|

سلامتی

پاکستان اور افغانستان کو سرحدی سیکیورٹی میں اضافہ کرنا ہو گا: رپورٹ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مضبوط سرحدی سیکیورٹی غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے اور عسکریت پسندی کا خاتمہ اور دو طرفہ تعلقات میں بہتری لائے گی۔

جاوید محمود


ستمبر میں افغان پناہ گزین خاندان تورخم سرحدی گزرگاہ سے وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ [شہباز بٹ]

ستمبر میں افغان پناہ گزین خاندان تورخم سرحدی گزرگاہ سے وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ [شہباز بٹ]

اسلام آباد — انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) نے ایک حالیہ رپورٹ میں کہا کہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کیے جانے اور عسکریت پسندی کے خاتمہ کے لیے اور دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اضافی سرحدی ناکے قائم کرنا پاکستان اور افغانستان، دونوں کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

آئی ایس ایس آئی نے ”پاک-افغان سرحدی انتظام میں مسائل“ کے عنوان سے 26 ستمبر کی ایک رپورٹ میں کہا کہ تورخم اور چمن کی دو تسلیم شدہ چوکیوں کے علاوہ دونوں ممالک کو 700 دیگر چوکیوں کو قانونی داخلی و خارجی مقامات بنانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

مستحکم سرحد، بہتر تعلقات

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ اضافی سرحدی گزرگاہیں بہتر سرحدی انتظام اور دونوں ہمسایوں کے مابین تناؤ میں کمی لانے میں ایک اہم اقدام ثابت ہوں گی۔

افغانستان اور پاکستان کے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) پر آئی ایس ایس آئی کی ریسرچ فیلو اور رپورٹ کی مصنّفہ آمنہ خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”پاکستان ڈیورنڈ لائن پر 535 سرحدی چوکیوں کا انتظام پاکستان کے پاس ہے جبکہ 145 چوکیاں افغانستان کے زیرِ انتظام ہیں۔“

انہوں نے جون 2014 میں فوج کی جانب سے شمالی وزیرستان میں شروع کی گئی انسدادِ شورش کی ایک جارحانہ کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے ضربِ عضب کے نتیجہ میں حاصل کی گئی کامیابی کو تقویت دینے کے لیے سرحدی انتظام مزید اہمیت کا حامل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تورخم گزرگاہ پر تعمیر کیے گئے بڑے پھاٹک، کراسنگ ٹرمینل اور ملحقہ بنیادی ڈھانچے کے علاوہ، پاکستان نے پاک-افغان سرحد کے ساتھ سات دیگر داخلی مقامات پر ایسے ہی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔

ان میں خیبر پختونخوا (کے پی) کے ضلع چترال میں ارانڈو، شمالی وزیرستان میں غلام خان، جنوبی وزیرستان میں انگوراڈا، مہمند میں درّۂ نیوا، باجوڑ میں گرسال، فاٹا میں کرم میں خارلاچی، اور بلوچستان میں چمن شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ انسانوں اور سامان کی قانونی نقل و حمل کی تسہیل کرے گا اور عسکریت پسندوں، منشیات اور اسلحہ سمگلنگ کی انسداد کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ بہتر سرحدی انتظام سے شورشی گروہ ایسے کراسنگ پوائنٹس کا فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے جہاں نگرانی نہیں ہوتی۔

آمنہ خان نے کہا، ”یہ دونوں ممالک، بطورِ خاص پاکستان کے لیے غیر قانونی طور پر سرحد پار کیے جانے اور سرحد پار سے عسکریت پسندی کے خاتمہ کے لیے سرحد کے انتظام کو سخت کرنے کا وقت ہے۔ ایسا کرنے سے سیکیورٹی میں اضافہ ہو گا اور دہشتگردی پر دونوں ممالک کے مابین اختلافات کا خاتمہ ہو گا۔“

عسکریت پسندوں کے بہاؤ اور سمگلنگ کا خاتمہ

مشاہدین کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کی قانونی اور دستاویزی سرحدیں ہیں اور پاکستان اور افغانستان بھی اس بین الاقوامی معیار پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے فاٹا کے لیے سابق سیکڑیٹری سیکیورٹی برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے کہا، ”پاکستان اور افغانستان کی تقریباً 2,640 کلومیٹر مشترکہ سرحد ہے۔ دونوں ممالک کو دہشتگردی، غیر قانونی طور پر سرحد پار کیے جانے، سمگلنگ اور منشیات و اسلحہ کی آمدورفت سے نجات حاصل کرنے کے لیے سرحدی انتظام کو بہتر بنانا ہو گا۔“

انہوں نے کہا کہ سرحدی انتظام کو سخت کیے بغیر، پاکستان اور افغانستان دہشتگردی اور غیر قانونی طور پر سرحد پار کیے جانے کو ختم نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”پاکستان نے سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لیے چند سنجیدہ اقدامات کیے ہیں جنہیں افغانستان اور عسکریت پسندی اور سرحد پار سے دہشتگردی کے خلاف لڑنے والے تمام دیگر فریقین کی جانب سے حمایت حاصل ہونی چاہیئے۔“

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے حالیہ برسوں میں عسکریت پسندی کو کچلنے کے لیے بڑے اقدامات کیے ہیں اور دونوں ممالک کو ایسی حکمت ہائے عملی کی حمایت کرنی چاہیئے جن سے یہ فوائد حاصل ہو سکیں۔

انہوں نے مزید کہا، ”پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ عہدیاران کو عسکریت پسندی کو شکست دینے، اپنے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے اور سیکیورٹی میں اضافہ کرنے کی غرض سے سیکیورٹی، تعاون اور سرحدی انتظام کو بہتر بنانے کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے چاہیئں“۔

اسلام آباد میں مرکز برائے تحقیق و علومِ سلامتی کے چیئرمین امتیاز گل نے کہا، ”آج ہم قبائلی علاقہ جات میں اپنی سرحدوں کے ساتھ جس بھی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں وہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے متعلق اپنائی گئی نرم پالیسی کی وجہ سے ہے۔“

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ہر روز 60,000 تا 70,000 افغان ویزا کے بغیر سرحد پار کرتے ہیں۔ یہ صورتِ حال غیر معیّنہ مدّت کے لیے نہیں رہ سکتی خاص طور سے جب پاکستان کو شدید سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ ہر جگہ سرحدی گزرگاہ کی دستاویز کاری سرحدی سیکیورٹی کا جزو ہوتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی ضوابط ان پاکستانیوں اور افغانوں کے جذبات کے پسِ پشت نہیں ڈالے جا سکتے جن کے رشتہ دار سرحد کے دوسری طرف ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج