2017-08-18 | حقوقِ نسواں

بنیاد پرستی کے خلاف کوششوں میں پاکستان اور افغانستان کی خواتین کی شمولیت

عدیل سید

امن کا ایک ایکسچینج پروگرام دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کو خیالات کا تبادلہ کرنے کے لیے اکٹھا کرتا ہے کہ "انتہاپسندی کی آگ کو کیسے بجھایا جا سکتا ہے"۔


ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی پاکستانی خواتین 24 جولائی 2016 کو کوئٹہ میں خراجِ تحسین کی ایک تقریب کے دوران، جو افغانستان میں شیعہ ہزارہ مظاہرین کے ہجوم میں ہونے والے جڑواں دھماکوں کے ایک دن بعد منعقد ہوئی، موم بتیاں جلا رہی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے  والی خواتین ایک مشترکہ دشمن: دہشت گردی اور بنیاد پرستی، سے جنگ کرنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ ]بنارس خان/ اے ایف پی[
ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی پاکستانی خواتین 24 جولائی 2016 کو کوئٹہ میں خراجِ تحسین کی ایک تقریب کے دوران، جو افغانستان میں شیعہ ہزارہ مظاہرین کے ہجوم میں ہونے والے جڑواں دھماکوں کے ایک دن بعد منعقد ہوئی، موم بتیاں جلا رہی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والی خواتین ایک مشترکہ دشمن: دہشت گردی اور بنیاد پرستی، سے جنگ کرنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ ]بنارس خان/ اے ایف پی[
ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی پاکستانی خواتین 24 جولائی 2016 کو کوئٹہ میں خراجِ تحسین کی ایک تقریب کے دوران، جو افغانستان میں شیعہ ہزارہ مظاہرین کے ہجوم میں ہونے والے جڑواں دھماکوں کے ایک دن بعد منعقد ہوئی، موم بتیاں جلا رہی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والی خواتین ایک مشترکہ دشمن: دہشت گردی اور بنیاد پرستی، سے جنگ کرنے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔ ]بنارس خان/ اے ایف پی[

امن کا ایک ایکسچینج پروگرام دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین کو خیالات کا تبادلہ کرنے کے لیے اکٹھا کرتا ہے کہ "انتہاپسندی کی آگ کو کیسے بجھایا جا سکتا ہے"۔

پشاور -- افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے اپنے ممالک میں بنیاد پرستی کے خلاف اور امن کی تعمیر کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کو شروع کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے امن کے سرگرم کارکنوں کو رفیق بنانے والا پلیٹ فارم "پیس ایکسچینج: پاک- افغان ویمنز برج فار پیس" ہے جس کا تصور کابل سے تعلق رکھنے والے ایکویلیٹی فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ (ای پی ڈی) اور پشاور سے تعلق رکھنے والے ایوئیر گرلز نے تخلیق کیا ہے۔

پہلی تقریب 21 سے 24 مئی تک کابل میں منعقد ہوئی جس میں افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے تقریبا 70 امن کے سرگرم کارکنوں اور سول سوسائٹی کے ارکان، صوبائی کونسلوں کے اراکین اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔

دوسرا ایکسچینج اسلام آباد میں 17 سے 21 جولائی تک منعقد ہوا۔

پاکستان میں خواتین کی خودمختاری، صنفی برابری اور امن کے لیے کام کرنے والی این جی او اویئر گرلز کی بانی گلالی اسماعیل نے کہا کہ "پاک-افغان پیس ایکسچینج پروگرام کو شروع کرنے کے پیچھے یہ خیال تھا کہ دہشت گردی سے متاثرہ دونوں ممالک کی خواتین کو ایسا فورم مہیا کیا جائے جہاں وہ بنیاد پرستی کی اپنی زندگیوں پر ہونے والے اثرات اور اس لعنت کو ختم کرنے کے طریقوں کے بارے میں خیالات کا تبادلہ کر سکیں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی خواتین کو "بنیاد پرستی کی آگ کو بجھانے اور آنے والی نسل کو اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے" کے لیے اجتماعی طریقوں کو ڈھونڈنے کا موقع ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اس بات چیت سے شرکاء کو بنیاد پرستی کے خواتین پر ہونے والے اثرات کے بارے میں خیالات پیش کرنے اور اثرات کے بارے میں تشویش کو اٹھانے اور امن کے عمل کو زیادہ مشمول بنانے کے طریقہ ہائے کار کے بارے میں مباحثہ کرنے کا موقع ملا ہے"۔

دہشت گردی کو مقابلہ کرنے کے لیے خواتین کو بااختیار بنانا

اسلام آباد میں پیس ایکسچینج میں شرکت کرنے والے افغان وفد کی سربراہ شیلا قیومی نے کہا کہ "یہ ایک اچھی پیش رفت ہے جس کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا ہے تاکہ انہیں بنیاد پرستی اور متشدد انتہاپسندی سے جن مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے اجاگر کیا جا سکے"۔

انہوں نے بذریعہ فون کابل سے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ایکسچینج، افغانستان اور پاکستان میں خواتین کو امن کے عمل میں شامل کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔

شیلا نے کہا کہ پاکستانی خواتین کے ساتھ بات چیت سے افغان خواتین کے اعتماد میں انتہاپسندی کے خلاف اپنی آوازیں اٹھانے کے لیے اعتماد میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ "جسمانی معذوریوں، بے گھری اور املاک کی تباہی کی شکل میں دہشت گردی کے اثرات مردوں اور عورتوں پر مختلف طرح سے ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بنیاد پرستی کے خاتمے، تنازعات کے حل اور امن کی تعمیر کے بارے میں خواتین کا طریقہ کار فرق ہوتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والی تقریبا 20 خواتین نے جولائی میں اسلام آباد میں ایکسچینج میں شرکت کی جہاں انہوں نے دہشت گردی اور تشدد کے باعث جھیلے جانے والے سانحات کے بارے میں کہانیاں بیان کیں"۔

اسی طرح، پاکستانی سرگرم کارکنوں کے مئی میں کابل کے دورے کے دوران، خواتین نے جنگ سے متاثر ہونے والی خواتین کو رہائش فراہم کرنے والی ایک پناہ گاہ کا دورہ کیا۔

شیلا نے کہا کہ "ایسے ایکسچینجز سے، خواتین کے مصائب سامنے آئیں گے اور عوام کو پاکستان اور افغانستان کی خواتین کو اپنے مشترکہ دشمن کے باعث درپیش مصائب سے آگاہی حاصل ہو گی جو کہ بنیاد پرستی ہے"۔

پاکستان اور افغانستان میں فاصلوں کو کم کرنا

پاکستان کے وفد میں شرکت کرنے والی استاد، شاعرہ، لکھاری اور امن کی سرگرم کارکن عذرا نفیس یوسف زئی نے کہا کہ پیس ایکسچینج "دونوں ممالک میں امن کے قیام کے عمل کے لیے بہت زبردست قدم ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "جنگ کا صدمہ عورتوں اور بچوں نے محسوس کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "خواتین نرم تبادلوں جیسے کہ فن، ثقافت، موسیقی، تعلیم اور تجارت میں شامل ہو کر، ٹوٹے ہوئے رشتوں کو جوڑ سکتی ہیں اور اعتماد میں موجود خلا کو پُر کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں"۔

عذرا نے کہا کہ افغان وفد کے ارکان نے پاکستان کے عوام کا عمومی طور پر اور خیبر پختونخواہ کے عوام کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جب انہوں نے جنگ سے بے گھر ہو جانے کے وقت میں ان کی میزبانی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے پاکستان اور افغانستان میں زیادہ بہتر سفارتی تعلقات کا مطالبہ کیا اور دونوں ممالک پر دہشت گردی کا مقابلہ اولین ترجیح کے طور پر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

عذرا نے کہا کہ "انہوں نے دونوں ممالک کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور امن لانے اور ہماری نوجوان نسل کو بنیاد پرستی کے اثرات سے محفوظ کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج