|

دہشتگردی

ایران کی شیعہ لبریشن آرمی علاقائی اشتعال کو دعوت دے رہی ہے

علماء کا کہنا ہے کہ نئی فوج، جو ایرانی اور غیرملکی جنگجوؤں پر مشتمل ہے، خطے میں فرقہ وارانہ تناؤ کو ہوا دے گی اور عرب معاشرے میں رخنے پیدا کرے گی۔

از ولید ابو الکبیر بمقام قاہرہ


ایران کے ساتھ وابستہ ایک ملیشیا سے تعلق رکھنے والا ایک عراقی ایران کے سپریم کمانڈر، آیت اللہ علی خمینی اور مرحوم شیعہ عالم آیت اللہ محمد صادق الصدر کی تصاویر والا سربند پہنے ہوئے ہے۔ ایران کے اسلامی انقلابی محافظ دستوں کی پشت پناہی سے عراق، شام اور یمن میں ملیشیا مبینہ طور پر ایک وجود میں متحد ہو رہی ہیں، جو شیعہ لبریشن آرمی کہلاتا ہے۔ [احمد الرباعی/اے ایف پی]

ایران کے ساتھ وابستہ ایک ملیشیا سے تعلق رکھنے والا ایک عراقی ایران کے سپریم کمانڈر، آیت اللہ علی خمینی اور مرحوم شیعہ عالم آیت اللہ محمد صادق الصدر کی تصاویر والا سربند پہنے ہوئے ہے۔ ایران کے اسلامی انقلابی محافظ دستوں کی پشت پناہی سے عراق، شام اور یمن میں ملیشیا مبینہ طور پر ایک وجود میں متحد ہو رہی ہیں، جو شیعہ لبریشن آرمی کہلاتا ہے۔ [احمد الرباعی/اے ایف پی]

تہران کے مقامی مشرق نیوز کے ساتھ 18 اگست کے ایک انٹرویو میں، جو کہ ایران کی اسلامی انقلابی محفاظ دستوں (آئی آر جی سی) کے ساتھ الحاق شدہ ایجنسی ہے، بریگیڈیئر جنرل محمد علی فلکی نے اشرافیہ قدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی زیرِ کمان شیعہ لبریشن آرمی (ایس ایل اے) کی تشکیل کا اعلان کیا۔

پورے خطے کے علماء اور مبصرین نے المشرق کو بتایا کہ ایس ایل اے کی تشکیل فرقہ وارانہ تناؤ کو مزید بھڑکائے گی اور علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، کیونکہ اس کا مقصد شیعہ کو ان کی قومی شناختوں سے علیحدہ کرنا اور ان کے تعلقات دیگر فرقوں کے افراد کے ساتھ قائم کرنا ہے جو کہ مجموعی طور پر معاشرے کا سماجی تانا بانا ہیں۔

آئی آر جی سی کے ایک ریٹائرڈ کمانڈر، فلکی جنہیں افغان فاطمیون ڈویژن کے ساتھ شام میں تعینات کیا گیا تھا، نے کہا کہ نئی فوج ایرانی اور غیر ملکی باشندوں، خصوصاً افغانوں پر مشتمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی کی پشت پناہی کی حامل فوجیں عراق، شام اور یمن میں موجود ہیں، انہوں نے ان فوجوں کو "ایک متحد فوج" کے طور پر بیان کیا۔

مشرق نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے، فلکی نے تسلیم کیا کہ افغان، پاکستانی، عراق اور شامی گروہ شام میں مختلف ناموں سے آئی آر جی سی کی زیرِ کمان لڑ رہے تھے۔

اس سے شام میں پاکستانی اور افغان گروہوں کے لڑنے کے سابقہ شامی اور عراقی تردیدی بیانات کی نفی ہوتی ہے۔

