http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/09/17/feature-02
| جرم و انصاف

عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد سندھ پولیس نے ڈاکوؤں پر نظریں جما لیں

ضیاءالرّحمٰن

24 اگست کو کندھ کوٹ میں سندھ پولیس سربراہ ڈاکٹر سید کلیم امام ڈاکوؤں کے خلاف ایک نئی حکمتِ عملی کا اعلان کر رہے ہیں۔ [ضیاءالرّحمٰن]

کراچی – صوبہ سندھ میں نفاذِ قانون کی ایجنسیوں نے عسکریت پسند گروہوں اور کالعدم سندھی النسل گروہوں پر کریک ڈاؤن کے بعد ڈاکوؤں پر نظریں جما لیں۔

دیہی سندھ کی تمام تر تاریخ میں یہاں کاروائیاں کرنے والے ڈکیت – اکثر شکارپور، جیکب آباد اور کشمور کے دورافتادہ اضلاع میں دریائے سندھ کی گھنے جنگلات پر مبنی پٹی، جسے مقامی طور پر کچا کہا جاتا ہے، سے تعلق رکھتے ہیں۔

شکارپور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی وحید فُلپوٹو، جو خطے میں سیکیورٹی سے متعلقہ امور کو کور کرتے ہیں، نے کہا کہ ایسے گروہ اسمگلنگ، اسلحہ سمگلنگ، اغوا برائے تاوان اور شاہراہوں پر ڈکیتیوں سمیت متعدد اقسام کی سرگرمیاں کرتے ہیں۔

24 اگست کو کراچی میں ایک سینیئر پولیس افسر ایک ایسے پولیس افسر کے رشتہ داروں کی طرف گئے ہیں جو ڈاکوؤں کے ساتھ ایک مقابلہ میں جاںبحق ہوا۔ [ضیاء الرّحمٰن]

23 اگست کو پولیس نے لوگ گلوکار جگر جلال (پہلی قطار میں دائیں جانب سے دوسرے) اور ان کے بینڈ، جو کراچی میں لی گئی اس تصویر میں دکھائے گئے ہیں، کو ڈاکوؤں سے بچایا۔ [ضیاءالرّحمٰن]

شکار پور میں مقابلوں کے دوران متعدد سنیئر پولیس افسران کے نقصان کے بعد سندھ پولیس نے ڈاکوؤں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

دی نیوز نے 23 اگست کو خبر دی کہ گزشتہ دس برس کے دوران شکار پور میں ایک سندھ رینجرز اور دو سٹیشن ہاؤس آفیسرز سمیت 50 سے زائد پولیس اہلکار قتل ہو چکے ہیں۔

سندھ پولیس سربراہ ڈاکٹر سید کلیم امام نے 24 اگست کو کہا کہ پولیس نے خطے میں ڈاکوؤں کے خلاف ایک موثر آپریشن کے لیے ایک حکمتِ عملی وضع کی ہے۔

امام نے کہا، "ہم نے ہر قیمت پر خطے سے ڈاکوؤں اور ان کے تسہیل کاروں کے خاتمہ کا فیصلہ کیا ہے، اور اس مقصد کے لیے ہم فضائی معاونت اور انٹلی جنس پر مبنی کاروائیوں کا سوچ رہے ہیں۔"

صحافی فلپوٹو نے کہا کہ اگرچہ ڈاکوؤں کے خلاف کریک ڈاؤن گزشتہ دو ماہ سے جاری ہے، تاہم، 18 اگست کو شکار پور میں ڈاکوؤں کی جانب سے گلوکار جگر جلال کی قیادت میں ایک چھ رکنی موسیقی کے بینڈ کے اغوا کے بعد یہ شدید تر ہو گیا۔

سینیئر ریجنل پولیس آفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ پہلے پولیس نے ڈاکوؤں کو 24 گھنٹوں کے اندر یرغمالیوں کو آزاد کرنے کا الٹیمیٹم دیا۔ "پھر پولیس نے جلال اور اس کی ٹیم کو بچانے کے لیے ایک آپریشن کیا۔"

پولیس نے 23 اگست کو شکار پور میں اس بینڈ کو بچایا۔ کثیر روزہ آپریشن کے دوران 20 اگست کو ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔

ڈاکوؤں پر کریک ڈاؤن میں مزید معاونت کے لیے سندھ پولیس نے جون میں ایک "بلیک بُک" تیار کی جس میں 156 ملزمان کے نام تھے جن کے سر پر 100,000 روپے سے 4 ملین (638 ڈالر سے 25,500 ڈالر) تک انعام رکھا گیا ہے۔

یہ کتابچہ تھانوں میں تقسیم کے لیے تمام ریجنل ایڈیشنل انسپکٹرز جنرل آپ پولیس کے پاس گیا ہے۔

ارتکاز میں تبدیلی

فروری میں پولیس کی جانب سے دیہی سندھ میں دو کلیدی رہنماؤں – عبداللہ بروہی اور عبدالحفیظ پندرانی— کی ہلاکت کے بعد"دولتِ اسلامیہٴ عراق و شام" (داعش) کے نیٹ ورک کا شیرازہ بکھر جانےپر ارتکاز کی یہ تبدیلی سامنے آئی۔ یہ دونوں بالترتیب صوبہ سندھ میں داعش کے سربراہ اور نائب سربراہ تھے۔

اسی طرح سے سندھ پولیس نے کالعدم سندھی النسل گروہوں جئے سندھ متحدہ محاذ (جے ایس ایس ایم) اور سندھودیش لبریشن آرمی (ایس ڈی ایل اے) کے ارکان کو گرفتار کر کے اوران کے نوجوان ارکان کو تشدد ترک کر دینے کی ترغیب دے کران گروہوں کی وقعت کم کر دی۔

بروہی، پندرانی اور جے ایس ایس ایم کا سربراہ شفیع برفات پاکستانی حکام کی "ریڈ بک" پر تھے یا ہیں، جو کہ ایک ایسی فہرست ہے جس میں مطلوب دہشتگردوں کے نام ہوتے ہیں۔ برفات 20 برس سے زائد عرصہ سے روپوش ہے۔

ڈکیتوں پر یہ کریک ڈاؤن اپنی قسم کا پہلا کریک ڈاؤن نہیں۔ شمالی سندھ سے ملحقہ جنوبی پنجاب بھی ڈکیوتوں کی کمین گاہ کے طور پر معروف تھا۔

حکومتِ پنجاب اور فوج نے 2016 میں آپریشن ضربِ عضب کرتے ہوئے راجن پور کے اپنے شمالی ضلع کے متعدد حصّوں میں ڈاکو گروہوں پر کریک ڈاؤن کیا۔

اس آپریشن نے بدنامِ زمانہ چھوٹو گینگ کے سربراہ غلام رسول عرف چھوٹو کو اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا۔

12 مارچ کو ضلع ملتان، صوبہ پنجاب کی ایک عدالت نے چھوٹو اور جنوبی پنجاب میں مختلف گینگز سے 18 دیگر کو 2016 میں ملتان میں پولیس اہلکاروں کے قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 09-20-2019

ڈاکٶن سے لڑنا سندھ پولیس کے بس کا کام نھین سیاسی لوگ ملوث ھین

جواب