|

جرم و انصاف

پاکستان میں غیر قانونی ترسیلِ زر سے بینکوں کے غریب صارفین متاثر

غیر قانونی ترسیلِ زر کرنے والوں کی جانب سے غریب باشندوں کے بینک کھاتوں کو نقدی سے بھرے جانے اور پھر خالی کیے جانے کے بعد دسیوں لاکھوں ڈالر پر اسرار طور پر ملک سے باہر چلے گئے۔

اے ایف پی


29 اکتوبر کو پشاور میں مقامی رکشہ ڈرائیور مسافروں کے منتظر ہیں۔ [جاوید خان]

29 اکتوبر کو پشاور میں مقامی رکشہ ڈرائیور مسافروں کے منتظر ہیں۔ [جاوید خان]

اسلام آباد – ایک مقامی رکشہ ڈرائیور محمّد رشید کو اپنی بیٹی کے لیے ایک سائیکل خریدنے کے لیے 3,000 روپے (22.5 ڈالر) بچانے میں ایک برس لگ گیا، لہٰذا جب اسے پتہ چلا کہ اس کے نام پر ایک غیر استعمال شدہ بینک کھاتے سے 3 بلین روپے (22.5 ملین ڈالر) گزرے تو وہ حیران ۔۔۔ اور خوفزدہ ہو کر رہ گیا۔

غیر قانونی ترسیلِ زر کے ایک نظام، جسے پاکستان کے نئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کچلنے کا عہد کر رکھا ہے، کے اس 43 سالہ تازہ ترین شکار نے کہا، "مجھے پسینہ آ گیا اور میں کانپنے لگا۔"

جب اسے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سے کال موصول ہوئی تو رشید کا پہلا جھکاؤ چھپ جانے کی طرف تھا، لیکن بالآخر دوستوں اور اہلِ خانہ نے اسے حکام کے ساتھ تعاون کرنے کی ترغیب دی۔

ان کا واقعہ حالیہ ہفتوں میں درجنوں ایسی ہی کہانیوں کی عکاسی کرتا ہے جو پاکستان میں اخباروں کی زینت بنے اور ایک طویل عرصہ سے مروجہ سرگرمی کو چوری اوربدعنوانی کی طویل داستانوںکی صورت میں ابھارا۔

یہ واقعہ بھی اسی زنجیر کی کڑی ہے: جرائم پیشہ افراد غریب باشندوں کے بینک کھاتوں کو بھرتے ہیں اور غیر قانونی ترسیل کے ایک نظام کے تحت انہیں خالی کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے کھربوں ڈالر ملک سے غائب ہو گئے۔

حکام نے بالآخر رشید کا نام خارج کر دیا، لیکن اس کی پریشانی برقرار ہے۔

اس نے کہا، "میں اس خوف سے سڑکوں پر اپنے کرائے کا رکشہ روک دیتا ہوں کہ کوئی اور تحقیقاتی ایجنسی مجھے اٹھا لے گی۔"

"میری بیوی بے چینی سے بیمار ہو گئی ہے۔"

اس خواری کے چند ہفتے قبل وہ اپنی سال بھر کی احتیاط سے کی گئی بچت سے اپنی بیٹی کے لیے پھٹے ٹائروں والی ایک سائیکل خریدنے میں کامیاب ہوا تھا۔

’چوری شدہ پیسہ‘

غیر قانونی ترسیل کا جنون تب منکشف ہوا جب خان نے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کو کچلنے اور ملک سے نکلنے والے کھربوں کو بازیاب کرانے کا عہد کیا ہے، جیسا کہ ان کی حکومت پاکستان کے گرتے ہوئے مالیات کو بڑھانے کے لیے کوششاں ہے۔

خان نے اکتوبر کے اواخر میں کہا، "یہ آپ کا چوری شدہ پیشہ ہے۔

"یہ عوامی ٹھیکوں میں چوری کیا گیا۔۔۔ اور ان کھاتوں میں منتقل کیا گیا، اور بعد میں غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک ارسال کر دیا گیا۔"

انہوں نے وعدہ کرتے ہوئے کہا، "میں اس ملک میں کسی بدعنوان شخص کو نہیں چھوڑوں گا۔"

لیکن محمّد قادر جیسے شکاروں کو پہلے ہی سے نقصان پہنچ چکا ہے۔

اس 52 سالہ آئسکریم فروش نے کہا، "میں نے کبھی اندر سے بینک نہیں دیکھا۔"

تاہم کسی نے اس کے نام سے 2.3 بلین (17.3 ملین) کا لین دین کیا۔

اس واقعہ کی خبر پھیلنے کے بعد سے قادر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہمسایوں کے ہاتھوں مستقل طور پر تضحیک کا نشانہ بنتا ہے اور ان جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں اغوا کے خوف میں مبتلا ہے جن کا ماننا ہے کہ اس کے پاس کھربوں روپے ہیں۔

کراچی کے محلّے اورنگی ٹاؤن میں اس کی آئسکریم کی ریڑھی کے پاس سے گزرتے ہوئے قادر کے ایک ملنے والے نے کہا، "اس کھرب پتی کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں،"

قادر نے کہا، "دیگر میرا مذاق اڑاتے ہیں، لیکن میرا اس صورتِ حال میں کچھ نہیں بنا، یہ کیسا المیہ ہے۔"

ایک 56 سالہ عہدیدار سروت زہرا نے کہا کہ ماضی کے محصولات کی مد میں 13 ملین روپے (98,000 ڈالر) کے بل کا سامنا کر کے وہ بلند فشارِ خون میں مبتلا ہو گئی۔

انہوں نے کہا، "مجھے بتایا گیا کہ ایک کمپنی نے غیر قانونی طور پر میرے کھاتے سے 14 یا 15 بلین روپے (تقریباً 105.1 ملین ڈالر) گزارے۔"

پاکستان کی اشرافیہ طویل عرصہ سے ٹیکسوں سے بچنے اور اثاثے چھپانے کے لیے غریبوں کو سامنے لا کر ان کا استعمال کرتے رہے ہیں۔

لیکن بینک کھاتوں کے اس نظام کا پیمانہ بے مثال ہے، جس میں حکام نے کراچی میں طاقت کے امیر ترین دلالوں کی طرف اشارہ کیا ہے، جن میں سابق صدر آصف علی زرداری کے ساتھ روابط رکھنے والے کردار بھی شامل ہیں۔

'’بلیک لسٹ‘'

ستمبر میں عدالتِ عظمیٰ نے یہ پتا چلنے پر جرم کی تحقیقات کےلیے ایک کمیشن بنایا کہ غریب پاکستانیوں کے نام استعمال کرتے ہوئے کم از کم 400 ملین ڈالر (53.3 بلین روپے) "ہزاروں غلط کھاتوں سے گزرے۔"

کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہتقریباً 600 کمپنیاں اور افراد "اس سکینڈل سے منسلک ہیں۔"

یہ سب خان کے لیے زیادہ حزیمت کا باعث ہے کیوں کہ ان کی انتظامیہ غیرملکی مالی معاونت میں کھربوں ڈالر لانے کے لیے کوششاں ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ ادائگیوں کے توازن کے بڑھتے ہوئے بحران کے دوران بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے ایک ممکنہ بیل آؤٹ کے لیے مزاکرات میں شریک ہونے جا رہی ہے۔

غیر قانونی ترسیل کا یہ قبیح نظام اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک مرتبہ پھر پاکستان کو دہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کی انسداد کے لیے ناکافی اقدامات کرنے پر—پیرس سے تعلق رکھنے والی ایک انسدادِ غیر قانونی ترسیلِ زر کے نگران ادارے—فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے رواں برس ایک واچ لسٹ میں داخل کر دیا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج