2017-10-04 | نوجوان

صوبہ سندھ میں اسکولوں میں منشیات کی وباء سے نمٹنے کے لیے اقدامات

از آمنہ ناصر جمال

ایک قدم جو حکام اٹھا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ سالانہ بنیادوں پر صوبے میں تمام طلباء و طالبات کے خون کی جانچ کروائی جائے۔


26 جنوری کو کراچی کے مضافات میں ایک پاکستانی کسٹمز اہلکار شراب کی بوتلوں کو ایک بل ڈوزر سے کچلتے ہوئے۔ حکام نے کسٹمز کے بین الاقوامی دن کے موقع پر سمگل شدہ منشیات اور شراب کو تلف کیا۔ [آصف حسن/اے ایف پی]
26 جنوری کو کراچی کے مضافات میں ایک پاکستانی کسٹمز اہلکار شراب کی بوتلوں کو ایک بل ڈوزر سے کچلتے ہوئے۔ حکام نے کسٹمز کے بین الاقوامی دن کے موقع پر سمگل شدہ منشیات اور شراب کو تلف کیا۔ [آصف حسن/اے ایف پی]
26 جنوری کو کراچی کے مضافات میں ایک پاکستانی کسٹمز اہلکار شراب کی بوتلوں کو ایک بل ڈوزر سے کچلتے ہوئے۔ حکام نے کسٹمز کے بین الاقوامی دن کے موقع پر سمگل شدہ منشیات اور شراب کو تلف کیا۔ [آصف حسن/اے ایف پی]

ایک قدم جو حکام اٹھا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ سالانہ بنیادوں پر صوبے میں تمام طلباء و طالبات کے خون کی جانچ کروائی جائے۔

کراچی -- سند کے صوبائی حکام پاکستان کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

اکتوبر 2016 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و منشیات کنٹرول کو ساؤتھ ایشین سٹریٹیجک سٹیبیلیٹی انسٹیٹیوٹ (ساسی) کی جانب سے پیش کردہ ایک چونکا دینے والی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کے نجی اسکولوں میں چوالیس سے 53 فیصد طلباء و طالبات منشیات استعمال کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک آزاد تھنک ٹینک، ساسی کی ڈائریکٹر جنرل، ماریہ سلطان کے مطابق، یہ نتائج دارالحکومت میں 44 اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات سے کیے جانے والے ایک سروے سے سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ نے کمیٹی کے ارکان کو خوفزدہ کر دیا ہے اور مزید تحقیقات کروانے کی تحریک دی ہے۔

کمیٹی نے تجویز کیا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی ٹیموں کو اسکولوں کے دورے کرنے چاہیئیں اور اسکولوں کو طلباء و طالبات کے لیے منشیات کی جانچ لازمی قرار دینی چاہیئے۔

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق، کمیٹی کے چیئرمین عبدالرحمان ملک نے رپورٹ کے نتائج سننے کے بعد کہا، "میں منشیات کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہوں اور مسلح افواج، سول سوسائٹی، سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ منشیات کی لت میں پڑنے والوں کی بہبود کے لیے اپنا موزوں کردار ادا کریں اور ہماری آنے والی نسلوں کو بچانے میں مدد کریں۔"

سندھ کی منشیات کے خلاف سخت کارروائی

اب سندھ کے صوبائی حکام طلباء و طالبات میں منشیات کے استعمال کے عفریت پر نظر رکھنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

19 جولائی کو، نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل، وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا، "وفاقی دارالحکومت میں طلباء و طالبات کی جانب سے منشیات کے استعمال کی رپورٹیں پڑھنے کے بعد، سندھ حکومت نے صوبے میں سرکاری اور نجی اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلباء و طالبات کی سال میں ایک بار خون کی جانچ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہمیں سندھ میں طلباء و طالبات کے بارے میں پریشانی لاحق ہے، خصوصاً ان کے متعلق جو ہاسٹلوں میں مقیم ہیں۔ طلباء و طالبات کی خون کی جانچ ان کے صحت کے مسائل کو جانچنے میں بھی مدد کرے گی۔"

مراد علی شاہ نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے طلباء و طالبات کی جانچ کے لیے ادائیگی حکومت کرے گی، جبکہ نجی تعلیمی اداروں کو سالانہ بنیادوں پر طلباء و طالبات کی منشیات کی جانچیں کروانے کی ہدایات دی جائیں گی۔

مزید برآں، انہوں نے کہا، "شہر میں منشیات کی رسد پہنچانے میں ملوث منظم گروہوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں اے این ایف کی مدد کی ضرورت ہے۔"

اے این ایف، والدین، اساتذہ کا تعاون

اے این ایف کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل مسرت نواز ملک نے کہا کہ والدین، اساتذہ اور اس عفریت کے خلاف کام کرنے والے حکومتی محکموں کے مابین ایک قریبی تعاون ہے۔

انہوں نے ستمبر میں پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مُلک کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند مستقبل کی خاطر ۔۔۔ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے۔"

ملک کے مطابق، ثانوی اسکولوں کے طلباء و طالبات منشیات خریدنے یا منشیات ملا ہوا شیشہ پینے کے لیے کیفے کا رخ کرتے ہیں، جبکہ یونیورسٹیوں میں، جہاں طلباء و طالبات عام طور پر زیادہ آمدنی والے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، کرسٹل میتھ، کوکین، حشیش اور ہیروئین جیسی منشیات موجود ہیں۔

انہوں نے تجویز کیا کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کیمپس پر منشیات سے متعلقہ سرگرمیوں کے خلاف کڑی کارروائی کرنے کے لیے سخت اقدامات کریں اور متعلقہ اسکول منتظمین کو منشیات کے استعمال کی اطلاع حکام کو دینے کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

انہوں نے کہا، "ہمیں منشیات کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے اور سول سوسائٹی، سیاستدانوں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ منشیات کی لت میں پڑے ہوئے لوگوں کی بہبود کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ہماری آنے والی نسلوں کو بچانے میں مدد کریں۔"

اے این ایف کے مطابق، پچھلے سال سے، حکام نے تعلیمی اداروں میں 9،885 کلوگرام ہیروئین، 1،440 کلوگرام حشیش اور 33 کلوگرام پوست قبضے میں لی ہے۔

مزید برآں، اے این ایف کے اہلکاروں نے اسی عرصے کے دوران پاکستانی تعلیمی اداروں میں 339 چھاپوں میں 412 ملزم منشیات فروشوں کو گرفتار کیا۔

منشیات کے استعمال کو روکنے کی بنیادی وجہ سے نمٹنا

لاہور میں سروسز ہسپتال میں ایک ماہرِ نفسیات، ڈاکٹر ناصر سعید خان نے ستمبر میں فون پر پاکستان فارورڈ کو بتایا تھا، "تھوڑے نمبر اور ناقص کارکردگی ملال پیدا کرتے ہیں، جو آخر کار لوگوں کو اپنی روز کی پریشانیوں اور دباؤ کو منشیات کے ساتھ کم کرنے کی طرف لے جاتا ہے، خصوصاً جب وہ با آسانی دستیاب ہوں۔"

انہوں نے کہا کہ دیگر بنیادی وجوہات میں ساتھیوں کا دباؤ اور تشکیلی برسوں کے دوران خود اعتمادی کی کمی شامل ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایک نوجوان محض تفریض کے لیے منشیات آزما سکتا ہے، عادی ہو جاتا ہے "اور آہستہ آہستہ اپنے پیشے اور زندگی کو تباہ کر لیتا ہے۔"

خان نے کہا، "کھیل اور مباحثوں جیسی صحت مند سرگرمیاں نوجوانوں کو منشیات کا عادی ہونے سے بچانے میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پروفیسر اور اساتذہ مؤثر مداخلت کے ذریعے ساتھیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ یقینی بنا سکتے ہیں کہ کمرۂ جماعت کا ماحول خطرے سے پاک ہے اور غیر متعصب ہے اور یہ کہ تعلیمی ماحول شفقت، مفاہمت اور مشغولیت کی عکاسی کرتا ہے۔"

خان نے کہا، "اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسکول پر یا علاقے میں کھیلوں، فنون، یا دیگر کسی بھی قسم کی غیر نصابی سرگرمی میں حصہ لینا نوجوانوں کو منشیات کا عادی بننے سے اجتناب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب وہ حصہ لیتے ہیں تو ان میں اجتماعیت کا ایک مضبوط تر احساس ہوتا ہے۔ یہ انہیں وابستگی کا وہ احساس دے کا جس کی انہیں ضرورت ہے، جس سے انہیں منشیات سے اجتناب کرنے میں مدد ملتی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

افغانستان میں افواج چھوڑنے کے نئے امریکی عہد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

نتائج