http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/11/19/feature-02
| جرم و انصاف

سندھ نے ٹارگٹ کلنگز کا خاتمہ کرنے کے لیے خصوصی پولیس یونٹ قائم کیا ہے

ضیاء الرحمان


کراچی پولیس کے حکام اور رشتہ دار 8 اکتوبر کو احمد عباس رضوی، جو کہ نیو کراچی کے علاقے میں ٹارکٹ کلنگ میں شہید کیے جانے والے پولیس آفیسر ہیں، کے جنازے میں شریک ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

کراچی پولیس کے حکام اور رشتہ دار 8 اکتوبر کو احمد عباس رضوی، جو کہ نیو کراچی کے علاقے میں ٹارکٹ کلنگ میں شہید کیے جانے والے پولیس آفیسر ہیں، کے جنازے میں شریک ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

کراچی -- سندھ کے حکام نے ایک خصوصی پولیس یونٹ بنایا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ متاثرین کے سیاسی، فرقہ ورانہ اور نسلی پس منظر کی بنیادوں پر کی جانے والی ٹارگٹ کلنگز علاقے میں دوبارہ سے واپس نہ آ سکیں۔

مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی کی ایجنسیوں کی طرف سے پانچ سال کی سخت محنت کے بعد، کراچی فرقہ ورانہ اور نسلی جنگ کے گڑھ کے طور پر اپنی ساکھ کو کافی زیادہ حد تک کم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

سندھ پولیس نے 30 اکتوبر کو اعلان کیا کہ وہ "ٹارگٹ کلنگ ورکنگ گروپس" بنائے گی جو کہ قانون نافذ کرنے والے حکام اور بارسوخ سیاسی و مذہبی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگز کو روکنے کے لیے مخصوص فورس ہو گی۔


پولیس کا ایک ہنگامی دستہ 10 نومبر کو کراچی میں ایک سڑک پر گشت کر رہا ہے۔ ]ضیاء الرحمان[

پولیس کا ایک ہنگامی دستہ 10 نومبر کو کراچی میں ایک سڑک پر گشت کر رہا ہے۔ ]ضیاء الرحمان[

اس گروپ کو انٹیلیجنس اکٹھا کرنے اور ٹارکٹ کلنگز میں ملوث بین الاقوامی اور مقامی نیٹ ورکس کے درمیان تعلقات کا تجزیہ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

سینئر پولیس اہلکار سید علی رضا جو کہ انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنز میں اپنی شمولیت کے باعث مشہور ہیں، کو اس فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

رضا نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ یہ یونٹ ٹارگٹ کلنگز میں ملوث گروہوں کو ہتھیاروں اور سرمایے کی فراہمی روکنے کی کوشش کرے گا۔

ٹارگٹ کلنگز میں کمی

گزشتہ دہائی کے دوران اور خصوصی طور پر2007 سے 2013 تک، کراچی کو پاکستان کے متشدد ترین شہروں میں سے ایک گردانا جاتا تھا۔

شہر میں مختلف قسم کے تشدد سےسینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں جس میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگز اور فرقہ ورانہ حملے شامل ہیں۔ صرف 2013 میں ہی، متشدد جرائم میں آنے والی تیزی کا نتیجہ تقریبا 2,700 ہلاکتوں کی صورت میں نکلا جس نے اس سال کو ابھی تک کراچی کا ہلاکت انگیز ترین سال بنا دیا۔ یہ خبر ایکسپریس ٹریبیون نے جنوری 2014 میں دی۔

تاہم،ستمبر 2013 میں شروع کیے جانے والے ایک قانون نافذ کرنے والے آپریشن، جو کہ ابھی بھی جاری ہے، نے مختلف متشدد گروہوں کی سرگرمیوں کو کافی زیادہ کم کر دیا ہے اور ٹارگٹ کلنگز کی تعداد میں ڈرامائی کمی آئی ہے۔

پیراملٹری فورس کے مطابق، سندھ رینجرز اور پیراملٹری لاء انفورسمنٹ فورس نے آپریشن کے آغاز سے اب تک 14,000 چھاپے مارے ہیں اور 10,000 سے زیادہ ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

اس نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں تقریبا 2,000 ایسے افراد بھی شامل ہیں جن پر ٹارگٹ کلنگز میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

ایک مثبت اثر

دہشت گردی کے رجحانات کے محقق اور تجزیہ نگار محمد نفیس جن کا تعلق کراچی سے ہے، نے کہا کہ مسلسل جاری کریک ڈاون نے ٹارگٹ کلنگز میں ملوث متشدد گروہوں کو بہت زیادہ حد تک کمزور کر دیا ہے۔

نفیس جو کہ اسلام آباد میں قائم سیکورٹی تھنک ٹینک سینٹر برائے تحقیق و سیکورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) سے تعلق رکھتے ہیں، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نشانہ بنائے جانے والے زیادہ تر لوگوں کو مختلف سیاسی گروہوں کے درمیان ہونے والی علاقے پر قبضہ کی جنگوں میں ہلاک کیا گیا مگر آپریشن نے ان گروہوں کو کافی حد تک معذور بنا دیا ہے"۔

اورنگی ٹاون جو کہ کراچی کا ایک غریب علاقہ ہے اور جہاں اس سے پہلے ٹارگٹڈ تشدد کے بہت زیادہ واقعات ہوتے تھے، میں گزشتہ چند سالوں سے سیاسی محرک والی ہلاکتوں کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے اور اس کا سہرا کریک ڈاون کے سر جاتا ہے۔ یہ بات کراچی کے مقامی تاجر کامل حسین نے بتائی۔

کراچی میں قائم غیر سرکاری امن انیشیٹیو، بین المذہبی کمیشن برائے امن و ہم آہنگی کے ایک راہنما علامہ محمد احسان صدیقی نے مذہبی علماء اور ایک مخصوص فرقوں کے ارکان کی ہلاکتوں میں کمی کی تصدیق کی۔

صدیقی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کالعدم فرقہ ورانہ اور عسکریت پسند گروہوں کے کمزور ہونے نے امن قائم کرنے والی تنظیموں کی مدد کی ہے کہ وہ شہر میں اپنا کام کر سکیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
12
نہیں
تبصرے 4
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 02-20-2019

اچھا ہے ، لیکن اگر ہماری پولیس فورسز خود کو درست کر لیں اور رشوت خوری بند کر کے انصاف کے تقاضے پورے کر لیں، تو کسی کو جرات نہ ہو گی کہ کسی کو قتل کرے یا دہشتگردی پھیلائے۔

جواب

جواب
| 12-08-2018

خان

جواب
| 11-26-2018

Bilkul pasand Aya par agar hamari police forces the k hojaen r rishwat band r insaaf k takaza start hojae to kisi ma himat nahn koi ksi ko qatal kry ya dashatgardi phelai..

جواب
| 11-22-2018

الله

جواب