپس کا انعقاد کرے گا۔

کراچی میں روزنامہ پاکستان کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر اور ایک سیکیورٹی تجزیہ کار مبشر میر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”نوجوان رہنماؤں کو اس ملک میں رواداری، مساوی انسانی حقوق اور قانون کی عملداری کو فروغ دینے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال کی تربیت دی جانی چاہیے۔“

انہوں نے کہا اس وقت، سوشل میڈیا دنیا بھر میں لوگوں کے لیے معلومات کو اولین ذریعہ ہیں اور چند گروہ ان پلیٹ فارمز کو نفرت اور شدّت پسندی پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیلیویژن چینلز اور اخبارات کو چاہیئے کہ اسلام اور دیگر مذاہب سے متعلق امور پر موزوں طریق پر بات چیت کرنے کے لیے صرف سند یافتہ علماء کو ہی مدعو کریں۔

میر نے کہا، ”ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ ٹی وی پروگرامز کے مذہبی امور پر ٹاک شو کرنے والے میزبان زیادہ تر اپنی پسند کے مطابق 'علماء' کو مدعو کرتے ہیں اور علماء کے تجربہ اور قابلیت کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”اگر ہم صرف سند یافتہ، بے تعصب اور معروف علمائے دین کو ٹاک شوز میں مدعو کرنے کے معیار پر عملدرآمد کریں تو ہم یقیناً نفرت، شدت پسندی اور دیگر متعلقہ مسائل کو کم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔“

اخباروں کے مکالات اور تبصروں کے لیے بھی یہی لاگو ہوتا ہے۔

میر نے کہا، ”ہر جمعہ کو پاکستانی اخبار ۔۔۔ اسلام کے مختلف پہلوؤں سے متعلق مکالات شائع کرتے ہیں، لیکن اخبار مصنف کے تجربہ اور قابلیت پر نظر ڈالنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے، جس سے معاشرے کے مختلف فرقوں میں عدم رواداری پیدا ہوتی ہے۔“

انہوں نے کہا کہ پی اے سی ای معاشرہ میں عسکریت پسندی و شدت پسندی کی انسداد اور رواداری اور بھائی چارہ کے فروغ کے لیے ایک کلیدی اقدام ہے اور اس پروگرام کے فریقین کو ایسے طریقے تلاش کرنے چاہیئں جو دوسروں کو قبول کرنے کو فروغ دیں اور معاشرے سے عدم رواداری اور نفرت کا خاتمہ کریں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج