|

نوجوان

خیبرپختونخواہ کے نوجوانوں نے امن اور سیکورٹی کے فروغ کا کام اپنے ہاتھوں میں لے لیا

پشاور سے تعلق رکھنے والے نوجوان سرگرم کارکن شفیق گیگیانی نے کہا کہ "نوجوانوں میں سرمایہ کاری پاکستان کے روشن مستقبل کو یقینی بنائے گی"۔

دانش يوسفزۍ


نوجوان سرگرم کارکن، شفیق گیگیانی، 29 ستمبر کو پشاور میں آوئیر گرلز کی طرف سے، نوجوانوں، امن اور سیکورٹی پر منعقد کیے جانے والے، پالیسی مکالمے میں تقریر کر رہے ہیں۔ ]دانش یوسف زئی[

نوجوان سرگرم کارکن، شفیق گیگیانی، 29 ستمبر کو پشاور میں آوئیر گرلز کی طرف سے، نوجوانوں، امن اور سیکورٹی پر منعقد کیے جانے والے، پالیسی مکالمے میں تقریر کر رہے ہیں۔ ]دانش یوسف زئی[

پشاور -- دو سو سے زیادہ نوجوان، پالیسی ساز اور سول سوسائٹی کے ارکان گزشتہ ہفتے اکٹھے ہوئے تاکہ امن، سیکورٹی اور خیبرپختونخواہ (کے پی) اوروفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں نوجوانوں کو درپیش مسائل کے بارے میں بات چیت کی جا سکے۔

نوجوانوں اور خواتین کی زیرِ قیادت چلائی جانے والی تنظیم، آویئر گرلز جو خواتین کو خودمختار بنانے، صنفی برابری اور پاکستان میں امن کی تشہیر کے لیے کام کرتی ہے، نے 29 ستمبر کو پشاور میں ایک پالیسی مکالمے کو منعقد کیا تھا۔

کے پی اور فاٹا -- جو سالوں سے دہشت گردی اور عدم تحفظ کا شکار ہیں-- بہتری کی نشانیاں دیکھنا شروع ہوئے ہیں۔ یہ بات سرگرم نوجوان کارکن شفیق گیگیانی نے کہی جو کہ پشاور میں قائم کمیونیٹی تنظیم پوہا کے سربراہ بھی ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم نے دہشت گردی کو شکست دے دی ہے"۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کے کیے سماجی اور تعلیمی اصلاحات انتہائی ضروری ہیں۔ "امن قائم رکھنے کے لیے ہمیں اسکول کی سطح پر نصاب میں کچھ تبدیلیاں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ہماری نئی نسل کو تعلیم ملے گی"۔

انہوں نے کہا کہ "تربیتی ورکشاپوں، سیمیناروں اور آگاہی کے دوسرے پروگراموں کے ذریعے ہم اپنے نوجوانوں کو معلومات دے سکتے ہیں۔ نوجوانوں میں سرمایہ کاری پاکستان کے روشن مستقبل کو یقینی بنائے گی"۔

آوئیر گرلز کی صوبائی ڈائریکٹر، کرن فدا نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نوجوان پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ نوجوان امن کے سرگرم کارکنوں کے طور پر، امن کی تعمیر اور تنازعات کے حل میں تمام سطحوں پر ایک نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ آوئیر گرلز نے ایک بڑے انشیٹیئو -- اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرارداد 2250 کا نفاذ جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پالیسی کے ایسے اقدامات اٹھائے جائے جو نوجوانوں کی امن کے سرگرم کارکنوں کے طور پر اہلیت اور شرکت کو تسلیم کرتے ہیں، کے بارے میں قومی اور صوبائی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے لیے مکالمے منعقد کیے ہیں۔

مزید پروگراموں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے

فدا نے کہا کہ آویئر گرلز نوجوانوں کے لیے مزید آگاہی اور انٹرایکٹو پروگرام منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ "یہ پروگرام بات چیت کا موقع فراہم کرتے ہیں اور نوجوان براہ راست پالیسی سازوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انہیں نوجوانوں کے لیے زیادہ دوستانہ پالیسیاں بنانے میں مدد کر سکتے ہیں "۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی راہنما، شگفتہ ملک نے امن کے سفیروں کے طور پر نوجوانوں کی حمایت کا اظہار کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "سیکورٹی اور امن کے فروغ کے لیے، ہمیں اپنے نوجوانوں کو لازمی تعلیم دینی چاہیے اور انہیں صحت مندانہ سرگرمیوں میں مصروف کرنا چاہیے"۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے، پالیسی سازوں کو پاکستانی نوجوانوں سے مشورے کے بعد پالیسیاں بنانی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ایسا کرنے سے، پالیسی ساز نوجوانوں کی طرف سے ملنے والی قابلِ قدر رائے سے پیداواری قوانین اور پالیسیاں بنا سکیں گے"۔

اس مکالمے میں شرکت کرنے والے 26 سالہ داود آفریدی نے کہا کہ انفرادی اور مجموعی امن کے لیے، معاشرے سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کرنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثقافتی شوز، کھیلوں، کھیلوں کی تقریبات، آگاہی کی مہمات اور دوسرے صحت مندانہ پروگراموں سے، پاکستان امن کو فروغ دے سکتا ہے۔

آفریدی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "امن کا مطلب محبت، امید اور اچھے تعلقات ہیں۔ محبت اور امید کے ذریعے ہم اپنے علاقے سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں"۔

پشاور کی یونیورسٹی آف انجینئرنگ و ٹیکنالوجی کی ایک طالبہ کشمالہ خان، جنہوں نے اس مکالمے میں شرکت کی تھی، کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ پشتون معاشرے میں کھلونا بندوقوں سے بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی تشدد سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں اس رواج کو روکنا چاہیے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج