تعلیم

نوے ژوند کی جانب سے مارچ میں کیے گئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ضلع سوات میں 4،000 کے قریب لوگ ہیں جو منشیات، بشمول ہیروئین اور میتھمفیٹامائن کے عادی ہیں۔

ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ 'اگر ہم ایک معقول اور مہذب معاشرہ تخلیق کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا آغاز یونیورسٹیوں کی طرف سے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے سے شروع کرنا چاہیے'۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ جسمانی سزا اور جسمانی بدسلوکی، جو کہ پاکستانی اسکولوں میں وسیع طور پر قبول کردہ روایت ہے، نے طلبا کی اسکول جانے میں حوصلہ شکنی کی ہے۔

کے پی کی نئی حکومت کو توقع ہے کہ وہ اندازاً 250،000 اسکول نہ جانے والے بچوں کو اس سال سرکاری اسکولوں میں داخل کرے گی۔

یہ مسودہِ قانون اگر قانون بن گیا تو اس کے تحت کے پی کے اسکولوں میں جسمانی سزا پر جرمانے اور قید کی سزا دی جا سکے گی۔

حکام کے مطابق پاکستان میں افغان طلباء کے لیے تعلیمی مواقع دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تعلقات کی علامت ہیں۔

اساتذہ نئے موضوعات کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں جن کا مقصد نوجوان نسل کو سماجی طور پر ذمہ دارانہ طور پر عمل کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مدرسوں کو مرکزی دھارے میں لے آئے گا، جس سے دہشتگردی سے روابط کا انسداد ہو گا اور حکومت نئی تنصیبات کے لیے مالیات فراہم کر سکے گی۔

صوبہ میں مختلف باغیانہ سرگرمیوں کے باعث 15,000 سے زیادہ اسکول بند ہو چکے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں میں انتہاپسندی ایک پیچیدہ خطرہ ہے۔

1 | 2 | 3 | next