آئی آر جی سی کے متنازعہ حربے

مشرقِ وسطیٰ مرکز برائے علاقائی و تزویراتی مطالعات پر ایرانی امور پر مہارت رکھنے والے ایک محقق، فتحی السید نے کہا کہ ایس ایل اے کا قیام "خطے پر اور ساتھ ہی ساتھ دنیا پر منفی اثرات مرتب کرے گا اور فرقہ وارانہ تناؤ میں اضافہ کرے گا،" خصوصاً ان ممالک میں جہاں اس نے قدم جما لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ برسوں سے آئی آر جی سی "خطۂ عرب میں اپنا اسلحہ بھیجتی رہی ہے اور مختلف ناموں کے تحت دنیا میں بہت سے گروہ قائم کرتی رہی ہے، زیادہ تر دینی-فرقہ وارانہ لبادے میں [۔۔۔ بمقصد] فرقہ وارانہ جھگڑوں کو بھڑکانا۔"

السید نے پیشین گوئی کی کہ ایس ایل اے کے اعلان کو خطے میں سنجیدہ منفی ردِ عمل کا سامنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ متنازعہ حربے جو آئی آر جی سی استعمال کرتی رہی ہے انہیں صرف تمام فرقوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے اور "ان طریقوں کو بے نقاب کرنے جو آئی آر جی سی خطے میں نفوذ کے لیے اور تمام سماجی گروہوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے،" کے ذریعے ہی سنبھالا جا سکتا ہے۔

السید نے مزید کہا، "وہ تقسیم جو آئی آر جی سی کا مقصد ہے، [ملیشیا گروہوں کو] ہتھیار اور پیسہ دینے، کمزور معاشی حالات اور سماجی ناانصافی کے احساس کا فائدہ اٹھانے، اور موجودہ حکومت کے خلاف مسلسل اشتعال انگریزی کرنے کے علاوہ، فرقہ وارانہ تنازعات کو بھڑکاتے اور دینی بیانات سے آگے لگاتے ہوئے حاصل کی جاتی ہے۔"

علماء فرقہ وارانہ عسکری تشکیل کو مسترد کرتے ہیں

ایک لبنانی شیعہ عالم، شیخ السید علی امین نے کہا، "ہم تمام جانبدارانہ اور عسکری تشکیلوں کو مسترد کرتے ہیں جو ریاست کے قانونی عملی ڈھانچے اور اس کے دفاعی اور عسکری اداروں سے باہر ہیں، خصوصاً وہ جو دوسرے ممالک کے امور میں مداخلت کرتی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم ان تشکیلوں کے لیے تمام اعترافی اور فرقہ وارانہ ناموں کو بھی مسترد کرتے ہیں کیونکہ وہ ایک فرقہ وارانہ کردار کے ساتھ موجودہ تنازعات کو گہرا کرتے ہیں جو ایک ہی ملک کے عوام کے درمیان دشمنیوں کو بھڑکاتا ہے، اور صرف ملک کے دشمنوں کو فائدہ پہنچاتا ہے جو اسے توڑنے اور اس پر قبضہ کرنے کے خواہش مند ہیں۔"

سعودی عرب کے مشرقی العشاء خطے سے تعلق رکھنے والے ایک شیعہ عالم، شیخ ہاشم المجہدی نے کہا کہ ایران کا ایک نئی فوج کی تشکیل کا اعلان فرقہ وارانہ تنازعات کو بھڑکائے رکھنے کی ایک اور کوشش ہے۔

انہوں نے المشرق کو بتایا، "یہ اعلان اس تناؤ میں مزید اضافہ کرے گا جو پہلے ہی موجود ہے اور بدقسمتی سے اسے اس مقام تک کھینچ سکتا ہے جہاں پورا خطہ پھٹ جائے گا۔"

یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ایس ایل اے کا اعلان انتہاپسند گروہوں کو سُنی نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا مفاد دے گا، انہوں نے ایرانی حکومت پر "اپنی سرحدوں سے باہر ایک آگ لگانے تاکہ خطے میں فرقہ وارانہ جنگ کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا جاری رکھا جائے،" کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ علماء کے لیے دلیل کے ساتھ بات کرنے کی حمایت کرنے کو مزید مشکل بھی بنا دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ انہیں آئی آر جی سی سے منسلک سیلوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہو گا، شیعہ علماء ایرانی حکومت کے ارادوں سے پوری طرح باخبر ہیں، اور شیعہ نوجوانوں کی بھرتی کی کوششوں کو روکنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 9

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

Muhammad Adnan | 09-09-2016

Ma foj join karna chata hu


انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج