دہشتگردی

اختتامِ ہفتہ پر کوئٹہ میں بم حملہ دہشتگرد گروہ کی جانب سے ملک کے جشنِ آزادی کی خوشیوں کو سبوتاژ کرنے کی ناکام کوشش تھی۔

پھلوں سے بھرے ٹرک میں بم نے شہر کو ہلا دیا، دو افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی۔

پولیس نے اعلان کیا کہ خیبر پختونخواہ میں خدمات سر انجام دیتے ہوئے شہید ہونے والوں کے لیے امدادی پیکیج تقریبا دو گنا ہو گیا ہے۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیادوں پر علاقہ اور لڑنے والوں کو کھو دینے والا عسکریت پسند گروہ اپنی گھٹتی ہوئی طاقت سے ہاتھ پاؤن مارنے کی مایوسی بھری کوشش میں بچوں کا استعمال کر رہا ہے۔

دو درجن سے زیادہ افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب طالبان کے خودکش بمبار نے شہریوں سے بھری سبزی منڈی میں خود کو اڑا دیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد ان کے اتحاد کو نہیں توڑ سکتے اور نہ ہی انہیں فرقہ ورانہ بنیادوں پر تقسیم کر سکتے ہیں۔

تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مابین عسکریت پسندی کے پھیلاؤ کی انسداد کے لیے سندھ محکمۂ انسدادِ دہشتگردی جامعہ ناظمین کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

کسی بھی گروہ نے ڈی پی او ساجد خان مہمند جو کہ طویل عرصے سے پولیس کے اہلکار اور چھے بچوں کے والد تھے، کے قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

داعش نے پاکستان کی سرحد کے قریب اپنی خراسان شاخ کا ہیڈکوارٹر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن گزشتہ ماہ ہونے والی کارروائیون نے اس ارادوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔

مشاہدین کا کہنا ہے کہ کسی وقت طالبان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے شہری ان کی جانب سے عوام کو خوفناک طریقوں سے قتل کئے جانے کے بعد متنفّر ہو گئے ہیں۔